اشتہاریوں کی تقریر نشر کرنے کی اجازت کیسے دے دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ

50

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اشتہاریوں کونظام پر اعتماد نہیں تو ان کو ریلیف کیسے دے دیں،اشتہاریوں کیلیے الگ قانون نہیں ہو سکتا ،عدالت نے پہلے ہی مشرف کیس میں واضح کر دیا ہے ،اشتہاریوں کی تقریر ٹی وی پر نشر کرنے کی اجازت کیسے دے دیں ؟پیمرا نے ٹی وی پر تقریر نشر کرنے پر پابندی لگائی ہے لیکن خبر شائع کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ۔جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اورسابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کی تقاریر ٹی
وی پر نشر کرنے پر پابندی کیخلاف درخواست کی سماعت کی ۔درخواست گزار صحافیوں کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز میں ہی استفسارکیاکہ آپ کس کیلیے ریلیف مانگ رہے ہیں؟ جس پر وکیل نے کہاکہ ہم عوامی مفاد کیلیے ریلیف مانگ رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ اس عدالت نے پرویز مشرف کیس میں واضح کیا،یہ عدالت کسی بھی ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت نہیں کرتی،سیاسی مسائل کی وجہ سے لوگوں کا عدلیہ پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے ،پرویز مشرف بھی اشتہاری تھا تو کیا درخواست گزار چاہتے ہیں کہ اس کی تقریر نشر کرنیکی اجازت دے دیں؟پیمرا نے آرڈر کیا، سیکشن 31 کے تحت پیمرا میں اپیل کرسکتے ہیں؟پیمرا میں کس نے اپیل کی،اس سے کون متاثر ہوا ہے؟عام لوگوں کیلیے جو قانون ہے اس عدالت میں وہ سب کے لیے ہوگا،اگرکسی نے کوئی اپیل ہی دائر نہیں کی تو اس کامطلب ہے کہ کوئی اس آرڈر سے متاثر ہی نہیں،یہاں پر دو نام ہیں جو کہ عدالتی اشتہاری ہے؟کیا یہ دو افراد متاثر ہوئے ہیں یا میڈیا چینل متاثر ہوا ہے؟جو لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ پیمرا میں اپیل کریںجس پر وکیل سلمان اکرم رجا نے کہاکہ دو نہیں ہزاروں افرادمفرورہیں، پٹشنر چاہتے ہیں کہ انہیں عوام تک معلومات پہنچانے سے نہ روکا جائے،درخواست گزار متاثر ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے، مفرور شخص کی تو شہریت اور شناختی کارڈ بلاک ہوجاتے ہیں، درخواست گزار کیسے متاثر ہوئے ہیں؟کیا آپ چاہتے ہیں کہ پرویز مشرف کی تقریر بھی نشر کی جائے،کیا درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عدالتی اشتہاری کی تقاریر کو ٹی وی پر دکھانا چاہیے؟جب ایک شخص اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے، عدالتی اشتہاری کا قومی شناختی کارڈ بلاک ہوچکا،کیا آپ چاہتے ہیں کہ اشتہاری کے لیے قانون الگ الگ ہو چیف جسٹس نے کہاکہ آزادی اظہار رائے، رائٹس ٹو انفارمیشن سب کا بنیادی حق ہے،اشتہاری کے لیے پوری دنیا میں قانون موجود ہے،یہ عدالت کسی اشتہاری کو ان ڈائریکٹ ریلیف نہیں دے سکتی ۔چیف جسٹس نے کہاکہ کسی بھی غیر قانونی آرڈر کو بھی کوئی اشتہاری چیلنج نہیں کرسکتا۔عدالت نے وکیل سلمان اکرم راجہ کو تیاری کیلئے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 16 دسمبر تک کیلیے ملتوی کردی۔