توہین رسالت: مغرب اور مسلم حکمران (پہلا حصہ)

311

مغرب میں توہین رسالت کے موجودہ سلسلے کا آغاز 16اکتوبر 2020 کو ہوا جب فرانس کے شہر پیرس میں ایک ہائی اسکول کے استاد سیمویل پیٹی کو بچوں کو توہین آمیز خاکے دکھانے پر 18سالہ چیچن عبداللہ انظروف نے قتل کردیا۔ پولیس نے عبداللہ کو مقابلے کے دوران شہید کردیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب بدنام زمانہ فرانسیسی میگزین چارلی ایبڈو پر جنوری 2015 میں حملہ کرنے والے 14مبینہ حملہ آوروں پر ستمبر 2020 میں مقدمہ شروع ہوا اور میگزین نے ایک مرتبہ بھر رسول اللہؐ کے توہین آمیز خاکے شائع کیے۔ استاد کے قتل کو فرانس کے صدر امانوئل ماکرون نے ’’اسلامی دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیا اور اسلام کو ایک ایسا مذہب کہا ’’جو دنیا بھر میں بحران کا شکار ہے‘‘۔ ماکرون نے مزید کہا ’’آج ہمارا ایک ساتھی اس لیے قتل کردیا گیا کیونکہ وہ آزادی رائے پر یقین کرنے یا نہ کرنے کی آزادی کا سبق دے رہا تھا۔ وہ اس وجہ سے مارا گیاکہ اس نے جمہوریہ کو مقدس کہا تھا۔ وہ اس لیے ماراگیا کہ اسلام پسند ہمارا مستقبل چرانا چاہتے ہیں‘‘۔ فرانس کے وزیراعظم ’’جین کاسٹکس‘‘ نے کہا ’’دشمن یہاں پر ہے۔ بنیاد پرست اسلام ہمارے معاشرے میں داخل ہوگیا ہے جو برداشت اور رواداری کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے‘‘۔ فرانس کے وزیرداخلہ نے کہا ’’ہم ایک ایسے دشمن کے خلاف جنگ کی حالت میں ہیں جو اندر اور باہر دونوں جگہ پر موجود ہے‘‘۔ فرانس کے صدر نے اس بدبخت استاد کو فرانس کا سب سے بڑا سویلین تمغہ ’’ان لائن آف آنر‘‘ دیا۔ اس کے بعد فرانس کے دو شہروں مونٹ پیلیئر اور ٹولوس کی سرکاری عمارتوں پر کئی گھنٹے خاکے دکھائے گئے اور بدبخت استاد کی تدفین سرکاری طور پر منعقد کی گئی۔
فرانس کی حکومت نے اس طرزعمل کا مظاہرہ کیوں کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرانس ایک نظریاتی ملک ہے جس کا نظریہ سرمایہ داریت اور عقیدہ سیکولر ازم ہے۔ سیکولرازم دین کی دنیا سے جدائی کا عقیدہ ہے۔ سیکولرازم جن آزادیوں کی حفاظت پر زور دیتا ہے ان میں آزادی عقیدہ، آزادی ملکیت اور شخصی آزادی کے ساتھ آزادی رائے بھی شامل ہے۔ آزادی رائے میں مذہب کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے آزادی بھی شامل ہے۔ اس نظریہ کا آغاز وہاں سے ہوا جب یورپ اور روس کے بادشاہ اور فرمانروا عوام کا استیصال کرنے اور ان کا خون چوسنے کے لیے مذہبی طبقے کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے جس کے نتیجے میں ایک خوفناک کشمکش اور تصادم برپا ہوا اور سرے سے دین ہی کا انکار کردیا گیا۔ کچھ لوگ اگرچہ دین کا اعتراف کرتے ہیں لیکن وہ دین کو دنیاوی امور سے الگ کرنے کے قائل ہیں۔ ایک فرانسیسی تاریخ دان جین بوبروٹ نے کہا تھا ’’اس تصور کا مقصد ریاست کو فوقیت دینا تھا‘‘۔ اس کے مطابق ’’جدید فرانس یہ سمجھتا ہے کہ اس نے خود کو مذہب کے مقابل قائم کیا ہے‘‘۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سیکولر مغربی تہذیب اور اس کی آزادی رائے کی روح مذہب مخالف ہے۔ یہی مغربی تہذیب کی بنیاد ہے۔ اسی کی مغرب ترویج کرتا ہے۔
یہ وہ نظریہ اور فکر ہے جس کی بنا پر ماکرون نے یہ اعلان کیا کہ ’’ہم (فرانس) کارٹونز سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘۔ ماکرون تنہا نہیں ہے جب سے کارٹونزکی اشاعت ہوئی ہے تین فرانسیسی صدور توہین رسالت کے حق میں اپنی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔ فرانسیسی عدالتوں نے چارلی ایبڈو کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ جب کچھ مسلمانوں نے چارلی ایبڈو کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالتوں کا رخ کیا تو فرانس کی عدالتوں نے توہین رسالت کے اس حق کا دفاع کیا۔ اس سے پہلے 2015 میں یورپ اور مغربی دنیانے چارلی ایبڈو سے اس نعرے کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا ’’میں چارلی ایبڈو ہوں‘‘ یہ نعرہ مسلمانوں کی حرومات کو کھلا چیلنج کرنے اور ان پر حملے کے مترادف تھا۔ فرانس اور مغرب کا یہ ردعمل ان کی سیکولرازم اور اس سے نکلنے والی آزادی رائے کے عین مطابق ہے جو ان کے لیے انتہائی مقدس ہے جس پر وہ مصالحت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اب آئیے اسلام کی آئیڈیا لوجی کی طرف۔ اسلام کے نظریہ حیات میں رسول، انبیاء اور خاتم النبیینؐ کی تقدیس اور حرمت کی کس قدر اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہؐ کی موجودگی میں مسلمانوں کو اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ اپنی آواز نبی کریمؐ کی آواز سے بلند کرسکیں۔
’’اے اہل ایمان! اپنی آواز پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (الحجرات 49:2)‘‘
رسالت مآبؐ قرار دیتے ہیں ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی مجھ سے محبت اپنی دولت، اپنے اہل وعیال اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہوجائے (النسائی)‘‘ صحابہ کرامؓ کے فکرو عمل میں آپؐ کس شان محبوبیت پر فائز تھے، کسی بھی حوالے سے اس کا تصور کرنا، اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ حدیث بیان کرتے ہوئے عبداللہ بن مسعود ؓ کی زبان پر جب کبھی عالی مرتبتؐ کا نام آجاتا تو کانپنے لگتے، تھر تھری اور جسم میں کپکپاہٹ پیدا ہوجاتی، گردن کی رگیں پھول جاتیں، آنکھیں آنسو بن جاتیں (مستدرک حاکم) ابو ذرؓ کبھی کوئی حدیث بیان کرنا چاہتے تو زبان سے بس اتنا ہی ادا ہوتا ’’اوصانی حبی ابوالقاسم اوصانی خلیلیؐ‘‘ اور چیخ مارکر بیہوش ہوجاتے۔ زید ؓ کی گردن مارنے کا وقت آیا تو ابوسفیان آگے بڑھا اور ان سے مخاطب ہوکر کہا ’’آج تمہاری جگہ اگر (نعوذباللہ) محمدؐ کو قتل کیا جاتا تو تمہیں خوشی نہ ہوتی‘‘۔ سیدنا زیدؓ نے فرمایا: ’’ابوسفیان! تو نعوذ باللہ ان کی جان کی بات کرتا ہے مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میری جان کے بدلے ان کے پائوں مبارک کو کسی کانٹے کا منہ بھی چھوجائے‘‘۔
ایک یہودی سردار کعب بن اشرف جس کا اپنا قلعہ تھا آپؐ کو اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور آپؐ کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیا کرتا تھا۔ جنگ بدر کے بعد رسول اللہؐ نے فرمایا ’’کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دی ہے‘‘۔ پانچ صحابہ کرام ؓ نے اپنی خدمات پیش کیں جن کی قیادت محمد بن سلمہؓ کر رہے تھے۔ ان صحابہ ؓ نے قلعہ میں گھس کر کعب کو قتل کردیا۔ فتح مکہ کے موقع پر ابن خطل کعبے کے پردے سے چمٹا ہوا تھا۔ ایک صحابی نے رسول اللہؐ کو اطلاع دی۔ آپؐ نے فرمایا ’’اسے قتل کردو‘‘ اسے قتل کردیا گیا۔ یہ وہ بدبخت تھا جو اپنی دو لونڈیوں کے ذریعے آپؐ کے خلاف گانے گواتا تھا۔ گستاخان رسول اور ناموس رسالت پر کیچڑ اچھالنے والوں کو قرآن کریم، سنت رسول، اجماع صحابہ ؓ اجماع امت اور قیاس صحیح کی رو سے کافر قرار دیا گیا ہے اور نبیؐ کو اذیت پہنچانے، مذاق اڑانے اور استہزا کرنے کی سزا قتل قراردی گئی ہے۔ بعد کے ادوار میں ہم دیکھتے ہیں کہ سندھ میں اور روم کے علاقے ایموریہ میں مسلمان عورتوں کی عزت وآبرو پر ہاتھ ڈالا گیا تو خلفا نے لشکر بھیج کر ظالموں کو نہ صرف ظلم کی سزادی بلکہ ان کی سلطنت کا خاتمہ کردیا۔ جب ان خلفا نے مسلمان عورتوں کی عزت وناموس پر حملہ کرنے والوں کو ایسی کڑی سزادی تو خیال کیجیے کہ رسول اللہؐ کی عزت وناموس پر حملہ کرنے والوں کو کیسی سزادی ہوگی؟ آئیے اب دیکھتے ہیں موجودہ دور میں مسلمان حکمرانوں نے رسول اللہؐ کی عزت پر حملوں کا کیا جواب دیا۔
(جاری ہے)