زراعت وصنعت کیلیے مربوط پالیسی ناگزیر ہے،جسٹس (ر) وجیہ الدین

31

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا کہ ملک میں زراعت اور صنعت کی مربوط پالیسی سمیت اسمگلنگ سے پاک نظام ناگزیر ہوگیا ہے۔ جب تک ہمارے بارڈر محفوظ نہیں ہوںگے اور جب تک اسمگلنگ پر قابو نہیں پائیں گے اس وقت تک ہماری اپنی معیشت دوسروں کی محتاج ہوگی اور ہمارے اپنے ہاتھ میں نہیں رہے گی۔ ایک بیان میں جسٹس وجیہ نے کہا کہ ہمارے ملک میں لوگوں کا اعتماد عدالتوں خصوصاً نچلے درجے کی عدالتوں سے اٹھتا چلا جارہا ہے۔ مسائل کو عدالتوں میں لے جانے اور وہاں سے جلدی فیصلے حاصل کرنے کے بجائے ذرا ذرا سے مسئلوں پر شورش انگیز سیاست متحرک ہو جاتی ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ دھرنے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوششیں پیداوار بڑھانے کیلیے ہونی چاہییں۔ انڈسٹریل پروڈکشن یقیناً ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ لیکن جب تک زراعت کے شعبہ میں مثبت کام نہ ہو انڈسٹری کے پہیے بھی جام ہوجاتے ہیں۔ افسوس یہ کہ گندم کی فصل تقریباً فیل ہوگئی۔ کپاس مارکیٹ میں نہیں ہے تو ٹیکسٹائل ملز کیسے چلیں گی۔ چینی کا بحران کوئی پرانی بات نہیں ہے، خود کا پیدا کردہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے روس سے ڈھائی ہزار روپے من کے حساب سے گندم درآمد کی۔ جبکہ اپنے کسان کو ہم گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے دینے کو بھی تیار نہیں۔