کرونا: شام 6 بجےدکانیں بند کرنے کا فیصلہ،تاجروں نے مسترد کردی

158

سندھ حکومت کی جانب سے کرونا کے پیش نظر شام6 بجے دکانیں بند کرنے کے احکامات کو تاجروں نے مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے.

کراچی الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان عرفان نے سندھ حکومت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صبح 6 بجے دوکانیں کھولنا دکانداروں  کے لئے ممکن نہیں ہے لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے. انہوں نے کہا کے اوقات کار میں تبدیلی کرتے ہوئے صبح 10 سے رات 8 بجے تک کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے.کرونا کی وجہ سے کاروبار پہلے ہی متاثر ہوچکا ہے.تاجروں  نے ہربار حکومت کے ساتھ تعاون کیا ہے ،حکومت کوبھی  چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے ہمارے مطالبات کو پورا کرے.

دوسری جانب کریم سینٹر کے جنرل سیکرٹری اسلم قریشی کا کہنا ہے کہ صدر کے علاقے میں دس گارمنٹس  مارکیٹ موجود ہیں جس سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے،اس فیصلے سے آمدنی میں 35 فیصد تک کمی واقع ہوگی جبکہ ہفتے میں دو دن کاروبار بند ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی. کرونا کی وجہ سے پہلے ہی آمدنی میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے،حکومت ہمارے تحفظات کو دور کرے.

 انجمنِ تاجران کے سینیئر نائب صدر جاوید قریشی  نے بھی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے، ان کہنا ہے کہ پہلے ہی لاک ڈاؤن کی وجہ سے چھوٹا کاروباری طبقہ شدید متاثر رہے اور اب حکومت یہ فیصلہ ان پر قہر بن کر ٹوٹا ہے.بولٹن مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر رفیق جدون نے بھی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پہلے ہی کاروبارمتاثر ہے،  حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے، شہر کسی بھی صورت دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا .

تاجر تنظیموں نے تو حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کردی ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ  حکومت کس طرح تاجروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے موجودہ صورتحال سے نبردآزما ہوتی ہے کیونکہ کرونا کی وجہ سے پہلے ہی کاروباری صورتحال اچھی نہیں ہے اور  لاک ڈاؤن لگنے کی صورت میں اس کے اثرات  براہِ راست ملکی معیشت پر ہوں گے.