پی آئی اے کیخلاف 58انکوائریاں 2برس سے زیر التوا

43

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر نے سندھ زونل آفس میں پی آئی اے سے متعلق 58زیرالتوا انکوائریاں منطقی انجام تک نہ پہنچانے کا سخت نوٹس لیا
ہے، صرف 2پر نامکمل انکوائری ہوئی ،21افسران میں ہر ایک کے پاس زیادہ سے زیادہ 3 کیس ہیں۔ مذکورہ انکوائریوں پر تحقیقات 2 برس سے اور کچھ2017ء سے زیرالتوا ہیں۔ پی آئی اے انتظامیہ کیخلاف غیر قانونی بھرتیاں، ادارے کی ملکیت مختلف اشیا کی فروخت، غیر ضروری ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتی، ٹھیکوں میں اربوں کے گھپلے اور اربوں روپے کی اشیا کی خریداری اور خردبرد شامل ہیں۔ مذکورہ 58 انکوائریوں میں سے صرف 2 پر مقدمات درج ہوئے، ایک مقدمے میں حیرت انگیز طور پر نقصان پہنچانے والی کمپنی کو تو نامزد کیا گیا مگر پی آئی اے کی انتظامیہ کے کسی افسر کو نامزد ہی نہیں کیا گیا،دوسرے مقدے میں ادارے کے سابق ایم ڈی اور سابق ایچ آر چیف کو گرفتار کیا گیا مگر ناکافی ثبوتوں اور ناقص تفتیش کے باعث وہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔ چند انکوائریوں کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد تفتیشی افسران نے مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی مگر ان پر بھی زونل آفس میں تعینات افسران فیصلہ نہیں کرسکے۔ پی آئی اے کے حوالے سے جن 3 انکوائریوں پر زونل آفس سے مقدمات درج کرنے کی اجازت زیرالتوا ہے، ان میں سابق فنانشل کنسلٹنٹ کی غیر قانونی بھرتی جس سے قومی خزانے کو 65ہزار ڈالر کا نقصان ہوا۔ دوسری پی آئی اے کی ملکیت A-320طیارے کی غیر قانونی فروخت جس سے224.09 ملین روپے کا نقصان ہوا جبکہ تیسری انکوائری پی آئی اے کے بیڑے میں شامل طیاروں میں ایویونک اپ گریڈیشن جس سے ادارے کو 4ارب کا نقصان ہوا۔پی آئی اے کی انکوائریاں کراچی کے کارپوریٹ کرائم سرکل، اینٹی کرپشن سرکل، کمرشل بینک سرکل اور اینٹی ہیومن سرکل کے افسران کے پاس ہیں۔ زیادہ تر تحقیقاتی افسران کے پاس 2 سے 3 انکوائریاں ہیں، جن افسران کے پاس انکوائریاں زیرالتوا ہیں ان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز عبدالرؤف شیخ، گل شیر مغیری، لبنی ٹوانہ، احمد جان، محمد اقبال، رابعہ قریشی اور سراج پنہور، انسپکٹرز عمارہ قریشی، نبیل محبوب، محمد ثنا اللہ، جبار مہندرو، منصور مہمند، سب انسپکٹرز مہوش افتخار، طاہر گجر، ظہور بچکانی، عدنان دلاور، شبیر چانڈیو اور راحت خان شامل ہیں