القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کے انتقال کے متضاد دعوے

79

کابل(صباح نیوز)القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری افغانستان میں انتقال کرگئے ،عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ کی کمانڈ سنبھالنے والے ایمن الظواہری 69برس کی عمر میں افغانستان میں انتقال کرگئے ، عرب ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا انتقال ایک ماہ قبل ہوا ہے۔ خلیجی اخبارعرب نیوز نے2 مسلمان ممالک کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا انتقال طبعی طور
پر ہوا ہے۔ القاعدہ سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک مترجم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا انتقال گزشتہ ہفتے افغانستان کے صوبے غزنی میں ہوا ہے۔ ان کے انتقال کے حوالے سے اس کا کہنا ہے کہ وہ سانس کی بیماری میں مبتلا تھے اور وہ اس کا علاج بھی نہیں کرا رہے تھے۔عرب نیوز کے مطابق 4 سیکورٹی اہلکاروں نے جن کا تعلق 2 اسلامی ممالک سے ہے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 69سالہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے متعلق ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی عہدیدار نے ڈاکٹر ایمن الظواہری کے انتقال کی تصدیق نہیں کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس اس حوالے سے مصدقہ معلومات تک رسائی کی کوشش ضرورکررہی ہے۔افغان سکیورٹی ادارے این ڈی ایس کے ترجمان نے بھی عرب نیوز کو بتایا کہ انہیں القاعدہ رہنما کی موت کے حوالے سے کوئی خبر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے کوئی موقف بھی نہیں دے سکتے ہیں، القاعدہ کے رہنما 19جون 1951ء کو مصر میں پیدا ہوئے اور قاہرہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ایمن الظواہری نے 2011 ء میں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ نیٹ ورک کی کمان سنبھالی تھی۔