این آئی سی وی ڈی نے پرویز چودھری کے الزامات کو مسترد کر دیا

25

کراچی (اسٹاف رپورٹر) قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) نے ادارے کے سابق ہیڈ آف سرجری،ڈاکٹر پرویز چودھری کے تمام تر الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ترجمان این آئی سی وی ڈی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر پرویز چودھری کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد این آئی سی وی ڈی کا حصہ نہیں رہے‘ انہوں نے کنٹریکٹ میں توسیع نہ ہونے کے سبب این آئی سی وی ڈی انتظامیہ پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں‘ جن میں ایک فیصد بھی
سچائی نہیں ہے‘ ان کو این آئی سی وی ڈی میں یہ خامیاں پہلے نظر کیوں نہیں آرہی تھیں؟ اس کو آسان الفاظ میں بدنیتی کہا جاتا ہے جو ایک ڈاکٹر کو زیب نہیں دیتی۔ ترجمان نے کہا کہ پروفیسر ندیم قمر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی بننے کے بعد ادارے نے بے تحاشا ترقی کی ہے‘ 2015ء میں صرف ایک این آئی سی وی ڈی تھا، جو اب 28 اسپتالوں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا ہیلتھ کیئر نیٹ بن چکا ہے، جس میں پروفیسر ندیم قمر کا وژن اور ان کی انتھک محنت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر پرویز چودھری نے2018ء میں این آئی سی وی ڈی جوائن کیا مگر ان کے جوائن کرنے سے پہلے بھییہاں سالانہ 4 ہزار سے زاید کارڈیک سرجریز کی جاتی تھی اور شرحِ اموات 4 فیصد تک آگئی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی میں دنیا کے نامور کارڈیک سرجنز موجود ہیں جو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں‘ ڈاکٹر اسد بلال اعوان ایک سینئر اور تجربہ کار سرجن ہیں، جن کو قائم مقام ہیڈ آف سرجری ڈپارٹمنٹ بنایا گیا ہے ۔