درآمدات و برآمدات مکمل منقطع ہونے کا خدشہ ہے،شارق وہرہ

68

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر ایم شارق وہرہ اورکراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (کے سی اے اے) کے صدر واثق حسین خان نے نیٹی جیٹی پل کی خوفناک صورتحال پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے جس پر اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس سے ملک کی درآمدات و برآمدات مکمل طور پر منقطع ہو کر رہ جائیں گی کیونکہ یہ پل واحد اہم راستہ ہے جو کراچی پورٹ کو شہر اور ملک کے ساتھ ملاتا ہے۔ان خدشات کا اظہار کے سی اے اے کے وفد کے کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ایم ثاقب گڈ لک، نائب صدر شمس الاسلام خان، جنرل سکرٹری کے سی اے اے محمود الحسن اعوان، کے سی سی آئی اور کے سی سی اے کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔کے سی سی آئی کے صدر اور کے سی اے اے صدر نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ کراچی پورٹ کے قریب خستہ حال سڑک کے سنگین مسئلے پر توجہ دیتے ہوئے اسے اولین ترجیح دیتے ہوئے بہتر بنائیں کیونکہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے میں تاخیر سے نہ صرف پاکستان کی تجارت متاثر ہوگی بلکہ ملکی معیشت پر بھی اس کا سنگین اثرات مرتب ہوںگے ۔ پورٹ قاسم میں سڑکوں کا بھی ایسا ہی حال ہے جو تاجر و صنعتکار برادری کے لیے قابلِ تشویش ہے۔شارق وہرا نے کہا کہ یہ واقعی بدقسمتی ہے کہ ہیوی گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی کے باعث کراچی بندرگاہ دن میںبمشکل 8 گھنٹے کام کرتی ہے جو کہیں بھی نہیں ہوتا ہے کیونکہ پوری دنیا کی بندرگاہیں 24 گھنٹے چلتی رہتی ہیں۔ ہم کراچی میں ٹریفک کے مسائل کو پوری طرح سمجھتے ہیں لیکن روزانہ اتنے گھنٹوں تک ہیوی گاڑیوں کی نقل و حرکت کی اجازت نہ دینا مناسب حل نہیں لہٰذا حکومت کو ہیوی گاڑیوں کے لیے خصوصی طور پر ایک ایلیویٹڈ کوریڈور کی تعمیر کے لیے کے سی سی آئی کے جائز مطالبے پر دھیان دینا ہوگا۔