کورونا سے مزید 18 اموات ،ماسل لازمی قرار دینے کیلیے ملک بھر میں دفعہ 144 لگانے کا فیصلہ

37

کراچی/اسلام آباد(نمائندہ جسارت+خبر ایجنسیاں) پاکستان میں کورونا کے باعث مزید 18اموات جبکہ 2ہزار 547نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ماسک لازمی قرار دینے کے لیے ملک بھر میں دفعہ 144کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے ، کراچی کے مختلف علاقوں میں شادی ہالز، دکانیں اور سپر مارکیٹس کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل جبکہ راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈائون کا آغاز کردیا گیا ہے ۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملکمیں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 65 ہزار 927 ہوگئی جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 7 ہزار 248 تک پہنچ چکی ہے۔3 لاکھ 26 ہزار 674 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ کراچی میں ایک ہی دن میں کورونا وائرس کا شکار 15مریض انتقال کرگئیجبکہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر کراچی میں انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 7 شادی ہالز کو وارننگ، ایک کو 4لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔ 7ریسٹورنٹس کو 4لاکھ 95ہزار مجموعی جرمانے، 39کو وارننگ جبکہ 8سیل کر دیے۔امتیاز سپر مارکیٹ اور کورنگی موبائل مارکیٹ سمیت درجنوں دیگر اسٹورز، بیکریاں، دکانیں اور ریسٹورنٹس سیل کردیے ہیںجبکہ متعدد کاروباروں پر9 لاکھ تک کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے 5تعلیمی اداروں کو وارننگ دی گئی۔دوسری جانب ملک بھر میں ماسک لازمی قرار دینے کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈپٹی کمشنر صاحبان ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی کرسکیں گے۔جرمانہ، جیل یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے پر 500 روپے جرمانہ،عوامی مقامات پر تھوکنے پر 500 روپے جرمانہ، دکان کے اندر ماسک نہ استعمال کرنے پر دکاندار کو 2000 جرمانہ ہوگا جبکہ دکان میں سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر 2000 روپے جرمانہ کے علاوہ بس میں 3000روپے جرمانہ ، کار میں 2000 روپے جرمانہ ہوگا جبکہ رکشہ اور موٹر سائیکل پر سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر 500 روپے جرمانے کیا جائے گا۔ادھر راو لپنڈی کے مختلف علاقوں میں جمعرات سے اسمارٹ لاک ڈائون کاآغاز ہو گیا جو 28 نومبر تک جاری رہے گا۔وزارت صحت پنجاب کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق راولپنڈی کے سیکٹر سی فیز ون ڈی ایچ اے، گلشن آباد اسٹریٹ نمبر 10، علامہ اقبال اسٹریٹ مسلم ٹائون میں سمارٹ لاک ڈائون لگا دیا گیا۔ان علاقوں میں بازار، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور سرکاری و نجی دفاتر بند رہیں گے تاہم طبی مراکز، اسپتال اور میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔ اس دوران علاقہ مکینوں کی نقل و حرکت محدود ہوگی۔آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں 15 دن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کانوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں بیک وقت لاک ڈاؤن ہوگا، صرف لازمی خدمات کے شعبے ایس او پیز کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، سرکاری دفاترمیں 50 فیصد حاضری رکھی جائے گی، تمام کاروباری مراکز مارکیٹیں اور بازار ، سرکاری، نیم سرکاری اور نجی دفاتر اور تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔ انٹری پوائنٹس پرسخت اسکریننگ کا عمل ہوگا، مذہبی اجتماعات اور نماز جنازہ مکمل ایس او پی کے تحت ہوں گے، شادی بیاہ و دیگر تقریبات پر مکمل پابندی ہوگی۔