عوام ساتھ مل کر حقوق حاصل کریں گے ، حافظ نعیم

142
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں پبلک ایڈ کمیٹی کے تحت عوامی مسائل بیٹھک سے خطاب کررہے ہیں

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ ہم حکومت میں نہیں ہیں اور سرکاری مشینری اور اختیارات ہمارے پاس نہیں لیکن ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش اور جدو جہد کریں گے۔ ہم قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے لیکن عوام کے ساتھ مل کر اپنے حقوق لینا خوب جانتے ہیں۔ آج عوامی مسائل بیٹھک کا آغاز ہے اب شہر بھر میں ایسی بیٹھکیں منعقد کی
جائیں گی۔کورونا کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے۔ حکومت کو ماضی کے واقعات اور نتائج کا علم ہے۔ اس لیے نقصانات کی روک تھام کے لیے ابھی سے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ہم سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مہیا انتظامات و سہولیات کی باقاعدہ مانیٹرنگ کریں گے۔عوام کی آواز بنیں گے اور عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں پبلک ایڈ کمیٹی کے تحت عوامی مسائل بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عوامی مسائل بیٹھک سے پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری نجیب ایوبی، نائب صدر نصیر اللہ حسینی اور دیگر نے خطاب کیا۔شرکانے مختلف حکومتی اداروں اور محکموں کے حوالے سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی حکمران ہے اورکراچی میں ایم کیو ایم کا 4 سال تک میئر رہا ہے ان سب کی نااہلی اور مسائل سے لاتعلقی نے عوام کو آج بے شمار مسائل سے دوچار کر رکھا ہے۔ ہم نے کے الیکٹرک کے خلاف آواز اْٹھائی اور عوام کی آواز بنے۔ عدالت عظمیٰ میں وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو بچانے اور اس کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ یکطرفہ بریفنگ نہ لیں کراچی کے شہریوں اور جماعت اسلامی کا موقف بھی سنیں۔ ہم یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ میں ہماری دائر کردہ پٹیشن کو بھی سنا جائے جوکہ کئی سال سے زیر التوا ہے۔ ہم نے نیپرا میں بھی کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑا ہے اور واحد جماعت اسلامی ہے جو کے الیکٹرک کے خلاف کھڑی ہوئی ہے۔ ہم چیئر مین نادرا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نادرا کے حوالے سے مسائل حل کریں۔ شہر میں میگا سینٹرز میں اضافہ کیا جائے۔ بحریہ ٹاؤن میں لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگائی ہوئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ کامیاب ہو مگر ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کے ہزاروں الاٹیز جن مسائل کا شکار ہیں ان کو دور کیا جائے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں بصورت دیگر ہمارے پاس احتجاج کے تمام آپشن موجود ہیں۔ اسی طرح نیا ناظم آباد کے مکینوں کو بھی حالیہ بارشوں میں شدید پریشانی ہوئی ہے۔ امید ہے کہ مسئلہ ضرور حل ہو گا۔سوسائٹی کے ذمے داران کو مسائل حل کرنے ہوں گے۔ شہر میں ہاؤسنگ اسکیموں سے لوگوں کو بڑے مسائل ہیں اور شہر میں ایک بڑی مافیا ہے جن کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان اسکیموں اور سوسائیٹیوں میں بھی لوگوں کی بھاری رقوم لگی ہوئی ہیں ، ہم ان کو ہر گز نہیں ڈوبنے دیں گے،پبلک ایڈ کمیٹی نے اب اس مسئلے کو بھی ٹیک اوور کیا ہے اور متاثرین کو ریلیف ضرور ملے گا، بارشوں میں پورا کراچی ڈوب گیا۔ سندھ حکومت، کے ایم سی ناکام ثابت ہوئی اور وفاقی حکومت نے بھی اپنا کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔ بڑی بڑی کمیٹیاں بنیں 11سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا گیا مگر عملاً کوئی کام نہیں کیا گیا۔ سرکلر ریلوے کے نام پر اب کراچی کے شہریوں سے بھونڈا مذاق کیا گیا۔ عوام اسے مسترد کرتے ہیں۔ آج جس ٹریک پر ٹرین چلائی گئی ہے اس کا افتتاح تو نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے دور میں کیا گیا تھا۔ کراچی مسائلستان بن گیا ہے۔ 11سو ارب کا پیکج ایک دھوکا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے۔ حقوق کراچی تحریک، عوام کے حقوق اور مسائل کے حل کی تحریک ہے۔ ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، سانحہ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین کو تاحال انصاف نہیں ملا ہے۔ جرمنی کمپنی سے جو رقم ملی تھی وہ بھی ادا نہیں کی گئی، لوگوں کو زندہ جلانے والوں اور اس کے ماسٹر مائنڈز کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کراچی کی آدھی آبادی کو مردم شماری میں غائب کر دیا گیا ہے کوٹا سسٹم میں غیر معینہ مدت تو سیع کی گئی، کراچی کے نوجوانوں کا حق مارا گیا ہے، پی ٹی آئی کی حکومت مافیاؤں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ مسائل کے حل کے لیے عوامی بیٹھک شروع کی ہے اور اب یہ روزانہ لگے گی اور عوام کے مسائل حل کرانے کی کوشش کی جائے گی، یہ بیٹھک اب شہر بھر میں لگے گی۔ کورونا کی وبا میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام ہو ئی ہیں۔ سندھ حکومت نے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا۔ بتایا جائے کہ ورلڈ بینک کی رقم کہاں خرچ کی گئی۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ادارہ نور حق واحد دفتر ہے جو کراچی کے شہریوں کا ہے۔ جہاں لوگوں کے مسائل سنے جاتے ہیں اور متعلقہ اداروں سے رابطے کر کے ان کو حل کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج جن لوگوں نے بھی اپنے مسائل بیان کیے ہیں۔ہم ہر مسئلے کو ان کے متعلقہ اداروں سے حل کرائیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے وسائل اور اختیارات کے مطابق لوگوں کے مسائل حل کرانے کی کوشش کریں گے۔عوامی مسائل بیٹھک میں کے الیکٹرک، نادرا واٹر بورڈ، بحریہ ٹاؤن، نیاناظم آباد، جعلی ہاؤسنگ اسکیموں سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے الگ الگ ڈیسک قائم کی گئی تھیں جہاں متاثرین نے اپنی شکایات درج کرائیں۔ عوامی مسائل بیٹھک سے سانحہ بلدیہ متاثرین ایکشن کمیٹی کے رہنما صابر احمد، پی آئی ڈی سی ہاؤسنگ اسکیم، گلشن رومی، گلشن توحید، عزیزآباد سوسائٹی، پاک آڈٹ سوسائٹی، آئیڈیل سوسائٹی، محمود آباد نالے اور کے الیکٹرک،بحریہ ٹاؤن کے متاثرین، نیا ناظم آباد کے فہیم، نادرا کے طاہر امیر الحسن، کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کے متاثرہ شاہین اور ان کی اہلیہ، کے ڈی اے آل کراچی کنٹریکٹر ایشن کمیٹی کے رضوان خان شانی، کنٹریکٹر ایکشن کمیٹی، ماہم سٹی فیز 2 کے محمد جواد، مون گارڈن کے سید قطب، نارتھ کراچی باب السلام کے قبضہ مافیا کے متاثرین کے علاوہ کنیز فاطمہ سوسائٹی کے محبوب،میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے طلبہ کے وفد کے سربراہ محمد شامل، منظور کالونی کے آصف کشمیری، نارتھ کراچی سیکٹر9شجاعت ہاشمی،گلشن توحید کے شکیل ہاشمی،گارڈن سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری ناظر اقبال نے مسائل بیان کیے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں پبلک ایڈ کمیٹی کے تحت عوامی مسائل بیٹھک سے خطاب کررہے ہیں