کتاب لکھنے کا مقصد کیا ہے ؟

162

امریکا کے سابق صدر اوباما کی کتاب نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ اوباما نے بھی شیخ رشید کی طرح ایسے ایسے انکشافات کیے ہیں جنہیں انکشاف کہنا بھی عقل و دانش اور فہم و فراست کی بے حرمتی ہے۔ موصوف نے انکشافات کے نام پر جو کچھ لکھا ہے اس کا واضح مقصد کتاب کا پیٹ بھرنے کے سوا کچھ نہیں۔ خاص کر جو کچھ پاکستانی اور بھارتی حکمرانوں کے بارے میں کہا ہے اس کے بارے میں اہل وطن اچھی طرح جانتے ہیں۔ پاکستان کے باثر اور باختیار طبقے کی ذہنیت کیا ہے اور یہ لوگ حصول اقتدار کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں اس سے قوم کا بچہ بچہ واقف ہے۔ اہل پاکستان تو یہ بھی جانتے ہیں کہ حکمرانوں کا تعلق کس خاندان سے ہے۔ اور تحریک آزادی میں ان کے آبائو اجداد کا کیا کردار تھا۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ اسامہ کے قاتلوں کو خوش آمدید کس نے کہا تھا۔ امریکی صدر کو مبارکباد کس نے دی تھی۔ مگر اس کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ پاکستان کا ہر شخص بے حمیتی اور بے غیرتی کا علم بردار ہے۔ کتاب میں ایسی کوئی بات نہیں جو اہل ِ پاکستان کے لیے انکشاف کا درجہ رکھتی ہو۔ سابق امریکی صدر نے بھی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی طرح چبائے ہوئے لقمے ہی چبائے ہیں۔ مگر غور طلب امر یہ ہے کہ اس چبڑ چبڑ کا مقصد کیا ہے۔ اسے پاکستانی حکمرانوں کو رسوا کرنے کی کوشش بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ساری دنیا ان کے کردار اور ان کی ہوس اقتدار سے واقف ہے۔ ہم ایسے بہت سے واقعات کے چشم دید گواہ ہیں جو وطن عزیز کے لیے باعث افتخار اور دنیا کے لیے حیرت کا باعث ہیں۔
پاکستان کی ایک سرحدی پوسٹ کے سامنے بھارت کی پوسٹ تھی۔ بھارت نے اپنی ذہنی خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مسجد کو نگران چوکی بنا دیا تھا۔ اور اس کے گنبد کو آبزر ویشن پوسٹ میں تبدیل کر دیا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی نے بھی اس خباثت پر توجہ نہ دی۔ مگر نئے پوسٹ کمانڈر نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ اور سپاہیوں سے استفسار کیا کہ تمہاری غیرت اور دینی حمیت کو کیا ہو گیا ہے۔ مسلمانوں کو قبر میں دفن ہونا چاہیے اپنے جسم میں نہیں بھارت کی اس کمینگی پر تم خاموش کیوں رہے کوئی عملی اقدام کیوں نہیں کیا۔ سپاہیوں کے سر احساس ندامت سے جھک گئے۔ ایک سپاہی نے کچھ ہمت کی اور کہا سر ہم تو سپاہی ہیں حکم کے پابند ہیں۔ افسر جو حکم دے گا ہم اس کی تکمیل کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کے سوا کیا کر سکتے ہیں۔ پوسٹ کمانڈر نے کہا میں بتائوں گا کہ کیا کرنا ہے۔ اسی رات ایک بندوق اپنی آبزر ویشن پوسٹ پر فٹ کر دی۔ اور اس کا رخ اس طرح کیا کہ فائر کرنے پر بھارتی او پی پر کھڑا ہوا سپاہی کھڑے کھڑے دم توڑ دے۔ پوسٹ کمانڈر نشانے کا بڑا سچا تھا۔ آوٹر مارنا اس کی فطرت میں شامل ہی نہ تھا۔ اس کی گولی اپنا ہدف کبھی نہیں بھولتی تھی۔ پوسٹ پر کھڑے سپاہی نے جونہی سگریٹ سلگائی پوسٹ کمانڈر کی انگلی حرکت میں آگئی۔ ٹریگر دبتے ہی سپاہی کی آواز بھی دب گئی۔ نگرانی کرنے والے سپاہی نے کھڑے کھڑے دم توڑ دیا۔
پوسٹ کمانڈر نے بندوق ہٹا کر ایسے تمام نشانات مٹا دیے جو پاکستانی پوسٹ سے فائرنگ کی نشاندہی کر سکتے تھے۔ بھارتی کمپنی کمانڈر کو اس حادثے کی خبر ہوئی مگر وہ ایک سمجھدار اور موقع شناس آفیسر تھا۔ اس نے احتجاج کے بکھیڑے میں پڑ کر بھارتی خباثت سے دنیا کو آگاہ کرنے کی غلطی نہیں کی۔ بلکہ اس جگہ پر نئی پوسٹ تعمیر کروا دی۔ وہ جانتا تھا کہ ایسے مسائل کا حل جنگ نہیں اپنی حماقت کا ماتم کرنے سے بہتر ہے کہ آدمی خاموش ہی رہے۔ مگر اس سوال پر خاموشی اختیار کرنا بہت بڑی حماقت ہو گی۔ اور وہ سوال یہ ہے کہ رینجرز کے ایک سب انسپکٹر نے بھارتی گستاخی کا ایسا جواب دیا کہ بولنے کی جرأت بھی نہ کر سکا۔
ہمارے ذہن میں ایسے کئی واقعات اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں جو بھارتی بزدلی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ مگر کشمیر میں بھارت کی فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ کیا ہے۔ بھارتی فوج سے دلیری کی توقع تو نہیں کی جاسکتی مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بزدل کا ہتھیار دیدہ دلیری ہوتا ہے۔ جب تک اس کے دیدے نہ پھوڑے جائیں وہ جان نہیں چھوڑتا۔ سوال یہ بھی ہے کہ عملی اقدامات اٹھانے کے بجائے عالمی برادری سے بھارتی رویے اور اس کی دہشت گردی کی شکایت کی جارہی ہے۔ خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے ثبوت پر ثبوت پیش کیے جارہے ہیں۔ بھارتی فوج ہماری سول آبادیوں پر یوں گولہ باری کر رہی ہے۔ جیسے ہمارے بچوں کو برف کے گولے دے رہی ہو۔ ہمارے شہروں پر اس طرح فائرنگ کی جارہی ہے جیسے بھارتی فوجیوں کی تربیت گاہ ہو۔ دن کی روشنی ہو یا رات کی تاریکی ہماری بستیوں کو قبرستان بنایا جا رہا ہے۔ اور ہم خوابوں اور خیالوں میں ان کا منہ توڑ رہے ہیں۔
ہم ایک مدت سے مقتدر طبقے سے گزارش کر رہے ہیں کہ آنے والی نسلوں کی نفرت سے بچنے کے لیے سیاست کو شجر ممنوع قرار دیا جائے۔ سیاست دانوں کو ذہنی جزام کا مریض قرار دیکر عوام سے دور رکھا جائے۔ ورنہ آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔ حیرت ہے بے حمیت اور بے حس لوگوں کو قوم پر مسلط کرنے کا مقصد کیا ہے۔ وہ کون ہے جو ہمیں بھکاری بنانے پر کمر بستہ ہے۔ قرض حکمران لیتے ہیں مگر اس کی سود سمیت ادائیگی قوم کرتی ہے۔ اگر مقتدر طبقے میں ہمدردی کی تھوڑی سی رمق بھی موجود ہے تو وہ قومی حکومت تشکیل دے کر قوم کو بے توقیری کی ذلت سے نجات دلا سکتے ہیں۔ وطن عزیز میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو قوم کے لیے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ تو کیا یہ باور کر لیا جائے کہ مقتدر قوتیں بھی امریکی قوت کے سامنے سر نگوں ہونے میں بھلائی سمجھتی ہیں۔