بیمار زرعی شعبہ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن رہا ہے،میاں زاہد

136

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ نظر انداز شدہ زرعی شعبے کو فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ ملکی سلامتی، غذائی خود کفالت اور صنعتی شعبوںکے لیے بڑا خطرہ بن جائے گا۔حکومت اور مرکزی بینک کے اقدامات کی وجہ سے صنعتی شعبے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور سرمایہ کار حالات کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں تاہم لڑکھڑاتا ہوازرعی شعبہ تمام کیے کرائے پر پانی پھیر سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گندم فوڈ سیکورٹی کے لیے اہم ہے تو کپاس معیشت کی لائف لائن ہے اور دونوں کی حالت خراب ہے۔ ملک میں سینکڑوں ٹیکسٹائل ملز جو زرمبادلہ کا60 فیصد کما رہی ہیں اور شہری علاقوں میں سب سے زیادہ روزگار دے رہی ہیں کا انحصار کپاس پر ہے جس کا زیر کاشت رقبہ اور پیداوارگزشتہ دس سال سے مسلسل کم ہو رہی ہے۔ایک طرف پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر مقامی کپاس استعمال کرنے پر مجبور ہے جو دنیا میں سب سے مہنگی ہے اور اس کا معیار بھی کم ہے جبکہ دوسری طرف کپاس پر انحصار کرنے والے 15 لاکھ کسان بھی بدحال ہیں جس سے اس شعبے کی تباہ حالی کا پتہ چلتا ہے۔بین الاقوامی منڈی میں کپاس کی قیمت 71.29 سینٹ فی پونڈ ہے جبکہ پاکستان میں اس کی قیمت76.85 پونڈ ہے۔