اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 2 سال میں 75 فلسطینی بچے شہیدہوگئے

34

مقبوضہ غزہ (آن لائن) فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے بتایا ہے کہ جنوری 2018 ء کے بعد اب تک اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 75 فلسطینی بچے شہید اور 5 ہزار 137زخمی یا معذور ہوئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مرکز برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا
کہ اسرائیلی ریاست کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 66 فلسطینی بچے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئے۔ گرفتار کیے گئے فلسطینی بچوں میں سے 70 کو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گرفتار بچوں کے والدین کو بھی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں ہراساںکیا گیا۔ گزشتہ 2 سال کے دوران اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینیوںکے مکانات کی مسماری کے نتیجے میں 177فلسطینی بچے گھروں سے محروم جبکہ 1001 بچے جزوی متاثر ہوئے۔ اس دوران اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں618 بچے اپنے خاندان کے کم سے کم ایک فرد سے محروم ہوئے۔