‘گستاخانہ خاکوں کیخلاف آواز اٹھانے والوں کی فرانس سے بے دخلی’

222

فرانس میں ناموس رسالت کا دفاع جرم بن گیا، آزادی اظہار رائے کی آڑ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور انہیں اشتعال دلانے کیلئے حکومتی سطح پر ہتھکنڈے استعمال کیے جانے لگے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینن نے کہا ہے کہ اسکولوں میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے خاندانوں کو ملک بدر کیا جاسکتا ہے۔

فرانسیسی یورپ 1 ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈارمینن نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے تحت گستاخانہ خاکوں کی اشاعت شہریوں کا قانونی حق ہے اور جو لوگ اساتذہ کی جانب سے شاگردوں کو گستاخانہ خاکے دکھانے کیخلاف ہیں، اُن کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں ملک بدر بھی کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہا تمام گھرانے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر انہوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا تو انہیں اس ‘جرم’ کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔