قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

145

پس جب اِن کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے یہ ہے تمہارے کرنے کا کام اللہ چاہتا تو خود ہی اْن سے نمٹ لیتا، مگر (یہ طریقہ اْس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ (سورۃ محمد:4)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا: اہل ایمان میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو اور تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔ (ترمذی)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ کر دی جائے‘‘۔ (ترمذی)