شیخ رشید نے اہل کراچی سے ہاتھ کردیا ،نامکمل سرکلر ریلوے کا افتتاح کرڈالا

169
کراچی: وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کراچی سرکلر ریلوے کا افتتاح کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی والوں کے ساتھ پھرہاتھ ہوگیا،نامکمل انتظامات کے تحت 25 برس بعد کراچی سرکلرریلوے ٹرین پرانے روٹ پر جزوی طور پربحال کردی گئی ہے۔جمعرات کو سٹی اسٹیشن کراچی پروزیرریلوے شیخ رشید احمد نے کراچی سرکلر ریلوے کا افتتاح کرتے ہوئے کراچی سرکلر ریلوے کا کرایہ بھی 50کے بجائے30روپے کرنے کا اعلان کیا۔سرکلر ریلوے کی افتتاحی تقریب سے خطاب
کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایا کہ ٹرین 46کلو میٹر ٹریک پر سٹی اسٹیشن سے پیپری تک چلے گی، اس میں سرکلر کا14 کلو میٹر خصوصی ٹریک شامل ہے،15روز بعد مزید 14 کلو میٹر ٹریک کا اضافہ ہوگا اور12 پھاٹک نصب کریں گے جبکہ ٹریک پر کراسنگ کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی۔شیخ رشید نے بتایاکہ ابتدا میں یومیہ 2ٹرینیں چلیں گی،پھر14دسمبر کو8اور اس کے بعد سے یومیہ20ٹرینیں چلیں گی، سرکلر ریلوے کا کرایہ 30 روپے کردیا، مزدور طبقہ750روپے ماہانہ کارڈ کے زریعے سفر کرسکیں گے۔کراچی سرکلر ریلوے کی ایک کوچ کی لاگت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک، ایک کوچ90لاکھ روپے کی بنی ہے جبکہ اب تک 17ملین(ایک کروڑ70لاکھ)لگ چکے ہیں جبکہ عمران خان نے ہمیں کے سی آر کے لیے ایک ارب80کروڑ روپے دیے ہیں۔ کراچی سرکلر ریلوے ٹرین صبح 7بجے کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہو کر کراچی کینٹ ،ڈیپارچر یارڈ، ڈرگ روڈ، ڈرگ کالونی، ائرپورٹ ہالٹ، ملیر کالونی ، ملیر، لانڈھی، جمعہ گوٹھ، بن قاسم اوربادل نالہ سے ہوتی ہوئی صبح 8بجکر 30منٹ پر مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن پہنچے گی۔دوسری ٹرین کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے شام 5بجے روانہ ہو کر اسی روٹ سے ہوتی ہوئی شام 6 بج کر30 منٹ پر مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن پہنچے گی۔ اسی طرح کراچی سرکلر ریلوے ٹرین مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن سے صبح 7بجے روانہ ہو کر اسی روٹ سے ہوتی ہوئی صبح 8بجکر 30منٹ پر کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن پہنچے گی جبکہ دوسری دفعہ مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن سے یہ ٹرین شام 4بج کر 30منٹ پر روانہ ہوکر شام6بجے کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن پہنچے گی ۔ واضح رہے کہ سفید اور نیلے رنگ کی کوچز پر سبز اور لال رنگ کی دھاریاں بنائی گئی ہیں جو اسے پاکستان ریلویز کی انٹرسٹی سبز ٹرینوں سے مکمل طور پر مختلف بناتی ہیں۔تمام کوچز کا اندرونی حصہ سفید رنگ کا ہے جس میں مسافروں کے بیٹھنے کے لیے سنگل کے ساتھ ساتھ 3 سیٹوں کا آپشن بھی موجود ہے جبکہ کوچز کے دروازے اور نشستیں نیلے رنگ کے ہیں ۔ کوچز میں دونوں طرف بڑی ہوا دار کھڑکیاں موجود ہیں جبکہ اس میں ائرکنڈیشنڈ کی سہولت موجود نہیں ہے۔ہر کوچ میں100مسافروں کے لیے گنجائش موجود ہے جن میں سے64مسافر بیٹھ کر جبکہ36 مسافر کھڑے ہوکر سفر کرسکیں گے اور ان مسافروں کے پکڑنے کے لیے ہینڈل بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق نئے روٹ پر اسٹیشنوں کی بحالی کا کام سست روی کا شکار ہونے کے علاوہ اورنگی اسٹیشن پر لوپ لائن ڈالنے کا کام بھی نامکمل ہے جبکہ اورنگی اسٹیشن سے وزیرمینشن تک اسٹیشنزاورٹریک پرسے تجاوزات کا خاتمہ بھی نہیں کیا جاسکا ہے اورمرمتی کام مکمل ہونے میں مزید 3 سے4 ہفتے لگ سکتے ہیں ۔ ماڑی پور ٹریک اور ٹکٹ گھر کی مرمت کا کام بھی چل رہا ہے،اورنگی اسٹیشن کی عمارت کی تزئین وآرائش کا کام بھی مکمل نہیں کیا گیا ہے۔کراچی سرکلرریلوے کے دیگراسٹینشزکی حالت انتہائی ناگفتہ ہے اوران پرٹکٹ گھریا مسافروں کی سہولت کے دیگرانتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیر ریلوے نے بغیر انتظامات کے سی آر کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔سرکلرریلوے کی بحالی کے لیے پہلے 10 نومبر اورپھر16نومبر سے ٹرین چلانے کا اعلان کیا گیا جبکہ تیسری بار نئی تاریخ19 نومبر مقرر کی گئی مگر عملی طور پر کے سی آر اسٹیشنزپر تاحال کسی قسم کے انتظامات نہ ہونے ٹریک کلیئرنہ ہونیکی وجہ سے نئے روٹ پرکے سی آرکی بحالی ممکن نہیں ہوسکی ہے، نئے روٹ پرقائم اسٹیشنوں پرصفائی کے انتظامات ہیں نہ ہی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔اسٹیشنوں پر انتظارگاہیں بنائی گئیں اور نہ ہی ٹکٹ گھر بنائے گئے ہیں۔خیال رہے کہ1964ء میں کھولا گیا کراچی سرکلر ریلوے ڈرگ روڈ سے شروع ہوتا تھا اور شہر کے وسط میں اختتام پذیر ہوتا تھا تاہم بڑے نقصانات اٹھانے کے بعد1999ء میں کراچی سرکلر ریلوے نے آپریشن بند کردیا تھا۔بعد ازاں مذکورہ معاملے پر حالیہ برسوں میں عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا تھا اور فروری2020ء میں حکومت کو3ماہ میں منصوبہ بحال کرنے کا حکم دیا تھاتاہم عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوسکا تھا، جس کے بعد10نومبر 2020ء کو عدالت عظمیٰ نے سرکلر ریلوے منصوبے کی تکمیل میں واضح تاخیر پر سیکرٹری ریلوے حبیب الرحمن گیلانی اور چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا ۔

کراچی: وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کراچی سرکلر ریلوے کا افتتاح کررہے ہیں