امریکا ،متنازع اسرائیلی مصنوعات کی حمایت میں مہم

130
مغربی کنارہ: بیت لحم کے جنوبی قصبے بیت فجار میں اسرائیلی فوج کے تشدد سے زخمی ہونے والے فلسطینی نوجوانوں کو طبی امداد دی جارہی ہے

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سینیٹ کے ریپبلکن ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 20 جنوری 2021ء کو جوبائیڈن کے اقتدار سنبھالنے سے قبل فلسطینی علاقوں کی یہودی بستیوںمیں تیار ہونے والی مصنوعات کا مسئلہ حل کریں اور ان مصنوعات ’’میڈ ان اسرائیل‘‘ کا ٹیگ لگانے کی منظوری دیں۔ عبرانی نیوز ویب پورٹل وللا کے مطابق ریپبلکن سینیٹرز کے ایک گروپ نے صدر ٹرمپ کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ غرب اردن کی یہودی کالونیوں کے کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو 20 جنوری کو جوبائیڈن کے اقتدار سنبھالنے سے قبل اسرائیلی مصنوعات قرار دیں۔ خیال رہے کہ بیشتر ممالک یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں اور انہیں اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ ان پراسرائیلی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ویب سائٹ نے کہا ہے کہ یہ پیغام اس وقت دیا گیا جب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو غیرقانونی یہودی کالونی پیسگوٹ کا دورہ کیا ہے۔ اس خط پر سینیٹر ٹام کاٹن، ٹیڈ کروز، مارکو روبیو اور کیلی لوفلر نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے یہ خط سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو، وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن اور قائم مقام مشیر قومی سلامتی چاڈ ولف کو بھی بھیجا ہے۔ چاروں سینیٹرز نے اپنے خط میں کہا ہے کہ بائیڈن حکومت اسرائیل اور مغربی کنارے کے بستیوں میں فرق کرنے کی پالیسی کو دوبارہ اپنا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان کالونیوں میں تیار ہونے والی اسرائیلی مصنوعات بائیکاٹ تحریک کا ایک ایک بڑا ہدف بن جائیں گی۔