اسٹیٹ بینک حقائق بیان کرے

162

اسٹیٹ بینک ملک کا اقتصادی ریگولیٹر ہوتا ہے لیکن پاکستان کا اسٹیٹ بینک اب اپنی زری پالیسی، سہ ماہی رپورٹ اور دیگر رپورٹس بھی اس انداز سے تحریر کرتا ہے کہ ناواقفیت رکھنے والا شخص غلط فہمی کا شکار ہوجائے۔ چناں چہ گزشتہ ہفتے کی رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ 52 برس میں پہلی مرتبہ شرح نمو منفی ہونے کی وجہ لاک ڈائون ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے لیکن لاک ڈائون لگانے والوں کو اس کے معاشی اثرات کا اندازہ تھا یا نہیں۔ انہیں کیوں نہیں معلوم تھا کہ لاک ڈائون کے نتیجے میں ملک میں معیشت کو کیا نقصان ہوگا۔ اس اعتبار سے لاک ڈائون نہیں لاک ڈائون نافذ کرنے والے معاشی شرح نمو منفی ہونے کے ذمے دار ہیں۔ پاکستان میں اس غیر ملکی فارمولے کو پاکستانی عوام کی نفیسات، پاکستانی قوم کے مدافعتی نظام اور قومی معیشت کے اہم اداروں اور تصور کو سمجھے بغیر نافذ کردیا۔ لاک ڈائون کی کوئی مدت بھی مخصوص نہیں تھی۔ اس کا نتیجہ ظاہر ہے اقتصادی شرح نمو پر ہی پڑنا تھا۔ اب اسٹیٹ بینک کے زری پالیسی جاری کرتے ہوئے جو چھکا مارا ہے وہ بڑا شاندار ہے۔ بتایا گیا ہے کہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھی، یا اسے یوں کہہ لیں کہ مہنگائی کا سبب غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ لیکن اسٹیٹ بینک نے پھر حکومتی پالیسیوں کی غلطی ظاہر کرنے کے بجائے سطحی تبصرہ کیا ہے۔ یہ کہنا کہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے مہنگائی ہوئی ہے، ایک مذاق سے کم نہیں۔ یہ تو بتایا جائے کہ حکومت کی کس پالیسی کی وجہ سے زرعی ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، یہ بتانے کی ضرورت بھی ہے کہ پاکستانی زراعت کا حال کیوں تباہ ہورہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے کہ جی ایم او کھاد اور بیچ پاکستانی زراعت کو کیسے تباہ کررہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں چند برسوں میں پاکستانی کسان کھاد اور بیج کے لیے عالمی ساہوکاروں کا محتاج ہوگا اور بھارتی کسانوں کی طرح خودکشی تک نوبت پہنچے گی۔ لیکن اسٹیٹ بینک کو یہ بتانا چاہیے کہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کون سی مافیا کی وجہ سے ہوا جو حکومت میں ہے یا جس کی وجہ سے حکومت ہے۔ ان حالات میں اقتصادی ریگولیٹر کو اصل بات کرنی چاہیے۔ ایک مرتبہ پھر عالمی وبا کو معاشی نمو کے لیے خطرہ قرار دے کر حکومت کو ذمے داریوں سے مبرا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ معاشی نمو میں ترقی کرنے کے اقدامات کرنا اور ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ لیکن جب اسٹیٹ بینک اشیا کی قیمتیں بڑھنے کو مہنگائی کا سبب قرار دے اور عالمی وبا کو اقتصادی مشکلات کا سبب قرار دے تو پھر حکمران تو بہانوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کے بارے میں بھی درست رپورٹ نہیں کیا ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ روپے کی قدر میں 3.5 فی صد اضافہ ہوا۔ کیوں کہ ڈالر 108 روپے سے 170 روپے تک پہنچا ہے، اب اس میں 3.5 فی صد بہتری آئی ہے تو اسے قدر میںاضافہ نہیں کہا جاسکتا۔