افغانستان ،26 ہزار بچے اتحادی فوج کا نشانہ بنے

181
جنیوا: افغانستان کے لیے امداد جمع کرنے کے لیے منعقدہ اجلاس میں عالمی رہنما جنگ زدہ ملک کے حالات پر بحث کررہے ہیں

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ 14 برس سے جاری جنگ کے دوران اوسطاً 5 بچے روزانہ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سیو دی چلڈرن تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان بچوں کے لیے دنیا کے 11 خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں 2005ء سے 2019ء کے دوران کم از کم 26 ہزار 25 بچے یا تو مارے گئے یا پھر معذور ہو گئے۔ جنیوا میں ہونے والی عالمی کانفرنس سے چند گھنٹے پہلے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 2017ء سے 2019ء کے درمیان 300 سے زائد اسکولوں پر حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 410 بچے زخمی یا ہلاک ہوگئے۔ تنظیم نے امداد دینے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے لیے امدادی رقوم میں اضافہ کریں تاکہ ان کی اور معذور اور غیر محفوظ لوگوں کی بہتری کے لیے کام کیا جا سکے۔ افغان باشندوں کے تکلیف دہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے تنظیم کے کنٹری ڈائریکٹر کرس نیامندی نے کہا کہ وہ خوف و ہراس کی صورتِ حال میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں ہر وقت یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں وہ کسی خود کش حملے یا فضائی حملے میں مارے نہ جائیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے افغانستان میں فوری طور پر غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ جنیوا میں افغان ڈونر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوحہ میں طالبان کے ساتھ طے ہونے والے امن عماہدے پر عمل کے سازگار ماحول کے لیے غیر مشروط جنگ بندی ضروری ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق افغانستان میں بچوں کی بڑی تعداد اسکول نہیں جا پا رہی جن میں 60 فیصد تعداد لڑکیوں کی ہے۔ اُدھر جرمن وزیر خارجہ ہائیکوماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بحران کے شکار افغانستان کے لیے مالی امداد میں اضافہ کریں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا نے افغانستان میں لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے جب کہ لاکھوں افراد کا انحصار صرف انسانی امداد پر ہے۔