اعلانِ جنگ کے بعد میدان چھوڑنا گناہ کبیرہ ہے، مولانا فضل الرحمن

199

پشاور: اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فوج دفاعی ادارہ ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن سیاست میں مداخلت ہوگی تو تنقید بھی کی جائے گی اور نام بھی لیا جائے گا،جنگ کا اعلان کرچکے،میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا  حرام  ہے۔

پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے تحت تاریخی اور فقیدالمثال کانفرنس کے انعقاد پر پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس کی کامیابی اور جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے جو توانائیاں صرف کی ہیں اس پر مبارک باد دیتا ہوں۔پی ڈیم ایم کے سربراہ نے مریم نواز، نواز شریف اور پورے خاندان سے تعزیت کی اور سابق وزیراعظم کی والدہ کی مغفرت کے لیے دعا کی۔انہوں نے کہا کہ میں اس اسٹیج سے جسٹس وقار سیٹھ اور علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر افسوس اور ان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم گجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں جلسہ کیا اور آج اہل پشاور اور خیبر پختونخوا کے عوام نے ریفرنڈم کیا اور عظیم الشان جلسے کے ذریعے دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت کومسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے ہی دن اعلان کیا تھاالیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے اور تمام جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا تھا اور وہ آواز آج عام آدمی کی آواز بن گئی اور اب پوری قوم کی متفقہ آواز ہے اور آج اس جلسے سے حکومت اور اس کے سہولت کار گھبرائے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو نکالنا ہے، ہم اعلان جنگ کرچکے ہیں اور اب جنگ سے پیچھے ہٹنا حرام ہے، ہم چیلنج کردیا ہے اور واضح طور پر کہنا چاہتا ہیں، ہمارا موقف واضح ہے، دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کی گئی ہے، ہمیں دھاندلی کرنے والا بھی معلوم ہے، وہ نامعلوم بھی ہمیں معلوم ہے،ہم فوج کا ادارے کا احترام کرتے ہیں جب وہ دفاعی امور نمٹائیں گے لیکن جب سیاست میں مداخلت کریں گے تو پھر اس کو تنقید کا سامنا کریں گے اور پھر نام بھی لیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دو سال میں معیشت تباہ کردی ہے،ریاست کی بقا کا دارومدار مستحکم معیشت پر ہوا کرتا ہے، جب ہم حکومت چھوڑ کر جارہے تھے تو بتایا کہ ترقی 5 اور اگلے 6 فیصد ہوگی لیکن آپ کے دوسرے سال میں ترقی کا تخمینہ صفر پر آگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کا سرمایہ صفر آیا ہے یعنی اگلے سال کوئی ترقی نہیں پھر ہمیں کہتے ہیں معیشت کی بہتری کے اشارے مل رہے ہیں، یہ اشارے کہاں سے مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے واجپائی خود چل کر بس میں پاکستان آیا اور مینار پاکستان میں کھڑے ہو کر تسلیم کیا اور ہم سے تجارت کرنا چاہتا تھا، افغانستان ہم سے تجارت کرنا چاہتا تھا لیکن اب کوئی رابطہ نہیں ہے، ایران اب بھارت کی لابی میں جاچکا ہے، چین 72 برسوں سے ہمارا ایسا دوست تھا کہ ہمالیہ سے اونچا اور سمندر سے گہری تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ٹرمپ نے دوسرے ٹرمپ سے کہا کہ سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے،جس طرح امریکا کے عوام نے وہاں کے ٹرمپ کو نکال دیا ہی اسی طرح پاکستان کے عوام بھی ان کو نکال دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو حکومت سیاسی طور پر ناجائز اور کارکردگی کی بنیاد پر نااہل اور معاشی قاتل ہے، ناکام خارجہ پالیسی، امریکا اور چین، افغانستان اور ایران بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں، سعودی عرب نے دو ارب دیے اور متحدہ عرب امارات نے بھی دو ارب ڈالر واپس لیا، تم نے پاکستان کے دوستوں کو ناراض کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ انسانوں، معزز اور قابل احترام لوگوں کا ملک ہے لیکن اس حکومت میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں، لاپتہ افراد کہاں ہیں جن کی بات تم کیا کرتے تھے،آج بلوچ، پختون، سندھی ، پنجابی اور کشمیر رو رہا ہے، کشمیر بیچ دیا اور اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں آنے سے پہلے کشمیر کے تین حصے کرنے کی بات نہیں کی، عمران خان نے کہا تھا کہ خدا کرے مودی کامیاب ہوجائے کیونکہ وہ کامیاب ہوگا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا، مودی کو دعائیں دینے اور اس کو اقتدار میں لانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل بتانے والے تم ہو اور اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تم نے گلگت بلتستان میں جا کر کہا کہ ہم آپ کو صوبہ بنائیں گے، گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں لیکن ان کے فیصلے سے قبل اپنا فیصلہ سنا کر ان کی رائے کا قتل نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کشمیریوں کی لاشوں پر سیاست کی اور اب ان کو تنہا کردیا ہے۔