چارسالہ بچی اس ظلم کو کیسے بیان کرے

346

ایسے سانحات لرزا کر رکھ دیتے ہیں۔ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دل سینے میں رکنے لگتا ہے۔ بارہا لکھنے کا سوچا لیکن ہاتھ کانپ کر رہ گئے۔ عقل مائوف ہوگئی۔ کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی! جو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا ادراک بھی نہیں کرسکتے۔ ایک چار سالہ بچی اس ظلم کو کیسے بیان کرے۔ ماں رو روکر کہہ رہی ہے بیٹا بتائو تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن بچی ڈری، سہمی گم سم کھڑی ہے۔ وہ بات وہ کیسے بیان کرے جو اس کی سمجھ میں نہیں آئی، کبھی امی نے نہیں سمجھائی۔ وہ صرف یہ احساس رکھتی ہے کہ ’’انکل نے بدتمیزی کی ہے‘‘ اتنے کم عمر بچوں کے ساتھ جرم! کوئی کیسے سوچ سکتا ہے! سوائے کسی درندے کے۔ وہ بچے جن کی کھلونے توڑنے کی عمر ہے انہیں اس بے دردی سے توڑ دیا جائے! تصور میں بھی کیسے آسکتا ہے! زندگی جو بچوں کی شرارت ہے، حیرانی ہے، کہانی ہے، ہوگی! لیکن کشمور کی اس چار سالہ بچی کے لیے اب زندگی کا عنوان، زندگی کی تفصیلات کچھ اور ہیں۔ اور ہاں، اس معاشرے کا عنوان کیا ہونا چاہیے جہاں پھول کی پتیوں جیسی روحیں محفوظ نہ ہوں؟ مردہ معاشرہ! نہیں! متعفن معاشرہ! نہیں! پھر کیا کہا جائے! جنگل، لیکن زہرہ نگار کچھ اور کہتی ہیں: سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا۔ ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں۔ تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر۔ کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے۔ سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے۔
جنگل جاگنے پر یاد آیا، امریکا اور بعض دیگر ممالک میں ایمبر الرٹ کے نام سے ایک ایسا میکنزم موجود ہے کہ اگر کوئی بچہ اغوا ہوجائے تو شہر کے ہر موبائل پر الارم بجنے لگتا ہے ساتھ ہی پولیس کی طرف سے تحریری پیغام میں آگاہ کیا جاتا ہے کہ کہاں سے اور کون بچہ اغوا ہوا ہے اور کس گاڑی یا فرد پر شبہ ظا ہر کیا جارہا ہے۔ ایک ایسا ہی نظام ’’زینب الرٹ‘‘ کے نام سے ہمارے یہاں بھی تشکیل دینے کے دعوے کیے گئے تھے لیکن غریب اور لاوارث بچوں کے لیے اتنی درد سری کون اٹھائے؟ فائدہ؟ ہم تو ستر برس میں مجرموں تک رسائی اور انہیں پکڑنے کا کوئی نظام اور جدید طریقہ کار بھی وضع نہیں کرسکے۔ کشمور واقعے کی متا ثرہ خاتون تھانے پہنچی تو کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ پولیس افسر محمد بخش نے بھی خاتون کا میڈیکل کرانے یا اسے دارلامان بھیجنے کے بجائے مسجد کی طرف لڑھکا دیا۔ اس مظلوم کو وہاں بھی پناہ نہ ملی تو محمد بخش ازراہ مہربانی اسے اپنے گھر لے آیا۔ محکمانہ کاروائی کے نتیجے میں نہیں بلکہ گھر والوں کے کہنے پر اس نے مجرموںکو پکڑنے کا فیصلہ بھی کیا تو پچاس ہزار انعام کے لالچ کا ایسا مضحکہ خیز طریقہ اختیار کیا جس پر گھریلو خواتین بھروسا نہیں کرتیں کوئی مجرم تو کیا کرے گا۔ اس دوران وہ مجرموں کا فون ٹریپ کرسکا اور نہ کوئی جدید طریقہ اپنا سکا حتیٰ کہ مجرم کو ٹریپ کرنے کے کوئی خاتون پولیس اہلکار بھی دستیاب نہیں تھی۔ اپنی بہادر بیٹی کی جان کو دائو پر لگا کر، بہلا پھسلا کر وہ مجرم کو پارک تک لانے اور پکڑنے میں کامیاب ہوسکا۔ مجرم کو پکڑ کر تھانے لاکر اس کی چھترول کرنے کے نتیجے میں وہ دوسرے مجرم تک پہنچ سکا۔ اس پوری جدوجہد میں سوائے پولیس افسر محمد بخش کی ذاتی دلچسپی، ہمدردی اور اس کی بیٹی کی اولوالعزمی کی روشن داستان کے کسی ٹیکنالوجی کی موجودگی کا پتا ملتا ہے اور نہ تفتیشی طریقہ کار اور نظام کا اور نہ کسی محکمے کا۔
کشمور واقعے کا ملزم ایک ایسے مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا جس کی حقیقت سے سب واقف ہیں لیکن سب خاموش ہیں کہ چلو اچھا ہوا خس کم جہاں پاک۔ ہمارا عدالتی نظام اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ ایک خس کو بھی سزا دینے کے قابل نہیں رہا۔ اس عدالتی نظام کی اصلاح کے لیے ہم نے خصوصی عدالتیں بنائی، خصوصی قوانین بنائے۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے 1861 کے پولیس ایکٹ کو مانجھتے رگڑتے ہوئے شرعی عدالتیں تشکیل دیں لیکن جرائم ہیں کہ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ ناموس رسالت سے لے کر خواتین پر ہونے والے ایک ایک ظلم کے خلاف ہم نے الگ الگ عدالتیں بنا ڈالیں، قانون وضع کر لیے، فوجی عدالتیں، انسداددہشت گردی کی عدالتیں اور نجانے کیا کیا کرنے کے دعوے کر ڈالے لیکن اس نظام کا تعفن ہے کہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ہمارے یہاں اتنے قوانین بن چکے ہیں، طرح طرح کی عدالتیں بنائی جا چکی ہیں کہ مجرموں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن ہوا اس کے برعکس رہا ہے۔ جرائم کی تعداد اور رفتار میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور مجرم بھی مزید بے خوف ہوکر جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے بھی حسب روایت ریپ مقدمات کو تیز رفتاری سے نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتیں بنانے کا آرڈی ننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہاں ایک پہلو اور ہے اور یہ پہلو بڑا دلچسپ ہے۔ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل نہیں ہے جہاں ریپ اور زنا کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان تو کیا دنیا کا کوئی اسلامی ملک بھی نہیں ہے۔ ریپ واقعات میں پہلے نمبر پر امریکا ہے۔ یہاں ہر چھ میں سے ایک عورت لازمی طور پر ریپ کا شکار ہوئی ہے۔ دوسرے نمبر پر سائوتھ افریقا ہے جہاں بلحاظ آبادی سالانہ 65ہزار سے زائد کیسز رجسٹر کیے جاتے ہیں۔ سائوتھ افریقا بیبی اینڈ چائلڈ ریپ اور ہراسمنٹ کے حوالے سے بھی دنیا کا بدنام ترین ملک ہے۔ تیسرے نمبر پر سوئیڈن آتا ہے جہاں ہر چار میں سے ایک عورت ریپ کا شکار ہے۔ چوتھے نمبر پر ریپستان بھارت آتا ہے جہاں ہر 22منٹ بعد ریپ کا ایک کیس رجسٹر کیا جاتا ہے۔ پانچواں نمبر انگلینڈ جہاں پانچ میں سے ایک عورت کو جنسی تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے، چھٹے نمبر پر جرمنی ہے جہاں 2001-18 تک 65لاکھ سے زائد ریپ کیس رجسٹر ہوچکے ہیں، ساتویں نمبر پر فرانس ہے جہاں 1980 تک ریپ کوئی جرم ہی نہیں تھا۔ 1992 میں عورتوں پر جنسی اور جسمانی تشدد کے انسداد کا قانون بنایا گیا۔ یہاں سالانہ 75ہزار ریپ کیسز ریکارڈ ہوتے ہیں۔ خواتین سے بدسلوکی اور ریپ کے حوالے سے آٹھواں بڑا ملک کینیڈا ہے جہاں 2001-18 تک 25لاکھ سے زائد کیسز ریکارڈ ہوچکے ہیں۔ سرکاری محکموں کا کہنا ہے کہ یہ رجسٹرڈ کیسز ٹوٹل کا چھ فی صد بھی نہیں ہیں۔ نواں بڑا ملک سری لنکا ہے۔ دسواں ملک ایتھوپیا ہے جہاں کی 60فی صد خواتین کو جنسی ہراسگی کا سامنا ہے اور ہر 17میں سے ایک خاتون زیادتی کا شکار ہے۔ یہ وہ اعداد وشمار ہیں جو ریکارڈ کیسز کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں جبکہ غیر ریکارڈ کیسز کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے۔
بھارت کو چھوڑ کر یہ تمام عیسائی اور ترقی یافتہ ممالک ہیں جہاں مجرموں کو پکڑنے کے لیے بہترین میکنزم، محکمے اور اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔ عدالتی نظام بھی شاندار ہے لیکن اس کے باوجود ریپ کیسز کی صورتحال انتہائی بھیانک ہے۔ اس کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو زنا اور جسم فروشی کو ازقسم آزادی قرار دیتا ہے۔ عریانی اور فحاشی اور اس کے متعلقات کو انڈسٹری کا درجہ دیتا ہے۔ جنسی مناظر سے بھرپور فلموں، پورن ویڈیوز اور اسی طرح کی دیگر ان گنت خرافات کے ذریعے لوگوں کو جنسی درندگی پر اکساتا ہے اور پھر انہیں گرفتار کرنے کے لیے محکمے اور عدالتیں تشکیل دیتا ہے لیکن دوسری طرف اس بات کا پورا خیال رکھا جاتا ہے کہ مجرموں کو سخت سزائیں نہ دی جائیں، انہیں نشان عبرت نہ بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہترین تفتیشی اور عدالتی نظام ہونے کے باوجود ان ممالک میں ریپ اور جنسی جرائم کی شرح بھیانک صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس صورتحال سے صرف اسلامی تعزیری قوانین سے نمٹا جاسکتا ہے۔ اسلامی حدیں اور سزائیں جرم کی سنگینی کے پیش نظر اور معاشرتی نفسیات کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ ان سزائوں کے مقاصد بنیادی طور پر دو ہیں: ایک یہ کہ مجرم اپنے جرم کا بدلہ پائے، اس کا انجام جھیلے اور سزا کا خوف اس کے دل سے جرم کی خواہش ختم کردے، دوسرے یہ کہ یہ سزائیں دیگر افراد کے لیے عبرت کا باعث ہوں، ان کے ذہنوں میں ہر وقت یہ بات تازہ رہے کہ اگر انہوں نے ان جرائم کا ارتکاب کیا تو انہیں بھی ویسے ہی بھیانک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ شعور انہیں ارتکابِ جرم سے باز رکھے گا اور ان میں مجرمانہ ذہنیت نہیں پنپنے پائے گی۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسی لیے اپنی آخری کتاب میں قراردیا ہے ’’اے عقل وخرد رکھنے والو تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ (البقرہ: 179)