پی پی پی اور ن لیگ کے الگ الگ سیاسی مفادات لیکن ابو بچائو مہم یکساں ہے

158

 

کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) پی پی پی اور ن لیگ کے الگ الگ سیاسی مفاداتـ ہیں لیکن “ابو بچاو ٔمہم” یکساں ہے‘ نواز شریف نام لے کر جرنیلوں پر تنقید نہیں بلکہ فوج کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں‘ اپوزیشن کا مقصد ملک کے عوامی مسائل کو حل کرنا نہیں صرف اقتدار کا حصول ہے‘ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا زیادہ دیر تک ساتھ چلنا مشکل ہے۔ جسارت سے گفتگو کرتے ہوئیتحریکِ انصاف کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی نصرت واحدی نے کہا ہے کہ بلاول زرداری کے جرنیلوں کی حمایت میں معنی خیز بیان نے بہرحال مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مشکل میں ضرور ڈال دیا ہے‘ اس طرح انہوںنے ایک تیر سے دو شکار کب اور کیسے کرنے ہیں کا فن سیکھ لیا ہے لیکن اصل میں مریم اور بلاول دونوں ہی کا مقصد “ابو بچاؤ مہم کے سوا کچھ نہیں ہے” بلاول نے گلگت بلتستان انتخابات سے قبل اور اپنی طوفانی الیکشن مہم کے دوران بھی یہی رویہ رکھا‘ اب ن لیگ اور ان کے حواری جتنا مرضی اس بیان کی از خود اور غیر ضروری وضاحتیں دیتے پھریں لیکن بلاول نے بات تو واضح کر دی ہے اس لیے ن لیگ اور ان کا زیادہ دیر تک ساتھ چلنا مشکل ہے‘ ساتھ ہی بلاول زرداری نے اپنی مثال بھی دی کہ جب پیپلز پارٹی نے دورانِ الیکشن 2018ء حاضر سروس افسران کے دھاندلی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا تو جماعت کے پاس
ٹھوس ثبوت موجود تھے۔ بلاول زرداری کے بیان کے بعد مسلم لیگ ن پر عوامی دباؤ بڑھا ہے کہ وہ اس سوال کا جواب بھی دے کہ جب آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ ہوا تھا کہ کسی ادارے کا نام لے کر الزام عاید نہیں کیا جائے گا تو پھر گوجرانوالہ جلسے میں کن وجوہات کی بنا پر براہ راست الزامات عاید کیے گئے اور وہ بھی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے تو ایسا کیوں ہوا؟۔ بلاول مستقبل میں میاں نواز شریف کی راہ سے ہٹ کا سیاست کریں گے‘ یہ ایک عجیب بات ہے یہ دونوں پارٹیاں کبھی ایک تھی ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک دوسرے کے خلاف ہمیشہ سے میدان میں رہی ہیں۔ نواز شریف کی طرف سے جرنیلوں پر نام لے کر تنقید نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اس کے برعکس فوج کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ پاکستان کی سرحدوں پر بھارتی فوج جنگ کی تیاری کر رہی ہے اور اپوزیشن فوج کو تاک تاک کر نشانہ بنا نے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے ‘پی ڈی ایم کی سرگرمیوں کا مقصد سینیٹ کے الیکشن ہیں اور اس کے بعد یہ سب کچھ ختم ہو جا ئے گا اور ہم سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کریں گے۔ یونیورسٹی آف گجرات شعبہ سیاسات کے ڈاکٹر عثمان غنی نے کہا کہ گوجرانوالہ جلسے میں نواز شریف نے پہلی بار فوجی قیادت کا نام لیتے ہوئے الزام عاید کیا تھا کہ 2018 ء کے الیکشن میں دھاندلی اور انہیںوزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے میں موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا براہِ راست کردار تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد ملک کے سیاسی اور فوجی حلقوں میں ایک بحث چھڑ گئی تھی۔ کئی حلقوں نے اس بیان کو ’منفی‘ قرار دیا مگر کئی حلقے اس معاملے پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے کہ اس جماعت نے مسلم لیگ (ن) کی طرح واضح مؤقف اپنانے سے اجتناب کیا ہے۔ ڈاکٹر عثمان غنی نے کہا کہ اصل صورتحال یہ تھی کہ پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اور دیگر اجلاسوں میں کیا مسلم لیگ نواز نے پاکستانی فوج کی قیادت یا خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لیا تھا، یا اس بارے میں کوئی اشارہ دیا تھا؟اس پر بلاول زرداری نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی تیاری کے وقت نواز لیگ نے جنرل باجوہ یا جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا۔‘ انہوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ’وہاں (اے پی سی میں) یہ بحث ضرور ہوئی تھی کہ الزام صرف ایک ادارے پر لگانا چاہیے یا پوری اسٹیبلیشمنٹ پر لگانا چاہیے۔ اور اس پر اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نام نہیں لایا جائے گا بلکہ اسٹیبلیشمنٹ کہا جائے گا۔‘ بلاول زرداری کہتے ہیں کہ جب انہوں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں میاں نواز شریف کی تقریر میں براہ راست نام سنے تو انہیں ’دھچکا‘ لگا۔ یہ سب کچھ ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے خطرنا ک ہے‘ اس طرح کی باتیں بھارت کی مدد گار بن رہی ہیں اور بھارتی میڈیا نے اس بات کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے۔ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسا الزام نہیں ہے کہ آپ ایک جلسے میں کسی پر بھی لگا دیں لیکن اے پی سی کے اجلاس کے دوران میں نے ہی یہ شکایت کی تھی کہ جس طرح پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج کی تعیناتی قابلِ مذمت ہے، اس لیے یہ ایک وسیع معانی رکھنے والا لفظ ہے اور آپ کسی ایک شخص کی طرف اشارہ نہیں کر سکتے۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو کہ جلسوں میں اس پر بات نہیں کی جائے گی۔ میرے خیال میں اس بات پر بھی غور کر نا ضروری ہے کہ کون سی بات کہاں کرنی اور کون سی بات کہاں نہیں کر نی‘ ہمارے لیڈران کو یہ سمجھنا ہو گا‘ اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے‘ اپوزیشن کا مقصد ملک کے عوام کے مسائل کو حل کرنا نہیں بلکہ اس کے برعکس ان کا مقصد صرف اقتدار حاصل کر نا ہے ‘ ایک جانب نواز شریف فوج کے سربراہ پر الزام لگا رہے ہیں اور دوسری جانب مریم نواز ایک منتخب حکومت کو برطرف کر نے کے لیے فوج کو دعوت دے ر ہی ہیں‘عوام ان کی منافقت سے واقف ہیں اور ان کبھی کامیاب نہیں ہو نے دیں گے۔ بلاول زرداری نے اپنے بیان میں بھی کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کسی ایک شخص پر الزام یا کسی ایک شخص کا نام… (نہیں لینا چاہیے) اگر آپ انٹرویو کو غور سے دیکھیں تو اِس مخصوص جملے پر بلاول بات کو مہارت سے سیاسی انداز میں گول مول کر جاتے ہیں گویا وہ ن لیگ اور (پی ڈی ایم) کو اب مزید اور مشکل میں بھی نہیں ڈالنا چاہتے لیکن ریکارڈ کی درستی کی نشاندہی بھی بار بار باور کرانا چاہتے ہیں۔ بلاول کے بیان کا انتہائی اہم حصہ وہ ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ (گوجرانوالہ جلسے میں) نواز شریف کی طرف سے (آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا) نام لے کر الزام لگانے سے انہیں دھچکا لگا۔ اب اس بیان کا صاف صاف مطلب ہے کہ بلاول اور پیپلز پارٹی نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے سے اختلاف رکھتے ہیںگویا پی ڈی ایم کے اندر نظریاتی طور پر خلیج تو بہرحال موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے منشور کا بنیادی عنصر کرپشن کا خاتمہ ہے لیکن ایک منظم مافیا معاشرے میں حکومت کے خلاف منفی تاثر کو فروغ دے رہا ہے۔اسی وجہ سے ’ہماری انتظامی تبدیلی کو ناکام بنانے کے لیے جان بوجھ کر افراتفری کی باتیں کی جاتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا مقصد عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مشکلات کے حل کے لیے ہدایات جاری کرنا تھا‘ ترقیاتی کاموں سے متعلق کسی علاقے کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نصرت واحدی نے کہا کہ انتظامی تبدیلی کو ناکام بنانے کے لیے جان بوجھ کر افراتفری کی باتیں کی جاتی ہیں‘ عمراندور حکومت میں پہلی بار بڑے جرائم پیشہ عناصر اور قبضہ مافیا قانون کی گرفت میں آئے ہیں لہٰذا واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم ہرگز دباؤ میں نہیں آئیں گے‘ ہمیشہ چیلنجزکا سامنا کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ سینٹر تا ج حیدر نے کہا کہ جب اسلام آباد آل پارٹیز کانفرنس میں پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تب (نواز شریف مریم نوازسمیت) سب کی اکثریتی رائے سے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ 2018 ء الیکشن کی دھاندلی کا الزام کسی ایک ادارے پر نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو مجموعی طور پر ذمے دار قرار دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ جلسے کی نسبت اے پی سی میں نواز شریف کی تقریر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پر براہِ راست الزامات سے عاری تھی۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیے کہ اے پی سی اور گوجرانوالہ جلسے کے درمیان بظاہر اور پسِ پردہ کئی عوامل اور کارروائیاں راستے کا پتھر بھی بنی تھیں۔ اسلام آباد آل پارٹیز کانفرنس میں پی ڈی ایم نے یہ متفقہ فیصلہ کیا تھا اور بلاول نے اسی بات کی نشاندہی کی ہے ایسا نہیں ہو نا چاہیے۔ اس کے علاوہ یہ بات کہ یہ اتحاد انتخابی بھی ہے کہ نہیں اور راستے الگ الگ ہو جائیں تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں پی ڈی ایم کے قیام کا صرف ایک مقصد ہے کہ عمران خان کو ہٹانا ہے۔ اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی جانب سے گوجرانوالہ جلسے کے دوران بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر براہ راست انتخابات میں دھاندلی اور عمران خان کو برسرِاقتدار لانے کے الزامات پر کہا ہے کہ انہیں’انتظار ہے کہ نواز شریف کب ثبوت پیش کریں گے۔‘ یہ ایک درست طریقہ کا ر ہے۔