حرمت سخن کے بیوپاری

214

ٹی وی ٹاک شو میں اپنے خیالات و جذبات کا برملا اظہار کرنے والے حالات ِ حاضرہ کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ بھکاری اور مانگنے والوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہم اقوامِ عالم میں بے توقیر ہیں کہ ہر وقت ہمارے ہاتھوں میں کشکول ہوتا ہے۔ ہم دونوں ہاتھوں سے اپنا دامن پھیلائے بھیک مانگتے رہتے ہیں۔ اس سے بڑی شرمناک بات یہ ہے کہ اقوام عالم سے عزت کی توقع کرتے ہیں۔ مگر یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ ہاتھ پھیلانے اور کشکول اٹھانے والوں کی عزت نہیں ہوتی۔ عزت اس کی ہوتی ہے جو عزت کروانے کا حق رکھتا ہو اور عزت کروانا چاہتا ہو۔ مگر ہماری چاہت تو اپنی جھولی بھرنے اور کشکول میں گرنے والے ڈالروں کی مسحور کن آواز ہے۔
یہ دل آزار تبصرہ سن کر ٹی وی اینکر کی مسکراہٹ بڑی معنی خیز اور خوشگوار تھی۔ مگر وہاں پر موجو د ایک خاتون کی غیرت جاگ اٹھی اس نے چلا کر کہا کہ بھکاری اور مانگنے والے تم ہو گے میں نہیں۔ میں کسی سے بھیک نہیں مانگتی میری قوم بے غیرت اور بے حمیت نہیں۔ بے غیرت اور بے حمیت لوگ تو ہمارے سروں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ امریکا اور دیگر ممالک سے ڈالروں کی بھیک وہ مانگتے ہیں قوم نہیں مانگتی۔ آپ کو ایسا تبصرہ کرتے ہوئے تھوڑی سی بھی شرم نہ آئی۔ آپ نے پوری قوم منگتا اور بھکاری قرار دے ڈالا۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وطن عزیز کی بد حالی اور اقوام عالم کی نظروں میں بے توقیری بنیادی وجہ یہی بے حسی ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ عوام کی بد حالی اور پاکستان کی بے توقیری کے اسباب کی اصل بنیاد پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ افراد بھی ہیں۔ اور ان کی تعداد کم از کم 80فی صد ہے۔
حرمت ِ سخن کے یہ بیوپاری فہم و فراست کے کاروباری توقیر لفظ کے یہ بیوپاری۔ ملک کی تباہی کے اصل ذمے دار ہیں۔ یہ لوگ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے حکمرانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ حکمرانوں کے دل الٹانے کے لیے خود اوندھے ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ لکشمی دیوی کی خوشنودی کے لیے اپنی خوشنودی اور اپنی دیوی کو بھی قربان کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ لوگ اپنی تقریر اور تحریر کے ذریعے حکمرانوں کی برائیوں کو خوبیوں میں بدلنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد دولت کا حصول ہوتا ہے۔ صاحب ِ ثروت بننے کے لیے لفافہ، پلاٹ، پرمٹ اور پٹرول پمپ حاصل کرنے کے لیے حکمرانوں کی تعریف و توصیف لازمی امر ہے۔ سو، یہ لوگ دن رات حکمرانوں کی شان میں قصیدے پڑھتے ہیں۔ زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ قلابے کی خوبی یہ ہے کہ ممدوح کے قلب میں جگہ بنانے کا سبب بنتا ہے۔ قلابہ کا تلفظ غلط ہے۔ درست تلفظ قُلابہ ہے۔ قُلابہ قلاّب سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں قلب الٹا کرنا۔ قلابے ملانے کا مقصد ہی کسی کے قلب کو الٹانا ہوتا ہے۔ یہ لوگ نیک دل انسانوں کے قلب الٹا کر انہیں سنگ دل بنا دیتے ہیں۔ قلابہ مچھلی پکڑنے کے خمدار آہنی کانٹے کو بھی کہتے ہیں۔ گویا میڈیا سے وابستہ افراد حکمرانوں کو اپنی گرفت میں لینے کے لیے الفاظ کا آہنی خمدار کانٹا ڈالتے ہیں۔جنہوں نے مچھلی پکڑی ہو وہ یہ بات جانتے ہیں کہ کانٹے میں پھنسی ہوئی مچھلی بالآخر لذت کام و دہن کا سبب ہی بنتی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
قلابے زمین آسمان کے ملا نہ تو
اس مہر وش کے ملنے کی ناصح بتا صلاح
یہ ایک یقینی امر ہے کسی نہ کسی کا مشورہ کارآمد ثابت ہوہی جاتا ہے۔ اور حکمران طبقہ ان کے کانٹے میں مچھلی کی طرح پھنس کر تڑپنے لگتا ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات ان کی طلب پوری کرنا حکمرانوں کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا انہیں خزانے کی چابی بھی دے دو توتب بھی یہ لوگ خوش نہیں ہو سکتے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے سیاسی کلچر کی کیمسٹری ایسی ہے کہ سیاسی کردار کمزور ہو تو بیٹا بن جاتا ہے۔ اور ہمہ وقت ڈیڈی ڈیڈی کا ورد کرتا رہتا ہے۔ اور جب طاقت حاصل کر لیتا ہے تو ابا حضور بن جاتا ہے۔ اور ابا حضور ابا حضور کا ورد کرنے والے ان کے منظورِ نظر بن جاتے ہیں۔