وزیراعظم کا پہلا دورہ کابل

163

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے دورہ افغانستان کے بعد کہا ہے کہ ان کا دورہ کابل پاکستان کے افغانستان میں امن کے عزم کا اظہار ہے، افغانستان میں امن کا سب سے بڑا فائدہ پاکستا ن کو ہوگا، افغانستان میں امن سے تجارتی رابط قائم ہوں گے جس سے دونوں ممالک میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ان کے دورہ افغانستان کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ افغان قیادت کو افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کی کاوشوں سے آگاہ کیا جائے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی افغانستان میں امن کے قیام کے لیے فوجی آپریشن کے حامی نہیں رہے بلکہ ان کا شروع دن سے یہ موقف تھا کہ افغانستان میں امن کا واحد حل صرف سیاسی مذاکرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہل افغانستان کے بعد اس امن میں سب سے بڑا حصہ پاکستان کا ہے کیونکہ اس سے باہمی روابط و تجارت کے دروازے کھلیں گے اور خوشحالی دونوں ممالک کا رخ کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امن و تجارت کے ثمرات بطور خاص ہمارے قبائلی عوام تک پہنچیں گے جنہوں نے افغان جنگ کی تباہ کاریوں کا بارِگراں اٹھایا۔ اس دورے میں پاکستان اور افغانستان نے انفرا اسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں میں تیزی لانے، ریل اور روڈ کے نئے منصوبوں پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت افغانستان میں امن چاہتے ہیں، ان کے دورے کا مقصد افغان عوام اور حکومت کو یہ یقین دلانا تھا قیام امن کے لیے پاکستان ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گا۔
عمران خان نے اپنا پہلا دورہ کابل افغان صدر اشرف غنی کی خصوصی دعوت پر کیا ہے جس کی دعوت انہوں نے اپنے گزشتہ سال دورہ اسلام آباد کے موقع پر عمران خان کو دی تھی۔ وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے عمران خان کی افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے مجموعی طور پر یہ تیسری ملاقات تھی۔ اس سے قبل ان کی اشرف غنی سے پہلی ملاقات گزشتہ سال مئی میں جدہ میں ہونے والی او آئی سی کے سربراہ اجلاس کے دوران اس کانفرنس کی سائیڈ لائین پر ہوئی تھی جب کہ اس ملاقات کے ایک ماہ بعد ڈاکٹر اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں وزیر اعظم پاکستان کو دورہ کابل کی دعوت کے علاوہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال اور اتفاق رائے کیا گیا تھا۔ عمران خان کا دورہ کابل ویسے تو کئی حوالوں سے اہمیت اور توجہ کا حامل تھا لیکن یہ چونکہ ان کا پہلا باضابطہ دورہ تھا اس لیے ان کے اس دورے کو سفارتی حلقوں میں خصوصی توجہ سے دیکھا جارہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے دورہ ٔ کابل ایک ایسے موقعے پر کیا ہے جب ایک جانب امریکی انتظامیہ تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے اور افغانستان میں موجود امریکی اور ناٹو فورسز کے انخلا کے حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے گزشتہ روز اپنی جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران طالبان کے افغان سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں پچھلے برسوں کی نسبت کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کا ثبوت یہ اطلاعات ہیں کہ افغانستان کے 23صوبے ایسے ہیں جن میں طالبان افغان سیکورٹی فورسز کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تیسری طرف اب تک انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز نہیں ہو سکا ہے جن کا انتظار افغان قوم کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو پچھلے دوماہ سے ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے دورہ افغانستان سے چند دن پہلے پاکستان کی جانب سے بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد پر مشتمل ڈوزیئر کا اقوام متحدہ کے حوالے کیے جانے کے تناطر میں بھی خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے جس میں پاکستان نے باقاعدہ ثبوتوں کے ساتھ بھارت کی جانب سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔ گوکہ افغانستان سرکاری سطح پر ایسے الزامات کی ماضی میں تردید کرتا رہا ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان کو کابل میں افغان حکومت کی جانب سے جو پزیرائی ملی ہے اور ان کا جو پرجوش خیرمقدم کیا گیا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان افغانستان میں بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں پر افغان حکومت کو اعتماد میں لینے میں کامیاب رہا ہے۔ یہاں اس امر کی نشاندہی بھی اہمیت کی حامل ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے موقع پر کابل کی مرکزی شاہراہوں پر پاک افغان پرچموں کی بہار کو ماضی کی تلخیوں اور ایک دوسرے پر بد اعتمادی کے تناظرمیں ایک خوشگوار تبدیلی کا مظہر قرار دیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کا دورہ کابل کے بعد ایک ٹویٹر پیغام میں یہ کہنا کہ افغانستان میں امن کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو ہوگا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا۔ اسی طرح وزیراعظم نے پاک افغان تعلقات میں پائیدار استحکام کے لیے روڈ اور ریلوے نیٹ ورک کی پاکستان سے افغانستان تک توسیع کی جس خواہش اور عزم کا اظہار کیا ہے اگر پاکستان چین کی معاونت سے ان دو بڑے منصوبوں کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہوگیا تو یہ منصوبے پاک افغان تعلقات نیز دونوں برادر پڑوسی ممالک کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں سنگ ہائے میل ثابت ہو سکتے ہیں۔