ای او بی آئی سینٹرل اور ویسٹ وہارف آفس کی منتقلی

40

ای او بی ای – ایمپلایز اولڈ ایج بینفٹ انسٹیٹیوشن کا بنیادی مقصد ریٹایرڈ، ضعیف، معزور اور بیوہ صنعتی اور تجارتی مراکز کے ورکرز ان کے لواحقین کو پنشن اور بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ریجنل دفاتر قایم کیے گے ہیں جہاں آسانی سے رسای حاصل ہو سکے ، پاکستان کے سنیر سٹیزن ہونے کے ناطے بھی وہ تمام سہولیات جو بزرگ شہریوں کو حاصل ہونی چاہیے سے محروم کر دیا گیا ہے اور ریجنل دفاتر کی غیر مناسب جگہوں پر منتقلی اور وہ بھی بغیر کسی نوتس کے ناقابل فہم ہے۔
ریجنل آفس کراچی سنٹرل اور ریجنل آفس ویسٹ وہارف گراؤنڈ فلور پر قائم تھے لیکن ان دفاتر کے عوامی مرکز منتقل ہونے سے بوڑھے اور معذور پنشنرز کو سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانا ہوگا حکومت کی واضح ہدایات ہیں کی سرکاری دفاتر ایسی جگہ قائم ہونے چاہئیں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعہ آسانی سے پہنچا جا سکے اور ریجنل آفسوں میں معذور پنشنرز کے لئے ریمپ، سایہ دار جگہ اور پینے کے پانی کا انتظام ہونا چاہئے۔ عوامی مرکز تک پہنچنا اور ریجنل آفس پہنچنے کے لئے سیڑھیاں چڑھنا بوڑھے اور معذور پنشنرز کے لئے تکلیف کا باعث ہوگا۔ لیکن ای او بی آئی کے افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر اور بوڑھے اور معذور پنشنرز کو درپیش مسائل کو نظر انداز کرکے فیصلے کر رہے ہیں۔
کراچی شہر میں ای او بی آئی کے 7 ریجنل آفس قائم ہیں جن میں کورنگی انڈسٹریل ایریا کے لئے کورنگی، لانڈھی اور بن قاسم کے انڈسٹریل ایریا کے لئے بن قاسم، سائٹ کے لئے ناظم آباد،آئی آئی چندریگر روڈ اور ویسٹ وہارف کے انڈسٹریل ایریا اور تجارتی اداروں کے لئے ویسٹ وہارف، فیڈرل بی ایریا اور سپر ہائی وے کے انڈسٹریل ایریا کے لئے کریم آباد اور سوسائٹی اور گلشن اقبال کے تجارتی اداروں کے لئے کراچی سنٹرل گلشن اقبال شامل ہیں۔ ای او بی آئی کے یہ ریجنل آفس کئی برسوں سے انہی علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی ان کی بلڈنگ تبدیل ہوتی رہی ہیں لیکن یہ آفس
انہی علاقوں میں قائم رہے۔ عقیل احمد صدیقی ڈی جی آپریشنز جیسے مزدور دوست افسر کے ای او بی آئی سے جانے کے بعد ادارہ کے پنشنرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ایسے میں ای او بی آئی کی بقراطی انتظامیہ نے کسی اعلان کے بغیر ریجنل آفس ویسٹ وہارف اور کراچی سنٹرل گلشن اقبال سے عوامی مرکز منتقل کردیا ہے۔ جو بوڑھے ورکرز کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے اور ای او بی آئی کا یہ فیصلہ فہم سے بالا تر ہے۔ اس فیصلہ کے نتیجہ میں شہر کے مختلف علاقوں کے بوڑھے ورکرز اور پنشنرز کو عوامی مرکز کے دھکے کھانے پڑیں گے۔ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دفاتر کو گراونڈ فلور اور ان ہی علاقوں میں قایم کیا جاے اور بزرگ پنشنرز اور دیگر اولڈ ایج ستیزن کو بلا وجہ پریشان نہ کیا جائے۔