تبدیلی ایسی آئی۔۔۔ گلے پڑ گئی مہنگائی

144

ہمارے کپتان وزیراعظم کرکٹ میں سنچری کے قائل تھے اور اب سبزیاں، دالوں سے لے کر ہر اشیائے ضروریہ پر قیمت سنچری مکمل کر چکی ہے۔ مہینہ سے اوپر ہو گیا وزیراعظم صاحب کو نوٹس لیتے لیکن مہنگائی جوں کی توں ہے۔ کمیشن بنے، لیکن قیمتیں کم نہ ہوئیں۔ انکوائریاں بھی ہوگئیں، جب یہ طریقے فیل ہوئے تو ٹائیگر فورس کا تجربہ کیا جارہا ہے، جبکہ ٹائیگر فورس کے پاس اختیارات تو کوئی نہیں وہ صرف شکایات کر سکتے ہیں۔ لیکن شکایت بھی کریں تو کس سے؟؟ وزیراعظم صاحب جانتے ہیں کہ تبدیلی کی راہ میں مافیا رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں یہ مافیا کون ہے؟؟ وہ نام جو وزیراعظم صاحب کے ذہن میں ہیں عوام سے شیئر کریں کہ کون کون مافیا ہے۔ حکومت کیوں ان مافیائوں کو قانون کی شکنجے میں نہیں جکڑ سکتی؟؟
ادارہ شماریات پاکستان کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2020 میں مہنگائی کی شرح 14.6 فی صد رہی جو ریکارڈ اضافہ ہے، یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، پٹرول کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی، ہر چیز کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگیا۔ پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث افراط زر کا نیچے آنا ممکن نہیں۔ پچھلے ایک ماہ میں مہنگائی کی شرح میں ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 8.2 فی صد سے بڑھ کر 20.9فی صد ہوگئی ہے۔ ٹماٹر 40 فی صد اور سبزیاں 33 فی صد مہنگی ہوئیں، آٹا، انڈے، دالیں سب مہنگے ہوگئے۔ چینی کی قیمت میں 22.5 فی صد اضافہ ہوا۔ گوشت اور آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ آخر سرکاری ریٹ لسٹ پر عمل درآمد آخر کس کو کروانا ہے؟؟
چند مہینوں میں بجلی کی قیمت میں سات بار اضافہ کیا گیا۔ 10 ارب مزید بوجھ عوام پر ڈالا گیا ہے۔ دوائی کی قیمتوں میں 500 فی صد اضافہ ہوا، چینی 55 سے 110 روپے کلو پر چلی گئی۔
حکومت اور اپوزیشن میں کرسی کی جنگ جاری ہے۔ غریب عوام مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی اور روز بروز جرائم میں اضافے سے پریشان ہے۔ مہنگائی کی شرح آسمان کی بلندی کو چھو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے روزمرہ استعمال کی اشیا عوام کی دسترس سے دور ہورہی ہیں، مہنگائی معاشی بدحالی کا باعث بن رہی ہے۔ جس سے جرائم، خود غرضی جیسے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی عوام اپنی آمدنی کا 70فی صد غذائی اشیا کی خرید پر خرچ کرتے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی کی موجودہ لہر کا آغاز اس وقت ہوا جب اقتدار کے ایوانوں میں براجمان مافیا نے ملک میں گندم کی پیداوار جو 21 ملین ٹن تھی کو 23ملین ٹن دکھا کر 7.5 لاکھ ٹن گندم بیرون ملک 220 ڈالر فی ٹن کے حساب سے فروخت کر دی۔ اس کے علاوہ جو اسمگل ہوئی وہ الگ، جس کی وجہ سے ملک میں گندم کی شدید قلت پیدا ہوگئی، اس قلت کو دور کرنے کے لیے 673 ڈالر فی ٹن کے حساب سے 3لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی۔ اس طرح مصنوعی بحران میں 45 ارب روپے اس مافیا نے کما لیے اور پاکستانی عوام کو آٹے کے سنگین بحران سے دوچار کر دیا۔ صرف آٹا ہی نہیں بلکہ گھی، دال، چینی، سبزی، چاول اور دودھ سب ہی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حکومتی دعوے مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق قیمتوں میں یومیہ بنیادوں و پر اضافہ کیا جارہا ہے۔ اجناس کی مرکزی ہول سیل مارکیٹ میں سٹہ جاری ہے۔ دکاندار تھوک بھائو میں اضافے کو جواز بناکر صارفین سے من مانی قیمت وصول کر رہے ہیں۔
آئی ایم ایف نے بجلی، گیس مہنگی کیے بغیر 6ارب ڈالر پروگرام سے انکار کر دیا ہے۔ ہمیں اپنی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر سنجیدہ پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈان سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے سب سے زیادہ متاثر ہوچکے ہیں اور اس وائرس کی وجہ سے پاکستان میں پچاس لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ حکومت افراط زر میں کمی کرے اور بیروزگاری میں بھی، شرح نمو کو بڑھایا جائے۔ معیشت اس وقت ٹریک پر آئے گی جب مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی آئے گی۔
حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کم کرنے کے لیے موثر قانون سازی کرے۔ مڈل مین کے کردار کو ختم کرنے کے لیے، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے جب تک موثر قانون سازی نہیں کی جاتی مہنگائی کے طوفان کے آگے بند باندھنا ناممکن ہے۔ قانون سازی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے فی کس آمدنی میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ قانون کو حرکت میں لایا جائے حکومت چیک کرے منافع خور زیادہ منافع تو وصول نہیں کر رہے۔ حکومت مہنگائی کے خاتمے ہی کو کم از کم اپنا پہلا مشن بنالے تو عوام کو کچھ سکھ ملے گا۔