ناردرن بائی پاس فلیٹ اسکیم‘ نہ بجلی، پانی نہ گیس‘ قبضہ لو یا بیچ دو

44

سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی ناردرن بائی پاس اسکیم پر 8 سال سے الاٹی ورکر انتظار کررہے تھے کہ کب عدالت عالیہ سندھ اسٹے آرڈر کو خارج کرے اور کسی طرح ان غریب مزدوروں کو اپنے فلیٹوں کا قبضہ مل جائے۔ بالآخر عدالت عالیہ نے اسٹے آرڈر خارج کرتے ہوئے الاٹیوں کو فلیٹ کا قبضہ دینے کی بندش ختم کردی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فی الوقت اس دور دراز علاقہ میں بنیادی ضروریات زندگی دستیاب ہی نہیں اور نہ ہی پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت۔ سب سے اہم چیز 3ہزار فلیٹوں کی اس اسکیم میں نہ ہی بجلی ہے نہ پانی اور نہ ہی گیس فراہم کی گئی ہے اور فلیٹ کا قبضہ دینے کی نوید سنائی جارہی ہے۔ جبکہ بورڈ افسران کے لے پالک بروکر فلیٹ سائٹ پر بڑے دھڑلے سے خرید و فروخت کے لیے ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔ حسب سابق بورڈ افسران کی مافیا فلیٹ پر قبضہ خطہ کے جاری کرنے میں تو بذریعہ بروکر سرگرم عمل ہے لیکن بجلی، گیس، پانی فراہم کرنے میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے جیسا کہ گلشن معمار فلیٹ اسکیم میں کیا گیا کہ تنگ آکر 50 فیصد (تقریباً 500) الاٹیز نے اپنے فلیٹ بروکر مافیا کو فروخت کردیے۔ اس طرح مذکورہ فلیٹ سائٹ ناردرن بائی پاس پر بھی یہ طریقہ واردات اپنایا جارہا ہے اور الاٹیز ورکرز کو مایوس و ناامید کرنے کے لیے بذریعہ بروکر مافیا کہا جارہا ہے کہ ابھی دو سال تک بجلی، پانی اور گیس کو بھول جائو اگر فلیٹ کی اچھی قیمت چاہتے ہو تو ہم حاضر ہیں۔ اس طرح یہ مافیا 50 فیصد سے زائد فلیٹ یہاں بھی خرید لے گی اور ان کو بھاری قیمت پر فروخت کرنے سے پہلے بورڈ کی کرپٹ نوکر شاہی تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن بنادے گی۔ تمام الاٹیز ورکرز متحد ہو کر مطالبہ کریں کہ جلد از جلد بجلی، پانی و گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وگرنہ اگر مافیا کی باتوں میں ان کو نذرانہ دے کر پزیشن لیٹر حاصل کرلیا تو پھر اگلے دو سے تین سال مذکورہ سہولیات میسر ہونے کا انتظار فرمائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر محنت سے درخواست ہے کہ 3 ہزار سے زائد مزدور الاٹیز کو جلد از جلد بنیادی ضروریات کی فراہمی کے احکامات صادر فرمائیں۔(متاثرہ مزدور)
ناردرن بائی پاس کے فلیٹس آبادکاری سے قبل ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوگئے