کئی ممالک کورونا ویکسین کی زیادہ قیمت پر پریشان ، مشترکہ جدوجہد پر زور

42

 

ریاض/ ماسکو (آئی این پی )کئی ممالک کو کورونا ویکسین کی زیادہ قیمت پر پریشانی کے پیش نظر عالمی رہنمائوں نے کورونا کو روکنے اور اس کی ویکسین فراہم کرنے کے لیے عالمی کوششوں کا ساتھ دینے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب ایک خاندان ہیں‘ کورونا کا مقابلہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ ریاض میں جی ٹوئنٹی ورچوئل سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے کہا ہے کہ جی ٹوئنٹی کے رہنماؤں کو کورونا ویکسین کی کم قیمت اور منصفانہ رسائی کے لیے کام کرنا چاہیے‘ ہم کورونا ویکسین، علاج اور اس کی تشخیص کے آلات کی تیاری کے بارے میں پرامید ہیں ‘ ہمیں تمام لوگوں کے لیے کم قیمت منصفانہ رسائی کے لیے کام کرنا چاہیے‘ بہتر مستقبل کے حصول کے
لیے ہم اپنی ذمے داریاں انجام دیتے رہیں گے‘ہمیں اپنی معیشت کی بحالی اور سرحدیں کھولنے کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ تجارت ہو اور لوگ سفر کرسکیں‘ کورونا وبا نے بڑا دھچکا پہنچایا اور پوری دنیا کو اقتصادی اور سماجی نقصانات سے دوچار کیا‘ ہمیں ترقی پذیر ملکوں کی مدد کرنا ہوگی۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خطاب کرتے ہوئے ضروت مند ممالک کو روس میں تیار کردہ کورونا ویکسین اسپوٹنک وی کی فراہمی کی پیشکش کی اور کہا کہ ہر شخص کو موثر اور محفوظ کورونا ویکسین فراہم ہونی چاہیے جس کے لیے روس ضرورت مند ممالک کو اپنی خدمات پیش کرتا ہے‘ روس دنیا کو منصفانہ طور پر موثر اور محفوظ کورونا ویکسین کی فراہمی کے مسودے کا حامی ہے اور ضرورت مند ممالک کو اپنی کورونا ویکسین اسپوٹنک وی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ کورونا کی وبا نے پھر ہمیں یاد دلایا ہے کہ مذہب، زبان اور جغرافیہ کے امتیاز کے بغیر ہم سب ایک خاندان ہیں۔اٹلی کے وزیر اعظم نے جی ٹوئنٹی کے پلیٹ فارم سے اتحاد اور یکجہتی کی اپیل کی۔ جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ کورونا کو بڑھنے سے روکنے اور اس کی ویکسین فراہم کرنے کے لیے عالمی کوششو ں کا ساتھ دیں گے’ سعودی عرب میں منعقدہ جی ٹوئنٹی ورچوئل سربراہی کانفرنس سے پوری دنیا کو روشنی ملے گی۔ جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے کہا کہ جی ٹوئنٹی دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی 2 ارب خوراکیں تقسیم کرے گا ‘ دنیا بھر کے لوگ مل کر وبا سے نمٹ سکتے ہیں‘جی ٹوئنٹی وبا کے حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ ’تاریخی ذمے داری کا تقاضا ہے کہ ہم سب کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے صف بستہ ہوجائیں‘ہمارے سامنے ایسا صحت بحران ہے جو لاکھوں لوگوں کی زندگی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ ارجنٹینا کے صدر البرٹو فرنانڈس نے کہا کہ دنیا بھر کے ملکوں کو کورونا ویکسین اور اس کا علاج فراہم کرنا ہوگا۔ برازیل کے صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کورونا وبا کے تناظر میں پوری دنیا کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترقی پذیر اور قرضوں سے بوجھل ممالک سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ اسپین کے وزیراعظم نے کہا کہ ہم کورونا وائرس کے مسائل کے سلسلے میں جی ٹوئنٹی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔