اشتہارات میں خواتین کا استعمال معاشرے کے لیے میٹھا زہر ہے

149

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) اشتہارات کے ذریعے غیر محسوس طریقے سے اقدار، روایت، ماحول، تہذیب، احترام اور معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنے کا کام کیا جارہا ہے، اشتہارات کے میٹھے زہر سے پاکستان میں نئی اقدار بنائی جا رہی ہیں، اشتہارات میں عورتوں کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے کے پیچھے عالمی سازش کارفرما ہے، اشتہارات ایک طرح کی سلو پائزنگ ہے۔ آہستہ آہستہ ہمیں بے حس کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے آرٹیکل 227کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانین اور انتظامی امور و قرآن وسنت کے مطابق ہونے چاہییںلہٰذا تمام ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے ایسے اشتہارات پرپابندی عاید کی جائے جو خواتین کی ہتک حرمت کا باعث ہوں اور فحاشی وعریانی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے معروف کالم نگار، سینئرصحافی، تجزیہ کار،شاعر، دانشور، ڈراما نگار اور کئی کتابوں کے مصنف اوریا مقبول جان، وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق سربراہ، ہمدرد فائونڈیشن کے پروگرامز اینڈپبلیکیشنز کے ڈائریکٹر اور ہمددرنونہال کے سابق ایڈیٹر پروفیسر سلیم مغل، جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کی ناظمہ اسماء سفیر، معروف ٹی وی اینکر نصراللہ ملک، پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن (پی اے اے) کے حماد طارق نے اس سوال کہ’’ہمارے ٹیلی ویژن چینلز پر ان مصنوعات میں بھی خواتین کا استعمال ہو رہا ہے جن کا خواتین سے کوئی تعلق نہیں ہے آخر اس کے اسباب کیا ہیںـ؟‘‘ کے جواب کے طور پرجسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ بیسویں صدی کے آغاز میں جب سودی بینکاری کے سرمائے سے کارپوریٹ سرمایہ داری نظام مضبوط ہوا تو عورت کی آزادی اور مساوی انسانی حقوق کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ یہ آوازیں کسی شعوری ترقی یا علمی انقلاب کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ ایک کاروباری ضرورت کے تحت بلند ہوئیں، کیونکہ اب کثیر تعداد میں سستے کارپوریٹ مزدوروں کی ضرورت تھی ۔ انہوں نے اپنے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اشتہارات میں خواتین کے استعمال کے حوالے سے متعدد بار بڑی تفصیل کے ساتھ کالم لکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 اگست 1920ء کو امریکی آئین میں انیسویں ترمیم پاس ہوئی اور عورتوں کو ووٹ دینے کا حق مل گیا اور اسی دوران باقی مغربی ممالک میں بھی ایسے ہی قوانین منظور ہوگئے۔ لیکن اس تحریک کا خاموش آغاز ایک دہائی قبل عورت کو اشتہار کی زینت بنا کر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے سیگریٹ کی تشہیر کے لیے ایک خاتون کو استعمال کیا گیااورنہ صرف عورت کو اشتہار میں استعمال کیا گیا بلکہ اس اشتہار سے کئی مقاصد بھی حاصل کیے گئے۔ عورت مرکز نگاہ بلکہ تماشا گاہ بن گئی، مال زیادہ بکنے لگا اور خواتین کے استحصال کا پیغام بھی لوگوں تک پہنچا دیا گیا۔ یہ سب اس مغربی معاشرے کا رول ماڈل ہیں جو میڈیا نے بڑی محنت سے تخلیق کیے ہیں۔یہی رول ماڈل اب پاکستان میں بھی تخلیق کیے جا رہے ہیں۔ویسے ہی اشتہارات کے میٹھے زہر سے پاکستان میں نئی اقدار بنائی جا رہی ہیں۔ باپ کو ناراض کر کے لڑکی کرکٹ کھیلنے چلی جاتی ہے اور پھر اسے کامیاب ہیرو بنتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔بالوں کی مضبوطی سے اسے مرد کے مقابلے میں کھڑے ہونے اور مقابلہ کرنے کا درس دیا جاتا ہے، جو عورت گھر میں ایک قیمتی سرمائے یعنی آنے والی نسل کو تربیت دیتی ہے اور مرد کما کر لاتا ہے اور وہ سرمائے سے عورت کے اس عظیم کام میں ممدو معاون ہوتا ہے،اس عورت کو خاوند کے ساتھ کپڑے دھوتے ہوئے،ایک ساتھ کمائی کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیشن انڈسٹری کے اشتہارات جس طرح باتھ روموں میں غسل سے لے کر بالوں سے پاک نرم و ملائم جسم کی نمائش تک جا پہنچے ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب ہمیں یہ سب کچھ برا بھی نہیں لگتا، اب ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔ہمارے مردوں کی خوابوں میں اب ’’باربی گڑیا‘‘ بس چکی ہیں اور ہماری بچیاں ویسی گڑیا بننے کی کوشش میں تھک تھک کر ہلکان ہو رہی ہیں۔ بیوٹی پارلرز سے لیزرتھراپی،جم،کاسمیٹک سرجری اور جسم اور چہرے کی موزونیت کے لیے لاتعداد آپریشن ہماری عورت بھی مردوں کے خوابوں میں یہی ’’باربی گڑیا‘‘ جیسی بننے کی دوڑ میں گم ہو چکی ہے، ایسی گڑیا جس کااس دنیا میں وجود ہی نہیں، جو ایک ناممکن خواب ہے۔انہوں نے کہا کہ اشتہارات میں عورت کو جس طرح استعمال کیا جاتاہے اور اس کی جسمانیت و نسوانیت سے کھیلا جاتاہے ،اس نے پورے معاشرے میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔ اشتہارات میں عورتوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والوں کے نزدیک وہ صرف ایک جسم ہوتی ہے، جسے ہر لمحے اور ہر وقت ایسی نظروں سے دیکھا جائے جو اس کی مخصوص حوالوں سے پیمائش کرتی ہوں۔ عورتوں کو ان اشتہارات میں اس طرح پیش کرنے کا مقصد مردوں کے دل و دماغ کوپر لطف انداز اور تلذز کے نشاط انگیز لمحے میں لے جانا ہوتا ہے اور جب وہ ایسی نفسیاتی حالت میں چلے جاتے ہیں تو پھر ان کا دماغ یہ قبول کر لیتا ہے کہ ایک میسر عورت کا’’استعمال ‘‘ کرنا جائز ہے، خواہ وہ اسے چٹکی بھرنا، تھپتھپانا یا ہنسی مذاق میں ان کے جسم چھونا ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح کی آدمی کی ذہنی حالت ہو گی وہ ویسا ہی استعمال کرے گا۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کی ناظمہ اسماء سفیر نے کہا کہ جو عزت اسلام نے عورت کو دی ہے وہ کسی دوسرے دین نے نہیں دی۔ عورت کو گھر کی محفوظ پناہ گاہ سے نکال کر پراڈکٹ بیچنے کے لیے اسکرین کی زینت بنا دیا گیا ہے۔ جو چیز پہلے بیک گراؤنڈ میوزک اور تشبیہات سے بک جاتی تھی اب اسے عورت کی ذومعنی حرکات اور بے سروپا جملوں کے ذریعے بیچا جا رہا ہے۔ مسلم معاشرے بالخصوص پاکستانی معاشرے کا اپنا ایک خاص کلچر ہے جس سے لوگ جڑے ہوئے بھی ہیں اور عزیز بھی رکھتے ہیں۔ لیکن اب اسکرین کے ذریعے اشتہارات اور ڈراموں میں ایسے پیغامات دیے جاتے ہیں۔ جس میں نہ صرف عورت کی تذلیل شامل ہے بلکہ اقدار و روایات سے ہٹ کر ایک نئی تصویر عورت کی شخصیت کو مجروح کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔مثلاً عورت کو ایسے اشتہارات میں شامل کیا جاتا ہے جو کہ نہ اس کی ضرورت ہے نہ ڈیمانڈ ، خالص مردوں کے استعمال کی چیز ہے۔یہاں عورت اور مرد کی حیثیت اور حرکات و سکنات کو برابر بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس طرح عورت کی وہ حیثیت جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمائی ہے اس کو نوجوان نسل کے ذہنوں سے مٹایا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی خواتین ذہنوں کو پراگندہ کرنے والے ان تمام اشتہارات اور ڈراموں کی مخالفت کرتی ہے اور ان کی اصلاح کرنا چاہتی ہے ،اور ذمہ داران اور اہل اختیار سے گزارش کرتی ہے کہ خدارا عورت کے حوالے سے اپنی اس پالیسی پر غور کریں اور عورت کی حیثیت اور ضروریات سے ہم آہنگ کلچر کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ پروفیسر سلیم مغل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایڈورٹائزنگ میرا شعبہ رہا ہے میں نے یونیورسٹی میں تیس برس تک ایڈورٹائزنگ پڑھائی ہے میری جاب کا آغاز بھی اورینٹ ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بحیثیت کاپی رائٹر ہوا تھا بدقسمتی سے شعبہ اشتہارات ایک ایسا مضمون ہے اگر دنیا بھر میں اس کا جائزہ لیا جائے تو ہم اس کو منفی مضمون کہیں گے کیونکہ یہ لوگوں کو چیزیں فروخت کرنے اوران کے استعمال کی ترغیب دیتا ہے اور زبردستی اکساتا ہے اور کئی جگہوں پر صرف یہ بیچتا ہی نہیں صرف راہ نہیں دکھاتا تھا بلکہ زبردستی لوگوں کے ذہنوں میں اپنی چیزوں کو مسلط کرتا ہے اور زبردستی ان کی فروخت کی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ میرا ایک لیکچر بھی ہر سال کے آغاز میں اشتہارات کے منفی پہلو کے موضوع پر ہوتا ہے۔شعبہ اشتہارات میرے لحاظ سے ہمشہ سے ایک منفی پہلو رہا ہے،اس کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ بہت ساری مصنوعات جو خواتین کے استعمال یا دلچسپی کی نہیں ہوتی ہیں لیکن ان میں بھی خواتین کو دکھایا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ جب ہم خاص طور پر ایڈورٹائزنگ سائیکلوجی کی کتابوں کو پڑھتے ہیں تو میں ہمیں ایسی چیزیں ملتی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مرد اپنی جنس مخالف کو دیکھنا چاہتا ہے اور اس سے بات کرنا چاہتا تھا اسکی اداؤں پر مرمٹا ہے اس کی خوبصورتی،جسمانی بناوٹ اور اس کے حسن کے حوالے سے وہ سارے الفاظ ہیں جو اس حوالے سے زیر بحث ہوتی ہے۔ایڈورٹائزنگ سائیکلوجی یہ کہتی ہے، کیوں کہ مرد خواتین کی جانب متوجہ ہوتا ہے لہٰذا کوئی ایسی چیز جس طرح ایک زمانے میں ٹریٹ بلیڈ جوخواتین کے استعمال کا نہیں ہوتا تھا لیکن خواتین کے اشتہار کے ذریعے ان کو فروخت کیا جاتا تھا ایڈورٹائزنگ سائیکلوجی کی کتاب کہتی ہے کہ عورت کو دیکھ کر مرد اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جو بات وہ کہہ رہی ہوتی ہے اس کو آسانی سے سن لیتا ہیں مگر یہی مصنوعات اگر کوئی مرد لے کر آئے اور اپنی آواز میں اس کو فروخت کرنے کی کوشش کرے تو مرد کا بنا ہو اشتہار قابل توجہ نہیں ہوتا ہے لہٰذا لوگ اس اشتہار کوکم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات کے ٹر ینڈ ہمارے ملک میں نہیں بنتے ہیں یہ امریکا،ویسٹرن یا پھر انڈیا میں بنتے ہیں ہم پھر اس کی نقالی کرتے ہیں، ہمارا نمبر تو کہیں آخر میں آتا ہے لیکن بدقسمتی سے اشتہارات کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے جو ہمیں نظر آرہا ہوتا ہے۔کیونکہ چیزوں کو فروخت کرنا ہے ان کے فروخت کے دائرے کوبڑا کرنا ہے ہر صورت میں کسی کی ضرورت ہو یا نہ ہو پھر بھی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کرنی ہے لہٰذا منفی مثبت سارے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے معروف ٹی وی اینکر نصراللہ ملک نے کہا کہ اشتہارات میں عورت کی غیر ضروری نمائش خواتین کی تضحیک ہے۔عورت کے حسن اور زیبائش کوتجارتی اشیا کی فروخت کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے، جس میں کم و بیش ہر جگہ مصنوعات کی فروخت کے لیے عورت کی تصویر اور اس کے حسن و زیبائش کو پیش کیا جاتا ہے۔اسے دوسرے لوگ کسی بھی نظر سے دیکھیں مگر ہمارے خیال میں یہ عورت کی توہین اور اس کا استخفاف ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارے نزدیک تجارتی اشتہارات کا دوسرا قابل اعتراض پہلو یہ ہے کہ لگژری اور تعیش کی مصنوعات کو ان اشتہارات کے ذریعہ لوگوں کی ضروریات بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جس سے عام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور تعیشات کی ریس میں بد دیانتی اور کرپشن بھی عروج پر پہنچ گئی ہے۔مگر ہمارے ہاں اس تجارتی نمائش اور اشتہارات کی وجہ سے تعیشات کو ضروریات میں شامل سمجھا جانے لگا ہے جس سے عام آدمی کا بجٹ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی معاشی توازن بھی بگڑ کر رہ گیا ہے۔ اور یہ بھی جدید تہذیب اور ویسٹرن سولائزیشن کا کرشمہ ہے کہ عورت کو جس کا نام ہی اسلامی معاشرت میں ’’عورت‘‘ چلا آرہا ہے اسے زینت خانہ کے دائرہ سے نکال کر رونقِ محفل بلکہ اوپن تھیٹر کا کردار بنا دیا گیا ہے اور اس کے حسن و زیبائش کی کھلی نمائش ہماری تجارت کا لازمی حصہ بن کر رہ گئی ہے۔ چنانچہ جس طرح مرد نے عورت کے فطری فرائض میں سے کوئی فریضہ اپنے ذمے لیے بغیر اسے اپنے فرائض میں شریک کر لینے کو ’’عورت کا حق‘‘ قرار دے رکھا ہے اسی طرح اسے کوئی کمیشن ادا کیے بغیر تجارت کی ہر سطح پر ’’کمیشن ایجنٹ‘‘ بنا لیا ہے اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ اس بات پر خوش ہے کہ اسے مردوں کے مساوی قرار دے کر اس کا معاشرتی درجہ بڑھا دیا گیا ہے۔ پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن (پی اے اے) کے حماد طارق کا کہنا ہے کہ اشتہاری دنیا عورت کے دم قدم سے آباد ہے، زندگی میں شامل ہر ضرورت، آسانی اور آسائش کی اشیاء پر نظر ڈالیں تو عورت اس کی مارکیٹنگ کرتی دکھائی دیتی ہے، آج کی دنیا میں ماڈلنگ ، مارکیٹنگ کے شعبے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، اشتہارات میں ماڈلز کے ذریعے کسی بھی پروڈکٹ کا تعارف اس انداز میں کروایا جاتا ہے کہ اس سے نا بلد اور اس کی ضرورت نہ محسوس کرنے والے کو بھی اپنی ضرورت لگنے لگے،اسی لئے اشیاء کو خوبصورت پیکنگ میں محفوظ کرنے کے ساتھ ایسے ماڈلز سے اس کی عملی افادیت بیان کروائی جاتی ہے کہ وہ پر کشش بن جائیں، ان کا ہر کہا سو فیصد درست لگے، اور صارف مجبور ہو کر اس پراڈکٹ کو خریدے اور اس کے سوا کسی اور شے میں اطمینان محسوس نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اشتہارات کی منڈی (ایڈورٹائزنگ مارکیٹ) میں 31 فی صد مردوں کے مقابلے میں 69 فیصد خواتین ماڈلز کام کر رہی ہیں، یعنی ہر (11) گیارہ مردوں کے مقابلے میں(24) چوبیس خواتین موجود ہیں، اشتہارات میں حصہ پانے کے لیے جہاں ان کا نسوانی حسن اہمیت رکھتا ہے، وہیں جسمانی ساخت اور جنسی کشش بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایڈورٹائزنگ کمپنیاں ایسی خواتین کی عکس بندی میں دلچسپی رکھتی ہیں جو دبلی پتلی، خوبصورت، جوان اور ناز و ادا میں مہارت رکھتی ہوں، اور ہر لحاظ سے مکمل نظر آئیں، اور جب ہر قابل ِ ذکر شے عورت کے اشتہار سے بیچی جائے تو ہر جانب خوبصورت عورتوں کی تصاویر، بل بورڈز اور متحرک مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں میڈیا کے نگراں ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے اشتہارات کے متعلق ضابطہ اخلاق میں ہر اْس مواد کو چلانے کی ممانعت ہے جو ’غیر مناسب‘ ہو یا ایسے موضوعات پر مبنی ہو جس پر بات کرنے سے کسی کو تکلیف پہنچے۔پیمرا کی طرف سے ضابط اخلاق کے باوجود پاکستان میں آئے روز ایسے اشتہارات ہماری نظروں کے سامنے سے گْزرتے رہتے ہیں جن میں خواتین کے بارے میں خیالات کا پرچار عام ہوتا ہے۔ (پیمرا) کا کہنا ہے کہ ہم سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز پر کسی بھی نامناسب اشتہارات نشر کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔اس حوالے سے ٹی وی چینلز کی مانیٹرنگ کے لیے باقاعدہ ایک نظا م موجود ہے،اگرپھر بھی کسی چینل کی جانب سے غیر اخلاقی اشتہار نشر کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔