حیدرآباد، ریلوے کوارٹر خالی کرانے پر مکینوں کا احتجاج

90

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) مسمات رشیدہ آرزو اور ان کے شوہر دلاور ملک اعوان کی سیل ہونے والے کوارٹر کے سامنے انتظامیہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدر آباد محکمہ ریلوے ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 26 جون 2018ء کو ریلوے کوارٹرز سابق تھانہ ریلوے کے ساتھ کے تمام کوارٹرز کو خالی کرنے اور کینسل کوارٹر کے آرڈر جاری کردیے گئے اور متبادل کوارٹرز میں رہائش اختیار کرنے کا کہا لیکن نئے کوارٹرز ریلوے ڈپارٹمنٹ کی بندر باٹ کی نذر ہوگئے اور جہاں لوگ رہائش پذیر تھے وہ وہیں رہ گئے لیکن ریلوے ڈپارٹمنٹ نے اپنے ہی محکمے میں دو قانون کا نفاذ شروع کردیا ہے۔ مسمات رشیدہ آرزو زوجہ دلاور ملک اعوان کا کوارٹر نمبر اے بی 37 کو کینسل کردیا اور خالی کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے جبکہ ساتھ ہی میں ریلوے پولیس اسٹیشن پر نامعلوم افراد کی جانب سے قبضہ کیا جارہا ہے اور دیگر کوارٹرز پر بھی لوگ وہیں پر رہائش اختیار کر رکھی ہے۔ مسمات رشیدہ آرزو پولیس کمانڈو ریلوے پولیس میں تعینات ہے اور کوارٹر خالی نہیں کرنے پر ڈی ایس پی ریلوے پولیس اسٹیشن نے ایس ایچ او ریلوے کے ہمراہ کوارٹر کو سیل کردیا گیا۔ مسمات رشیدہ آرزو نے عدالت اعلیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ریلوے پولیس انتظامیہ یعنی اپنے ہی محکمے پر کوارٹر خالی نہیں کرنے کے لیے متعلقہ افسران پر کیس داخل کردیا، جس کی تاریخ 27 نومبر 2020ء مقرر ہے لیکن عدالتی نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی ریلوے پولیس نے نہ سنی اور عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا اور کوارٹر نمبر 37 کو سیل کردیا۔ مسمات رشیدہ آرزو نے وفاقی وزیر شیخ رشید و دیگر سے انصاف کی اپیل کی ہے ۔