کرنٹ سے اموات: جماعت اسلامی کی درخواست پر کے-الیکٹرک کیخلاف تحقیقاتی ٹریبونل قائم

225

کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے حکم اور جماعت اسلامی کی درخواست پر چئیرمین نیپرا نے کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی اسپیشل ٹریبونل قائم کردیا۔

درخواست جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں کرنٹ لگنے سے اموات کی تحقیقات کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔ درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے چئیرمین نیپرا کو تحقیقات کر کے کے-الیکٹرک کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔

اب نیپرا نے اموات کی تحقیقات کے لیے اسپیشل ٹریبونل قائم کردیا ہے۔ اسپیشل تحقیقاتی ٹریبونل میں ڈائیریکٹر جنرل نیپرا نادر علی کھوسو، ڈپٹی ڈائیریکٹر نیپرا حافظ عرفان احمد اور ایڈوائزر نیپرا عابد علی شامل ہیں۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پچھلے سال جولائی اور اگست میں کے-الیکٹرک کی غفلت کے باعث بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے 36 شہریوں کی ہلاکت پر سندھ ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا تھا۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان اور لواحقین انصاف کے منتظر ہیں۔ متاثرین کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ معاملہ تاحال التوا ء کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی نے پٹیشن نمبر (5427/2019) میں عثمان فاروق ایڈوکیٹ کی توسط سے درخواست کی تھی۔ کے-الیکٹرک کی غفلت سے جاں بحق ہونے والے خاندانوں کو فی کس 5/5 کروڑ روپے بطور ہرجانہ دلوائے جائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔ پولیس کی طرف سے 175-CRPC کے تحت تحقیقات کرائی جائے۔

کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کے معاملے پر نیپرا ٹریبونل جلد سماعت منعقد کرے گا۔ جس میں جماعت اسلامی کے-الیکڑک کی غفلت کے باعث کراچی کے شہریوں کی ہلاکتوں پر ان کا مقدمہ لڑیں گے تاکہ لواحقین کو معاوضہ اور جلد انصاف مل سکے ۔

بارش کے دوران کے-الیکڑک کے بجلی کے کھمبوں میں ارتھنگ سسٹم نہ ہونے اور بجلی کے تار ٹوٹ کر گرنے کے باعث ہر سال شہریوں کی ایک بڑی تعداد کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو جاتی ہے۔