شرح سود 7 فیصد رکھنے کا فیصلہ کورونا کی دوسری لہر معاشی نمو کیلیے خطرہ ہے ، اسٹیٹ بینک

125

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے پیر23 نومبر کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم پی سی نے کہا کہ ستمبر 2020ء سے معاشی بحالی نے بتدریج زور پکڑا ہے ،جو مالی سال21ء میں 2 فیصد سے تھوڑی سی زاید نمو کی توقعات کے مطابق ہے، اور کاروباری احساسات مزید بہتر ہوئے ہیں تاہم اس منظرنامے کو خطرات درپیش ہیں‘ پاکستان اور بیشتر دیگر ممالک میں کووڈ19 کے کیسز میں حالیہ اضافہ نمو میں کمی کے خاصے خطرات کو سامنے لا رہا ہے‘ ویکسین کی تیاری کی حالیہ خبریں حوصلہ افزا
ہیں گوکہ اس پر دنیا بھر میں عملدرآمد ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ مہنگائی کا بنیادی سبب غذائی اشیا کی قیمتوں کا بڑھنا ہے جو رسد میں کمی کے باعث ہے تاہم اس رسدی دباؤ کے عارضی ہونے کا امکان ہے اور اوسط مہنگائی کے مالی سال 21ء کے لیے سابق اعلان کردہ حد 7-9 فیصد کے اندر رہنے کی توقع ہے۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا ہے کہ آئندہ سہ ماہی کے دوران نمو کو بڑھانے کے لیے وبا کے دوران دی گئی نمایاں مالیاتی، زری اور قرضہ جاتی تحریک جاری رہنی چاہیے۔ حقیقی شعبے میں حالیہ اعداد و شمار جولائی سے دیکھی جانے والی معاشی بحالی کی مزید مضبوطی اور وسعت کو ظاہر کرتے ہیں جو تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کی بدولت ممکن ہوئی۔ مالی سال21ء کی پہلی سہ ماہی میں جلد فروخت ہونے والی صارفی اشیا کی فروخت بحال ہوئی‘ پیٹرولیم مصنوعات اور گاڑیوں کی اوسط فروخت کا حجم مالی سال 20ء میں کورونا کی وبا سے پہلے کی سطح سے بڑھ چکا ہے اور سیمنٹ کی فروخت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) میں بحالی کا عمل جاری ہے اور مالی سال21ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس میں4.8 فیصد سال بسال توسیع ہوئی جبکہ گزشتہ برس کی اسی سہ ماہی میں 5.5 فیصد سکڑائو دیکھا گیا تھا۔ مینوفیکچرنگ کے15میں سے9 شعبے پیداوار میں اضافے کے عکاس ہیں جن میں ٹیکسٹائل، غذا اور مشروبات، پیٹرولیم مصنوعات، کاغذ اور گتہ، ادویات، کیمیکل، سیمنٹ، کھاد اور ربڑ کی مصنوعات شامل ہیں۔ ایم پی سی نے کہا کہ کووڈ وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت کی فراہم کردہ تحریک ، پالیسی ریٹ میں کٹوتیوں اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بروقت اقدامات سے بحالی میں مدد مل رہی ہے۔ زراعت کے شعبے میں کپاس کی پیداوار میں متوقع کمی کے اثرات کی تلافی دیگر اہم فصلوں میں نمو اور امدادی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے گندم کی بلند پیداوار، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر حال ہی میں اعلان کردہ زر اعانت کی بدولت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ سماجی فاصلہ بدستور خدمات کے شعبے کے بعض حصوں پر ابھی تک منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، تاہم تھوک اور خردہ تجارت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور زراعت میں جاری تیزی کے بالواسطہ اثرات سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ بیرونی شعبہ مسلسل بہتری کی راہ پر گامزن ہے اور5 برس سے زاید عرصے میں پہلی مرتبہ مالی سال 21ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران جاری کھاتہ فاضل رہا۔ مالی سال کے ابتدائی 4 مہینوں میں مثبت حدود میں رہنے کے بعد اکتوبر تک مجموعی جاری کھاتہ بڑھ کر1.2ارب ڈالر کے فاضل تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں 1.4ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔ صورت ِحال کو بدلنے میں تجارتی توازن میں بہتری اور ریکارڈ ترسیلات ِزر سے مدد ملی۔ ستمبر اور اکتوبر میں برآمدات بحال ہو کر کورونا وائرس سے پہلے کی سطح تقریباً2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ مضبوط ترین بحالی ٹیکسٹائل، چاول، سیمنٹ، کیمیکلز اور دوا سازی میں ہوئی۔ جولائی تا اکتوبر کے دوران ترسیلات ِزر میں26.5 فیصد (سال بسال) کی مضبوط نمو ہوئی ۔ اس دوران پست ملکی طلب اور تیل کی کم قیمتوں کے باعث درآمدات اب تک قابو میں رہی ہیں‘ پاکستانی روپے کی قدر میں ساڑھے 3 فیصد اضافے میں مدد ملی اور بیرونی بفرز مزید مضبوط ہوئے جس سے اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر12.9ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو فروری2018ء کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ اب تک کی کارکردگی کی بنیاد پر بیرونی شعبے کے امکانات میں مزید بہتری آئی ہے اور مالی سال21ء کے لیے جاری کھاتے کا خسارہ اب جی ڈی پی کے2 فیصد سے کم رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پست نان ٹیکس محاصل کے باوجود مالی سال 21ء کی پہلی سہ ماہی میں بنیادی توازن جی ڈی پی کا 0.6 فیصد فاضل رہا‘ بھاری ملکی سودی ادائیگیوں کے سبب مجموعی بلند بجٹ خسارے میں بتدریج کمی آنی چاہیے جب شرح سود میں حالیہ کمی کے فوائد پہنچنے لگیں۔ اس سال ابتدائی 4 ماہ میں پی ایس ڈی پی کی رقوم کے اجرا میں 12.8 فیصد (سال بسال) اضافہ ہوا۔ محاصل کے سلسلے میں وبا کے دوران کاروباری اداروں کی مدد کرنے کے لیے ریفنڈز میں تیزی کے باوجود، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، جو جولائی تا اکتوبر کے دوران 4.5 فیصد (سال بسال) درج کیا گیا ، اور وصولیاں ہدف کے قریب آگئیں۔