ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری

360

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان دو سال بعد رابطہ ہوا ہے جس میں تعلقات میں بہتری لانے پر اتفاق رائے ہوا۔ اکتوبر 2018ء میں استنبول کے سعودی سفارتخانے میں صحافی جمال خاشق جی کے قتل کے بعد سے دونوں ممالک میں تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ اگرچہ یہ رابطہ جی 20 سربراہ اجلاس کے حوالے سے ہوا جو سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوا۔ جی 20 اجلاس سے اردوان اور شاہ سلمان نے بھی خطاب کیا۔ دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان گفتگو میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے۔ اس کے علاوہ شاہ سلمان کے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے عالمی وبا سے نمٹنے میں اپنی اہلیت اور صلاحیت ثابت کر دی ہے۔ ترک صدر نے بھی وبا کے منفی اثرات زائل کرنے کے ساتھ نیا عزم دکھانے پر زور دیا ہے۔ اس پوری خبر میں جو بات سب سے زیادہ اہم ہے وہ ترک سعودی رابطہ ہے۔ یقیناً اس رابطے میں سعودی عرب کی مجبوریوں اور ترکی کی ضرورتوں کا دخل بھی ہوگا لیکن عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں امت مسلمہ کے ان دو اہم ممالک کو تعلقات بہتر بلکہ مستحکم رکھنے چاہییں۔ آپس کے اختلافات کو امت کا اختلاف نہیں بننے دینا چاہیے۔ دیکھنا یہ ہے کہ دونوں سربراہان کے اختلافات دور کرنے اور رابطے رکھنے کے عزم کی راہ میں کون کون سی سازشیں رکاوٹ بنتی ہیں اور کہاں کہاں سے حملے ہوتے ہیں۔ امریکا اور دیگر مغربی ممالک سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر خاشق جی قتل کے حوالے سے دبائو ڈالتے ہیں۔ اب یہ دبائو زیادہ آئے گا۔ ان حالات میں شاہ سلمان اور اردوان کو جذبات کے بجائے حکمت سے کام لینا ہوگا۔ بین الاقوامی برادری تو ویسے بھی اس قسم کے کیسز کی تلاش میں رہتی ہے تاکہ مسلم ممالک میں اختلاف پیدا کیا جا سکے۔ اگر سعودی عرب اور ترکی اس دبائو اور سازش سے بعافیت نکل گئے تو امت مسلمہ کو مغرب کے حملوں کے مقابلے میں مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔امت مسلمہ کو مضبوط بنانے کی بات اب تو کتابوں اور تاریخ کے اوراق میں ملتی ہے اور مسلم حکمران بھی اتحاد امت کی برکتوں سے ناواقف ہیں۔ عام طور پر ان کی سوچ کا دائرہ اپنے اقتدار سے آگے تک نہیں ہوتا اور بہت سے حکمران کسی بڑی طاقت کے مرہون منت ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیشہ اس کے سامنے مفاہمت کے لیے تیار رہتے ہیں اسے مفاہمت نہیں ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار کہنا چاہیے۔ لیکن پھر بھی جب یہ بات کہی گئی ہے کہ تعلقات بہتر بنانے کے لیے رابطے جاری رہیں گے تو جاری رہنے چاہییں۔ عالمی وبا کے منفی اثرات کا مقابلہ بھی دونوں ہی ممالک کے مفاد میں ہے۔ دونوں کو سیاحت سے بہت بڑا منافع ہوتا ہے۔ اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔