افغانستان میں امن خطے کے استحکام کی ضمانت ہے،عمران خان

112
کابل: وزیراعظم عمران خان افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کررہے ہیں

کابل(صباح نیوز+آن لائن)پاکستان اور افغانستان نے قریبی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حالیہ سلسلے کو کم کرنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کرلیاہے یہ اتفاق رائے وزیر اعظم عمران خان اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات میں ہوا،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ امور اور افغان مفاہمتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد افغان صدارتی محل میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے دورہ افغانستان کی دعوت پر اشرف غنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن خطے کے استحکام کی ضمانت ہے،مفاہمتی عمل میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا،
افغانستان میں تشدد کے خاتمے کے لیے توقعات سے بڑھ کر مدد کرینگے، جبکہ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ بہتر مستقل کے لیے اور علاقائی ترقی کے لیے پاک افغان تعاون ناگزیر ہے، آزادی اظہار رائے کے حوالے سے منفی اور مثبت رویوں میں تفریق ہونی چاہیے،افغانستان میں تشدد کے خاتمے کے لیے جنگ بندی چاہتے ہیں۔ دونوں رہنمائوں کی ملاقات کے حوالے سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے انفرااسٹرکچر، توانائی منصوبوں میں تیزی لانے اور نئے ریل روڈ منصوبوں پر اتفاق کیا۔ملاقات میں پاک افغان دوطرفہ تعلقات اور افغان امن عمل پر گفتگو کی گئی۔ افغان صدر سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جمہوری، خودمختار افغانستان کے لیے پاکستان حمایت جاری رکھے گا، ہمیشہ سے مؤقف ہے کہ افغانستان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، افغانستان میں امن و استحکام کا واحد حل مذاکرات، سیاسی تصفیہ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے وسیع البنیاد، جامع سیاسی تصفیہ کی اہمیت بتائی اور کہا کہ پاکستان امن عمل میں افغانوں کے فیصلوں کا احترام کرے گا۔اسلامی جمہوریہ افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان مشترکہ نظریہ کے عنوان سے ایک دستاویز بھی جاری کی گئی، دستاویز جاری کرنے کا مقصد پاکستان اور افغانستان سمیت خطے میں امن واستحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے، مشترکہ نقطہ نظرکا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اورعوامی رابطے آگے بڑھانا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے سلامتی اورامن سے متعلق امورکو آگے بڑھانے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا، وزیراعظم نے متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون مستحکم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی قیادت کے تبادلے پراطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ افغانستان گئے ہیں جہاں کابل پہنچنے پر ائرپورٹ پر افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا جبکہ صدارتی محل میں وزیراعظم کا سرخ قالین استقبال کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ کابل گئے ہیں جس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی محمد صادق اور سینئرعہدیدار بھی شامل ہیں۔

کابل: وزیراعظم عمران خان افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کررہے ہیں