آرزو اور ایسٹونیا

133

پاکستان کی ترجیحات کی فہرست میں دو اہم امور سرے سے غائب ہیں۔ ایک آبادی اور دوسرا غیر فعال افسر شاہی۔ اس مضمون کا مقصد ہمارے متروک اور پیچیدہ حکمرانی کے عمل کو دوبارہ انجینئر کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکان کو ممکن بنانا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایک عام شہری کی زندگی، سخت محنت، بے معنی دستاویزات اور سرکاری دفاتر کی جانب بے مقصد بھاگ دوڑ سے دوچار ہے۔ اس اذیت کا تصور کریں کہ جس سے شوہر کی موت کے بعد پنشن لینے کے لیے ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کی بیوہ عورت کو گزرنا پڑتا ہے۔ اسے 18 قسم کی دستاویزات، حلف نامے، فوٹو کاپیاں، سرٹیفکیٹ، فوٹو، تصدیق نامے، شادی کا ثبوت، اور اس بات کا ثبوت دینا کہ اس کا شوہر واقعتا مر گیا تھا اور بیوی زندہ ہے۔ اگر خاندانی ریکارڈ کی معلومات کو ڈیجیٹل طور پر، آسانی سے اور محفوظ طریقے سے متعلقہ محکموں کو مہیا کیا جائے تو اس پریشانی اور اذیت سے بچا جاسکتا ہے۔ ذرا ایسٹونیا کو دیکھیں جو ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ آج کے دور میں دنیا کا جدید ترین ڈیجیٹل سوسائٹی والا ملک سمجھا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عوامی خدمات کا 99 فی صد 24/7 آن لائن دستیاب ہے۔ واحد ملک ہے جہاں شہریوں کو اگر وہ پہلے ہی کسی دوسرے محکمے کو ایک بار کوئی دستاویز یا اعداد وشمار دے چکے ہیں تو دوسری بار کسی بھی سرکاری محکمہ کو کوئی اعداد وشمار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ واحد ملک جہاں شہری کی اپنی زندگی میں کبھی بھی سر کاری دفاتر میں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ شادی کا معاملہ ہو یا غیر منقولہ جائداد کا لین دین رجسٹر کرانا ہو۔
آج کے دور میں ہر ایک ’اسکائپ‘ کے بارے میں جانتا ہے، لیکن بہت کم اس بات سے واقف ہوں گے کہ اس کو اسٹونین انجینئروں نے تیار کیا تھا اور بعد میں مائیکرو سافٹ کو 8.56 بلین ڈالر نقد میں فروخت کیا تھا۔ ایسٹونیا ڈیجیٹل ترقی کی ایسی بے مثال سطح تک کیسے پہنچے؟ ڈیجیٹل سوسائٹی کے لیے اسٹونین کی یہ ترقی 3 عوامل پر مبنی ہے۔ ایک مستقبل کی سوچ رکھنے والی حکومت، آئی ٹی کا ایک سرگرم شعبہ، اور ٹیکنالوجی سیکھنے والی آبادی۔
اس ملک میں 98 فی صد کمپنیاں آن لائن قائم کی جاتی ہیں۔ 99فی صد بینکاری لین دین آن لائن ہوتا ہے۔ اور 98فی صد ٹیکس ڈکلیریشن آن لائن فائل کیے جاتے ہیں۔ ایسٹونیا میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں صرف 3 منٹ لگتے ہیں۔ اس کے برعکس بیش تر پاکستانیوں کو جان بوجھ کر پیچیدہ ڈیزائن کردہ مشکل کام انجام دینے کے لیے ایک پیشہ ور وکیل کی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے۔
2005 میں، ایسٹونیا تاریخ کا وہ پہلا ملک بن گیا جس نے ملک گیر انتخابات میں انٹرنیٹ ووٹنگ کا نظام متعارف کرایا۔ آئی ووٹ سسٹم ایک ایسا نظام ہے، جو اسٹونیا کے شہریوں کو دنیا میں کہیں بھی انٹرنیٹ سے منسلک کسی بھی کمپیوٹر سے اپنے ووٹ کاسٹ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ کچھ ممالک میں استعمال ہونے والی مشکل مشینری کے ساتھ مہنگے الیکٹرونک ووٹنگ سسٹم کے برخلاف، اسٹونیا کا ووٹنگ کا نظام آسان اور محفوظ ہے۔ ایک اور قابل ذکر ڈیجیٹل ترقی جس کی پاکستان کو فوری طور پر تقلید کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے اسٹونین کورٹ انفارمیشن سسٹم۔ اسٹونین عدالت کا نظام پولیس، جیلوں، پراسیکیوٹرز اور فوجداری مقدمہ کے انفارمیشن سسٹم سے منسلک ہے۔ بہت سارے عدالتی معاملات میں کاغذ کی فائل بالکل نہیں بنتی ہے۔ ہر فریق کہیں سے بھی مقدمہ شروع کرسکتا ہے اور دستاویزات تک رسائی بھیج سکتا ہے۔ اس سسٹم میں ورک فلو انجن ضروری اعداد و شمار مقدمہ کے لیے مختص جج کے پورٹل پر پہنچاتا ہے۔ پاکستان کے برعکس، اسٹونین جج کسی بچے کی عمر کا تعین کرنے کے لیے ہفتوں، کمیٹیاں تشکیل نہیں دے گا یا تحقیقات کے لیے انویسٹیگیٹر کا تقرر نہیں کرے گا۔
وہ غیر اخلاقی طور طریقے رکھنے والے وکلا کے مشکوک حلف ناموں یا جعلی ’مولویوں‘ کے جعلی ’نکاح ناموں‘ پر بھی انحصار نہیں کرے گا۔ وہ سیکنڈوں ہی میں اپنے کمپیوٹر پر مختلف سرکاری محکموں سے حقائق سے متعلق معلومات حاصل کرے گا اور چند منٹ میں اس کیس کا فیصلہ دے دے گا۔ پاکستان میں ایک حالیہ معاملے میں 13 سالہ بچی آرزو کو اس اذیت، زیادتی اور دکھ سے بچایا جا سکتا تھا۔ جس میں اغوا، جبری شادی اور مذہب کی تبدیلی شامل تھی۔ پاکستان کو حلف ناموں، اسٹامپ پیپرز، وکلا اور نوٹری پبلک پر اپنی قدیم اور ضرورت سے زیادہ انحصارکو ختم کرکے ایک موثر ڈیجیٹل جوڈیشل انفارمیشن سسٹم کی ضرورت ہے۔ جہاں عدالتوں کو حقائق اور ڈیٹا کے بارے میں درکار معلومات، حکومت کے ڈیٹا بیس کے نیٹ ورک کے ذریعہ فوری طور پر فراہم کرنا چاہیے۔ اگر میڈیا نے اس معاملہ پر بڑے پیمانے پر شور نہ مچایا ہوتا اور بہادر وکیل جبران ناصر نہ ہوتے تو، 13 سالہ آرزو اپنی باقی ماندہ زندگی ناقابل بیان مشکلات اور بدحالی کے حالات میں گزارتی۔