توہین عدالت کیس پروفاقی حکومت سے وضاحت طلب

15

اسلام آباد (صباح نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے آبزرویشن دی ہے کہ عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور ریاستی ذمے داری کی ادائیگی میں ناکامی کے سوالات جنم لیتے ہیں، عدالت نے لاپتا شہری کی فیملی کو معاوضہ نہ دینے پر توہین عدالت کیس میں سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری دفاع سے وضاحت طلب کرلی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی
جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری داخلہ 7 دسمبر تک رپورٹ جمع کرائیں کیوں نہ عدالتی حکم عدولی پر سیکرٹریز یا متعلقہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ درخواست گزار وکیل نے بتایا کہ اپیل میں معاوضہ دینے کا فیصلہ معطل نہیں ہوا، 11 جولائی 2018ء کے فیصلے پر عملدرآمد کا ذمے دار کون ہے وضاحت کریں؟ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کی جانب سے مجاز افسر عدالت کے سامنے پیش ہو، عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کا معاملہ کیوں نہ وفاقی کابینہ کو بھیج دیا جائے۔ عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے سنجیدہ نوعیت کے سوالات جنم لیتے ہیں، ریاست کی جو ذمے داری ہے اس میں ناکامی کے سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ عدالت نے لاپتا شہری کی بازیابی تک ان کے گھر کے اخراجات اٹھانے کا فیصلہ دے رکھا ہے۔
توہین عدالت کیس