آسٹریلیا کا افغانستان میں جنگی جرائم کرنے کا اعتراف

96

کینبرا (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلوی فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اعتراف کیا ہے کہ اُس کے افغانستان میں تعینات اہل کار مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق آسٹریلیا کی جانب سے پہلی بار فوجیوں سے متعلق جنگی جرائم کو تسلیم کیا گیا ہے۔ فوج کے اعلیٰ عہدے دار جنرل آنگس کیمپبیل نے کہا ہے کہ اس بات کے پختہ ثبوت اور شواہد موجود ہیں کہ افغانستان میں تعینات آسٹریلوی فوجیوں نے کم از کم 39 ایسے افغان شہریوں کو غیر قانونی طور پر قتل کیا، جن کا لڑائی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 برس سے اندرونی طور پر اس معاملے کی تفتیش جاری تھی۔ انہوں نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں آسٹریلیا کی دفاعی فورسز کی جانب سے افغان عوام کے ساتھ ہونے والی کسی بھی غلطی کے لیے بلاشرط اور پرخلوص معافی مانگتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کچھ فوجی پیشہ ورانہ اقدار کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہے۔ اب ہمارا اگلا قدم جنگی جرائم میں ملوث اہل کاروں کے خلاف عدالتی چارہ جوئی ہوگا کیوں کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آسٹریلوی فوج میں اسپیشل فورسز کے 25 فوجی، قیدیوں، کسانوں اور دیگر نہتے عام شہریوں کے قتل میں ملوث رہے۔ غیر قانونی طور پر عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے ایسے 23 واقعات کے بھی پختہ شواہد موجود ہیں، جن میں 39 افغان مارے گئے۔ ہلاکتوں کا یہ سلسلہ 2009ء میں شروع ہوا، تاہم بیشتر افراد کو 2012ء اور 2013ء کے درمیان قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایسے بھی کئی واقعات کا انکشاف ہوا ہے کہ فوجیوں نے پہلی بار کسی کو قتل کرنے کے اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے قیدیوں ہی کو گولی مار دی اور پھر لڑائی میں ہلاک کرنے کے جعلی ثبوت کا انتظام کرلیا۔ تفتیشی رپورٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے جنرل کیمپبیل نے مزید بتایا کہ ہلاکتوں کے واقعات میں ایسا کوئی بھی واقعہ نہیں تھا جو لڑائی کے دوران پیش آیا ہو یا ایسا غلطی سے ہوگیا ہو۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض فوجی ایسے بھی ہیں جو ان جرائم میں ملوث رہے اور تاحال آسٹریلیائی فوج میں کام کررہے ہیں۔ تفتیشی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اس سلسلے میں 19 افراد سے قتل جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے لیے مزید تفتیش ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ تفتیش کے دوران 55 واقعات کی تحقیقات کی گئی ہیں، جن میں 336 گواہوں سے شواہد یا ثبوت جمع کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعیناتی کے دوران جنگی جرائم میں ملوث فوجیوں کے خلاف آسٹریلیا میں مقدمہ چلا کر سزا دینے کی حکومتی کوشش دراصل بین الاقوامی جنگی جرائم کے الزامات اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی سے بچنا بھی ہے۔