آڈیٹر جنرل کی پی آئی اے کے سربراہ کو عہدہ سے ہٹانے کی سفارش

113

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے قومی ائر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ائر مارشل ارشد ملک کو فوری عہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی۔حکومتی آڈٹ پیرا 2019 میں سی ای او ارشد ملک سے وصول کیے گئے اضافی الائونسز واپس لینے کی بھی سفارش کی گئی۔علاوہ ازیں آڈٹ پیرا میں پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے خلاف بھی کارروائی پر زور دیا گیا۔آڈٹ پیرا کے مطابق ائر مارشل ارشد ملک ایک ہی وقت میں ائرفورس اور پی آئی اے سے الائونسز وصول کرتے رہے ہیں۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق سروسزرولز کے تحت ارشد ملک ائر فورس کی ملازمت کے دوران بطور چیف ایگزیکٹو پی آئی اے کے اضافی مراعات وصول نہیں کرسکتے تھے۔حکومتی آڈٹ پیرا 2019 میں کہا گیا کہ سی ای او ارشد ملک نے الائونسز کی مد میں پی آئی اے سے تقریباً 30 لاکھ روپے غیر قانونی طور پر وصول کیے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی آئی اے میں ائرفورس سے آئے دیگر افسران نے بھی تقریباً 7 کروڑ 18 لاکھ روپے غیر قانونی الائونسز وصول کیے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پی آئی اے میں ڈیپوٹیشن پرارشد ملک کے علاوہ 5 ائر کموڈور، 2 ونگ کمانڈر اور ایک فلائٹ لیفٹیننٹ پی آئی اے میں اضافی الائونسز وصول کرتے رہے۔آڈٹ پیرا میں کہا گیا کہ حکومتی رولز کے مطابق ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران صرف رہائش، بجلی کے بل اور فرنیچر کی مد میں سہولیات حاصل کرسکتے ہیں۔اس میں انکشاف کیا گیا کہ تمام افسران پی آئی اے سے ہائوس رینٹ لینے کے ساتھ پی اے ایف کی رہائش گاہ بھی استعمال کررہے ہیں۔آڈٹ پیرا میں کہا گیا کہ ائر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی کے وقت مطلوبہ تعیناتی کے معیار کو بھی نظر انداز کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق تعیناتی کے وقت اخبار میں دیے جانے والے اشتہار میں مطلوبہ تعلیم میں بھی ارشد ملک کے لیے خصوصی رعایت پیدا کی گئی اور مطلوبہ تعلیمی معیار سے ہٹ کر وار کورس اور ملٹری آپریشن جیسے مضامین شامل کیے گئے۔واضح رہے کہ ائر مارشل ارشد ملک کے خلاف ائر لائنز سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن (ساسا) کے جنرل سیکرٹری صفدر انجم نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس عہدے کے لیے ائر مارشل ارشد ملک تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے اور ان کا ائر لائن سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے۔