تھر،کان کنی اور بجلی گھروں کے قیام پر مثبت پالیسی کے اجراء کا مطالبہ

98

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سول سوسائٹی کے نمْائندوں نے تھر میں بغیر کسی پالیسی جاری حصول اراضی اور بے خانما لوگوں کی بحالی و آباد کاری میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں اور انسانی حقوْق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اْنہوں نے حکوْمت سے مْطالبہ کیا ہے کہ تھر میں کوئلہ کی کان کنی اور بجلی گھروں کے قیام کے لیے حصوْل اراضی اور بے خانما لوگوں کی بحالی و آبادکاری سے مْتعلق عوام دوست پالیسی کا اجرا کیا جائے۔ مجوزہ پالیسی تھر کے مقامی لوگوں کی مشاورت اور شراکت سے تشکیل دی جائے اور اس پالیسی میں مقامی لوگوں کے منفرد حالات زندگی اور اور اْن کے منفرد حقوْقِ اراضی کو مدِنظر رکھا جائے۔ اْنہوں نے اِن خیالات کا اظہار الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک آن لائن پریس کانفرنس میں کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوْئے پاکستان فشر فوک فورم کے چیئر مین محمد علی شاہ نے کہا کہ حکوْمت نے تھر کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کوئلے کے منصوْبوں کے ذریعے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں ترقی اور خوْشحالی لائے گی۔ تاہم عملی طور پر کوئلہ کے اِن منصوْبوں کے لیے حصوْلِ اراضی میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور نا انصافیوں نے ترقی و خوْشحالی کے اْس حسین خواب کو ایک ڈراؤنے خوب میں بدل دیا ہے۔ کوئلہ کے نام پر تھر میں ہونے والی نام نہاد ترقی نے تھر کے مقامی لوگوں کو جبری بے دخلیوں، ذرائع معاش کے خاتمہ، بے بسی، غربت اور احساسِ محروْمی کے علاوہ کچْھ نہیں دیا۔