پاکستان میں عرب بہار کا خواب

206

عرب بہار مانگے تانگے کی تبدیلیوں اور جمہوریت کی شب گزیدہ سحر کا دوسرا نام ہو کر رہ گئی ہے۔ اس بہار کے ساتھ عالم عرب میں جو سلوک ہوا اس کے بعد سے کوئی دوبارہ ایسی کسی صبح کی خواہش سے مدتوں تائب رہے گا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت پاکستان میں عرب بہار کا خواب دیکھ رہی ہے۔ یہ خواب اس لحاظ سے تو پاکستان کے زمینی حقائق سے لگا کھاتا ہی نہیں کہ پاکستان میں پاکستان بہار تو برپا ہو سکتی ہے مگر پاکستان میں عرب بہار کیسے برپا ہو سکتی ہے؟ میاں نوازشریف کی برطرفی کے بعد اور جی ٹی روڈ کے سفر میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے سب سے زیادہ جس پہلو پر توجہ دی وہ اس کا سوشل میڈیا ونگ تھا۔ ہزاروں فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز کا قیام اور پھر ان کے ذریعے فوجی قیادت کی تباہ کن کردار کشی کا سلسلہ۔ میاں نواز شریف اب نام لے کر فوجی قیادت کو للکار رہے ہیں مگر ان کا سوشل میڈیا ونگ تین سال سے اسی بیانیے کو آگے بڑھاتا چلا آرہا ہے۔ جو لوگ اس ساری صورت حال پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کے لیے نوازشریف کا آج کا لہجہ قطعی غیر متوقع نہیں۔ مسلم لیگ ن سوشل میڈیا پوسٹوں میں تین سال سے اسی موقف کو آگے بڑھاتی رہی ہے اور یہ بات متوقع تھی کہ اگلے مرحلے پر اس سخت گیر موقف کے ساتھ مسلم لیگ ن ازخود سامنے آسکتی ہے۔ محمد زبیر کی ناکام ملاقات کے بعد یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔ پاکستان میں عوام کو منظم کرکے ریاستی اداروں کے مقابل کھڑا کیا جائے یہاں تک کہ فوج دفاعی پوزیشن میں چلی جائے۔ اس زعم کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ن لیگ پنجاب کے وسطی علاقے اور جی ٹی روڈ کی مقبول جماعت ہے۔ ن لیگ کی قیادت اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ پہلی بار پنجاب اینٹی اسٹیبلشمنٹ مزاج کے ساتھ سامنے آیا ہے حالانکہ ایسا نہیں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی پنجاب میں مقبول جماعت تھی یہ مزاج کے اعتبار سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھی۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد اس کا غصہ اشتعال کی حدوں تک پہنچ گیا۔ پنجاب سے بہت سے لوگ الذوالفقار میں شامل ہو کر اسٹیبشلمنٹ کو سبق سکھانے کے راستے پر چل پڑے۔ کئی ایک جہازوں کے اغوا میں شامل رہے۔ پنجاب کا بائیں بازو کا دانشور پیپلزپارٹی کا حامی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہا۔ اس طرح مجموعی طور پر پنجاب میں اچھا خاصا اینٹی اسٹیبلشمنٹ مزاج موجود رہا۔ مسلم لیگ ن نے پنجاب سے پیپلزپارٹی کا صفایا کیا۔ پیپلزپارٹی کا ووٹر پی ٹی آئی کی طرف لڑھک گیا مگر پارٹی کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ دانشور طبقہ ن لیگ کو مسیحا جان کر اس جانب چلا گیا اور یہی طبقہ اب اسٹیبلشمنٹ سے ماضی کے قرض چکا نے کے لیے نوازشریف کا کندھا استعمال کر رہا ہے۔ اسی طبقے نے نوازشریف کو اقتدار کے دنوں میں باور کرایا کہ پانچ چھ ٹی وی چینل اگر ان کا ساتھ دیں تو ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا تیا پانچہ کرسکتے ہیں۔ چار چینلوں کا ساتھ بھی یہ معجزہ نہ دکھا سکا۔
ضیاء الحق کے گیارہ سالہ پیپلزپارٹی کو پنجاب سے اکھاڑتے ہوئے گزر گئے اور اس خوف میں گزرے کی پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک مقبول لہر بن کر لوٹ نہ آئے۔ یہ پیپلزپارٹی سے نہیں اس کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے سے خوف کھایا جا رہا تھا۔ اس تند مزاجی کے باوجود پیپلزپارٹی پنجاب میں کوئی انقلاب برپا نہ کر سکی جو بے نظیر بھٹو لاہور ائرپورٹ پر اس دعوے کے ساتھ اتری تھیں کہ وہ چاہتیں تو ہجوم کا رخ گورنر ہائوس کی طرف موڑ کر قبضہ کراتیں سال بھر کے تجربے کے بعد محمد خان جونیجو کی گول میز کانفرنس میں شریک ہونے پر مجبور ہوئیں۔ نعرہ لگانا، جلسے جلوس میں شریک ہونا، موجودہ دور میں فیس بک فین بننا اور لائک اور شیئر کرنا اپنی جگہ مگر میدان عمل میں لاٹھیاں کھانا اور جیلوں کی سختیاں جھیلنا ایک الگ دنیا کی بات ہوتی ہے۔ اس کے لیے معاشرے پر کوئی بہت بڑی اُفتاد پڑنا لازمی ہوتا ہے جب لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کی عملی تصویر بنتے ہیں۔ حکمران طبقات کی طاقت کی بے مقصد کشمکش میں لوگ یوں پروانوں کی طرح شمع جمہوریت کے لیے نہیں جل مرتے۔
پنجاب اور اسٹیبشلمنٹ کا رومانس پرانا ہے۔ پنجاب ہی کیا ملک کے کسی دوسرے صوبے میں بھی اب اس طرح کی تحریک برپا اور مقبول نہیں بنائی جا سکتی۔ ن لیگ مغالطوں کی راہ پر گامزن ہے۔ پہلے خود نوازشریف نے برطرفی کے بعد جی ٹی روڈ کا راستہ اپنا کر عرب بہار کے امکانات کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ انہیں اندازہ ہوجانا چاہیے تھا کہ پاکستان میں ایک معقول ہجوم اکٹھا کرکے میلے کا سماں پیدا کرنا الگ بات مگر سروں کی قربانی دینے والے سرفروش تیار کرکے تبدیلی لانا قطعی الگ ہوتا ہے۔ جی ٹی روڈ سے ملنے والے سبق کے باوجود نوازشریف نے شہباز شریف کے ناتواں کندھوں پر عرب بہار برپا کرنے کا بوجھ ڈالا۔ نوازشریف کی وطن واپسی کے موقع پر شہباز شریف گول گول گھومتے رہے مگر ان کا کارواں ائر پورٹ نہ پہنچ سکا۔ بعد میں عرب بہار کا معجزہ دکھانے کا کام مولانا فضل الرحمن کے سپرد کیا گیا مگر یہ معجزہ دکھانا مولانا کے بس میں بھی نہیں تھا۔ آزادی مارچ میں ان کے لہجے کی گھن گرج تو کسی انقلابی راہنما کی تھی مگر ایک سہ پہر ان کے کارکن رخت ِ سفر باندھ کر گھروں کو چل دیے۔ اب مریم نواز خود میدان میں اُتری ہیں۔ ان کے گھرانے نے پنجاب پر حکمرانی تو کی ہے مگر وہ پنجاب کی نفسیات سے نا آشنا ہیں۔ پنجاب فیس بک کے قصے کہانیوں میں تو ن لیگ کا ساتھ دے سکتا ہے مگر جب فوج اور ن لیگ آمنے سامنے آئے گی تو پنجاب ن لیگ کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔ یہ تلخ زمینی حقیقت ہے۔ اب مریم نواز خود کو عوام سمجھ کر فوج کو دھمکار ہی ہیں کہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان نہ آئے اور حکومت کی پشت پناہی ترک کرے۔ ن لیگ اور فوج کی اس کشمکش کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کو ہو رہا ہے۔ جس پیپلزپارٹی کو شریف خاندان نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا آج اپنے طرز سیاست سے وہ اسی پیپلزپارٹی کو پنجاب میں پائوں رکھنے کی جگہ فراہم کر رہے ہیں اور یہ جگہ عمران خان کے حلقہ اثر سے نہیں خود ن لیگ کے حلقہ اثر میں بن رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کے فوج مخالف بیانیے کے اعلانیہ ناقد بلوچستان کے جنرل قادر بلوچ اور نواب ثناء اللہ زہری ہیں۔ دونوں راہنمائوں نے ن لیگ سے استعفا دیا مگر ان کا اگلا سیاسی ٹھکانہ پی ٹی آئی نہیں پیپلزپارٹی معلوم ہو رہی ہے اور پیپلزپارٹی نے بھی ان کے ساتھ نامہ وپیام کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ مسلم لیگ ن سے مایوس ہونے والے عمومی رجحان کا عکاس ہے۔ پنجاب میں بھی ن لیگ کا قافیہ تنگ ہوگا تو اس کا فائدہ پیپلزپارٹی ہی سمیٹے گی۔ اس لیے مریم نواز اب فوج کے ساتھ بات چیت پر آمادگی بھی ظاہر کر رہی ہیں۔ پاکستان میں عرب بہار کے خواب اور خواہش پر فقط یہی کہا جا سکتا ہے۔
بلبلِ شوریدہ سر نالہ ہے تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی