جمپوریت زوال پذیر نہیں ، دنیا بھر میں لیڈر شپ کا معیار گر رہا ہے

165

 

کراچی (رپورٹ /محمد علی فاروق) انتخابات میں دائیں بازو یا انتہا پسند شخصیات کی کامیابی جمہوریت کی ناکامی نہیں بلکہ اس کا امتحان ہے۔ امریکا ،یورپ اور بھارت میں موجود غیر جمہوری رویے اور غلط اقدارجمہوریت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس وقت دنیا میںجسے جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے وہ دراصل اکثریت کی تقسیم کا نام ہے۔دنیا میں ہمیشہ اکثریت تقسیم ہوجاتی ہے اوراقلیت اقتدارپر تسلط جمالیتی ہے۔نائن الیون کے بعد مسلم ممالک کی لیڈر شپ کے غیر سنجیدہ رویے نے یورپ اور امریکا میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو پروان چڑھنے کا موقع دیا۔جمہویت زوال
پذیر نہیں بلکہ پوری دنیا میں لیڈر شپ کا معیار انتہائی پست ہوتا جارہا ہے ،جس کی وجہ سے ہر ملک کا نظام غیر مستحکم ہورہا ہے۔ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر قانون پروفیسر این ڈی خان ،جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم خان ،سابق سفارت کار جمیل احمد خان اورسیاسی وبین الاقوامی امور کے ماہرین ڈاکٹر رسول بخش رئیس اور ڈاکٹر ہما بقائی نے جسارت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسراین ڈی خان نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ غیر متوازن شخصیات کے انتخاب سے جمہوریت ناکام ہوئی ہے۔پوری دنیامیں ردو بدل ہورہا ہے۔ہر ملک کا نظام غیر مستحکم ہورہا ہے۔امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں جہاں جمہوریت 250سال پرانی ہے وہاں بھی اب اس پر مشکل وقت آیا ہوا ہے۔ وقت کے ساتھ حکمرانوںکا معیار گررہا ہے۔امریکا جہاں کبھی جان کینیڈی ،ابراہم لنکن اور ریگن جیسے صدور ہوتے تھے وہاں اب لوگ ٹرمپ جیسے حکمرانوں کو سامنے لارہے ہیں۔اسی طرح بھارت میں نہرو ،گاندھی اور مرار جی ڈیسائی کی جگہ من موہن سنگھ اور مودی جیسے لوگوں نے لے لی ہے۔ہم اپنے ملک کی بات کریں تو قائد اعظم محمد علی جناح ،لیاقت علی خان اور ذوالفقار علی بھٹو جیسی لیڈر شپ کے مقابلے میں آج ہمارے ہاں ایک کھلاڑی حکمرانی کررہا ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جمہوریت ناکام ہوگئی ہے بلکہ ہم اسے لیڈر شپ میں معیار کی کمی کہہ سکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ جہاں ایک جانب دنیا ترقی کررہی ہے وہیں افراد اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے معیار میں بھی کمی آرہی ہے اور غیر متوازن شخصیات عوام کا انتخاب بن رہی ہیں۔پوری دنیا میں ایسے رہنماؤں کو گنتی میں شمار کیا جاسکتا ہے کہ جو ایک وژ ن رکھتے ہوں۔کسی بھی نظریے کے فروغ کے لیے اہل شخصیات کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو درست کرنا ہوگا۔جماعت اسلامی کے رہنما پرو فیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ اس وقت دنیا میںجسے جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے وہ دراصل اکثریت کی تقسیم کا نام ہے۔دنیا میں ہمیشہ اکثریت تقسیم ہوجاتی ہے اوراقلیت اقتدار پر تسلط جمالیتی ہے۔اکثریت کا ووٹ اس کے خلاف پڑتا ہے۔ اس کی ایک مثال ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہے۔گزشتہ امریکی انتخابات میں ہیلری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ پاپولر ووٹ حاصل کیے تھے لیکن الیکٹرول کالج میں 270ووٹ لے کر ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہوگئے۔یہ ایک طرح سے عوام کے ووٹوں کے ساتھ مذاق ہے۔انہوںنے کہا کہ اسلام ہی اصل جمہوریت کی راہ ہموار کرتا ہے۔اسلام میں جمہوریت نہیں بلکہ شورائی نظام ہے اور اسلام شورائی نظام کو لانا چاہتا ہے ،جس میں اللہ رب العزت کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔اس وقت جو جمہوریت ہے وہ درحقیقت جمہوریت نہیں ہے۔سابق سفارتکار محمد جمیل احمد خان نے کہا کہ 9\11 کے بعد دنیا میں ایک تھر تھلی مچ گئی اور مسلم دنیا غیردانستہ طور پر ایسے دلدل میں پھنسی گئی جس نے یو رپ میں دائیں بازوکے سیاستدانوں کو پذیرائی بخشنے کا آغاز کر دیاجبکہ امریکا جو روشن خیالی کا دعویدار ہے اس نے دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو منتخب کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کی لیڈر شپ اپنے عیش وعشرت میں مصروف رہی اور ایسا کو ئی مجموعی یا انفرادی قدم نہیں اٹھا یا کہ جس میں تصنیف وتعلیم ، سائنس ، تحقیق یا ذارائع ابلاغ پر کچھ رقم خرچ کر تے ہوئے ایسے ادارے بنائے جاتے جو یورپ یا امریکا میں رہنے والے دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے افراد کے ذہنوں کو دلا ئل کی روشنی میں کو ئی درست سمت دکھانے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی خوبصورتی یہ ہے کہ اگر یہ کسی خرابی کو جنم دیتی ہے تو اسی نظام کے تحت اس کا ازالہ بھی کیا جاتا ہے ، جیسا کہ امریکا کے حالیہ انتخابات میں ثابت ہوا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ لوگوں نے جوبائیڈن کا انتخاب کیا۔انہوں نے کہا کہ گو کہ پڑوسی ملک ہندوستان میںبھی شدت سے دائیں بازو انتہا پسند مودی نفرت کی بنیاد پر جیت کر اپنے منصب پر فائز ہوا لیکن اس کی ایک قدیم تاریخ ہے لیکن ضرور ی نہیں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ بھارت میں برسراقتدار رہے۔جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ وہ وقت اور حالات کے ساتھ اپنا فیصلہ تبدیل کرتی رہتی ہے۔ڈاکٹررسول بخش رئیس نے کہا کہ جمہوریت کا کسی جماعت ،نظریے یا شخصیت کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں ہوتا ہے۔یہ ضروری نہیں ہے کہ جمہوری نظام میں ہمیشہ روشن خیال اور لبرل ازم پر عمل پیرا افراد ہی آگے آئیں۔ لوگ مختلف جماعتوں کے افراد کوایک مسابقتی ماحو ل میں ووٹ دیتے ہیں اور یہ جماعتیں مختلف نظریات کی حامل ہوتی ہیں۔کبھی انتخابات میں کسی ایک نظریے کی تو کبھی دوسرے نظریے کی جماعت کامیاب ہوجاتی ہے اس کو ہم جمہوریت کی ناکامی نہیں کہہ سکتے ہیں تاہم اس کے اثرات معاشرے پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہر ملک کا اپنا الگ کیس ہے۔اگر پاکستان ،بھارت اور امریکا کی بات کریں تو ان ممالک میں عمران خان ،ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی کامیابی میں ایک بات مشتر ک نظرآتی ہے اور وہ ان شخصیات کی پہلے سے موجود سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے خلاف مہم ہے۔ان شخصیات نے اپنی جماعتوں کے ساتھ پرانے چہروں کو چیلنج کیا اور انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ڈاکٹرہما بقائی نے کہا کہ انتخابات میں دائیں بازو یا انتہا پسند شخصیات کی کامیابی جمہوریت کی ناکامی نہیں بلکہ اس کا امتحان ہے۔ان شخصیات کے انتخاب سے جمہوریت کمزور بھی ہوئی ہے۔غیر جمہوری رویوں اور غلط اقدار امریکا ،یورپ اور اب بھارت میں پروان چڑھ رہے ہیں۔یہ جمہوریت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔انہوںنے کہا کہ جمہوریت کو مانیٹر کرنے والے مبصرین کہتے تھے کہ اگر ٹرمپ جیت گئے تو یہ جمہوریت کی ہار ہوگی۔ٹرمپ کے ہارنے کے بعد بھی لوگوں کے کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ کھڑی ہے۔یہ غیر جمہوری رویے درحقیقت جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اگر پاپولرزم کی بنیاد پر کوئی شخص اقتدار حاصل کر بھی لے تو یہی جمہوریت اسے باہر بھی نکال سکتی ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ اچھے اقدار کی قدر کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو آگے لایاجائے جو معاشرے کو درست سمت میں گامزن کرنے کے لیے اپناکردار ادا کرسکتے ہوں۔