وراثت کی تقسیم میں تاخیر کے نقصانات

99

فوت شدہ مسلمان مرد یا عورت کے چھوڑے ہوئے مال کے متعلق شریعت اسلامیہ نے بعض احکام متعین کیے ہیں، جن کا جاننا ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔ ورثا پر فوت شدگان کے چار حقوق کا خیال رکھنا لازم ہے۔ نمبر ایک کفن دفن کا انتظام۔ نمبر دو اس کے قرض کی ادائیگی۔ نمبر تین اگر فوت شدہ شخص نے وصیت کی ہے تو شریعت کی حدود میں رہ کر اس کی وصیت پر عمل کرنا۔ مذکورہ تین کام کرنے کے بعد پھر ترکہ یعنی مال وراثت کی تقسیم کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں وراثت کی تقسیم میں بہت سی کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ سب سے بڑی کوتاہی وراثت کی تقسیم میں تاخیر کرنا ہے۔ ورثا مختلف حیلے، بہانے کرتے ہیں۔ پس و پیش سے کام لیتے ہیں۔ واضح رہے کوئی بھی مسلمان مرد یا عورت جب فوت ہوتا ہے، تو اس کی جائیداد ورثا کی ملکیت میں چلی جاتی ہے۔ اس شخص نے جو زندگی میں کھانا تھا، کھا لیا۔ جو پہننا تھا، پہن لیا۔ جو صدقہ کرنا تھا، کرلیا۔ اب جو کچھ فوت شدہ شخص نے ترکے میں چھوڑا ہے، وہ اس کا نہیں ہے۔ کوئی شخص مال دے یا نہ دے، شریعت کی رو سے مال ورثا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بیٹوں میں سے وہ بیٹا جو باپ کے ساتھ کاروبار کر رہا ہوتا ہے، وہی کاروبار پر قابض ہو جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر خواتین بھی تمام جائداد کی مالک بن جاتی ہیں۔ جس کا بس چلتا ہے وہ قابض ہو جاتا ہے۔
فوری وراثت تقسیم کرنے کے بڑے فوائد ہیں اور تاخیر کے بے شمار نقصانات۔ جلدی وراثت تقسیم کرنے میں سب سے بڑی آسانی اور فائدہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص دنیا سے جاتا ہے، تو اس کے ورثا کے دل غمگین ہوتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں دل نرم ہوتے ہیں اور اللہ کا ڈر اور خوف حاوی ہوتا ہے۔ ان کے دلوں سے مال کی حرص اور محبت تقریباً نکل چکی ہوتی ہے۔ موت سامنے ہوتی ہے، میت کو دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ ناراض بھائی بھی والد کے انتقال پر جنازے اور بعد میں تعزیت کے موقع پر گھر میں اکھٹے ہوجاتے ہیں۔ دل نرم ہوتے ہیں۔ دراصل اس وقت موت کا اثر ہوتا ہے۔ ان حالات میں اگر کسی تاخیر کے بغیر ترکہ تقسیم کردیا جائے، تو جس کا جو حق ہے وہ ان شاء اللہ اسے مل جائے گا، کیونکہ اس موقع پر کوئی زیادہ اختلاف واقع نہیں ہوتا۔ لیکن آپ جتنا تاخیر کرتے جائیں گے، مسائل بڑھتے چلے جائیں گے۔ آہستہ آہستہ دل سخت ہو جاتے ہیں اور وراثت کی تقسیم میں پیچیدگیاں سامنے آجاتی ہیں۔ لوگ بھی مشورے دینے لگ جاتے ہیں اور منصوبے بنانے لگ جاتے ہیں۔ نتیجتاً رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں، قطع رحمی ہوجاتی ہے، خون خرابہ ہوتا ہے، قتل و غارت تک نوبت چلی جاتی ہے۔ کیس عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں، لیکن پھر بھی حیلے بہانے کیے جاتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں وراثت کا حق دار صرف وہ نوجوان ہوتے تھے، جو میدان میں بہادری کے جوہر دکھا سکتے تھے۔ بوڑھے، بچے اور عورتیں وراثت سے محروم رہتے تھے۔ آج بھی تقریباً یہی کچھ ہوتا ہے، الاماشاء اللہ۔
اگر وراثت میں تاخیر نہ کی جائے، جس کا جو حصہ بنتا ہے وہ اس کو دے دیا جائے، چاہے تھوڑا ملے یا زیادہ، وہ اپنا کاروبار کرسکتا ہے۔ اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ جھگڑے میں پڑنے سے بچ سکتا ہے۔ میرے سامنے ایسے کئی کیسز آئے ہیں، متعدد جھگڑے دیکھے ہیں۔ بعض اوقات فریقین میں صلح کروانے سے عاجز آجاتا ہوں۔ وراثت بروقت تقسیم نہ کرنا بہت بڑی کوتاہی ہے، معاملہ جتنا تاخیر کا شکار ہوتا ہے، اختلافات، تنازعات، شکوک و شبہات، مسائل اور حساب کتاب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس لیے جس کا جتنا حق بنتا ہے، فوراً اس کو دے دیا جائے۔ اس سلسلے میں علمائے کرام سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ایسا متعدد مرتبہ دیکھا ہے کہ ہماری عدالتیں بھی وراثت کے معاملے میں درخواست گزار کو کسی عالم دین سے رہنمائی لینے اور فتویٰ حاصل کرنے کے لیے بھیج دیتی ہیں، پھر اسی کے مطابق فریقین کے مابین جھگڑے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ دوسرا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مختلف مسالک کے مابین فروعی اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم وراثت کے مسائل ان کے درمیان متفقہ ہیں، ان پر اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اگر کہیں کوئی اختلاف نظر بھی آئے تو وہ جزوی ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ورثا کے حصے اور ان کا حق بیان کردیا ہے۔
صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث ہے کہ اللہ کے نبیؐ نے فرمایا: جو شخص ظلم و زیادتی کرتے ہوئے کسی شخص کی ایک بالشت جگہ غضب کرلے گا، تو کل قیامت کے دن اللہ رب العزت سات زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دے گا۔ دنیا میں ہم اسے مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔ پلاٹ اور گھروں پر قبضے ہو رہے ہوتے ہیں۔ لوگ اپنے سگے بھائی کی زمین پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ میں کچھ عرصہ پہلے آبائی گھر گیا تو میرے والد صاحب نے بتایا کہ میں نے اپنی زندگی میں ہی آپ کے نام زمین منتقل کروا دی ہے۔ جب میں نے دستاویزات دیکھیں، تو ہم بھائیوں کے نام تو تھے، لیکن بہنوں کا نام نہیں تھا۔ میں نے کہا ابا جان! بہنوں کا نام ہی نہیں؟ کہنے لگے: بہنوں کی شادیاں ہوگئیں، وہ اپنے شوہروں کے ساتھ ہیں۔ وہاں ان کی زمینیں بھی ہیں اور کاروبار بھی۔ میں نے کہا کل قیامت کے دن یہ سوال نہیں ہوگا کہ آپ کی اولاد کے پاس زمینیں تھیں یا نہیں۔ آپ کے مال میں ان کا جو حق بنتا ہے، وہ ان کو دے دیا جائے۔
وراثت کی تقسیم میں بھی بہنوں کو پریشان کیا جاتا ہے، منتیں کی جاتی ہیں، تاکہ وہ اپنے حصے کا مال چھوڑ جائیں۔ خاندان در خاندان یہ سلسلہ چلا آرہا ہوتا ہے کہ بہنوں کو وراثت دیا ہی نہیں جاتا۔ بعض اوقات بہنیں بھی بھائی کی ناراضگی کی وجہ سے چپ ہوجاتی ہیں اور بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ بہنوں نے معاف کردیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے مانگا نہیں ہوتا۔ یاد رکھیں! اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اللہ کے ہاں سرخرو ہوجائیں تو خواتین کو ان کاحق دے دیں، معاف نہ کروائے۔ مال کس کو پیارا نہیں ہوتا؟ جیسے ہماری ضرورتیں ہیں، ویسے ہی ان کی بھی ضرورتیںہوتی ہیں۔ لہٰذا اپنے مال کو حرام کی آمیزش سے بچائیں اور کسی کا حق نہ ماریں۔