امریکی فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ جلد بازی پر مشتمل ہے، عبداللہ عبداللہ

62

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ کابل سے امریکی فوجیوں کی واپسی شروع کرنے کا فیصلہ بہت جلد بازی میں سامنے آیا جبکہ ملک بدستور امن اور سلامتی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔غیرملکی
خبررساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق عبداللہ عبد اللہ نے آسٹریلوی فوجیوں کے ہاتھوں 39 افغان قیدیوں کی ہلاکت سے متعلق رپورٹ کو ’چونکا دینے والے حقائق‘قرار دیا۔انہوں نے آسٹریلوی حکام کی جانب سے مجرموں کی نشاندہی سے متعلق فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 4 ہزار 500 سے کم کرکے 2 ہزار 500 کرنے سے متعلق فیصلے پر عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ’یہ امریکی انتظامیہ کا فیصلہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں‘۔اس ضمن میں عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ حالات بہتر ہونے کے ساتھ ہی امریکی فوجیوں کا انخلا ہونا چاہیے۔قائم مقام امریکی وزیر دفاع کرسٹوفر ملر نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن جنوری کے وسط تک عراق اور افغانستان میں موجود فوجیوں کو کم کردے گا۔افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ طالبان ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلیں گے۔انہوں نے اس حقیقت کا خیرمقدم کیا کہ ڈھائی ہزار فوجی باقی رہ جائیں گے اور یہ کہ نیٹو بھی اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔
عبداللہ عبداللہ