درآمدات و برآمدات مکمل طور پر منقطع ہونے کا خدشہ ہے، شارق وہرہ

94

,نیٹی جیٹی پل کی خوفناک صورتکے سی اے اے وفد کا کراچی چیمبر دورہ

حکومت کراچی پورٹ کے قریب خستہ حال سڑکوں کے سنگین مسئلے ترجیحی بنیاد پر حل کرے ، واثق حسین

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر ایم شارق وہرہ اورکراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (کے سی اے اے) کے صدر واثق حسین خان نے نیٹی جیٹی پل کی خوفناک صورتحال پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے جس پر اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس سے ملک کی درآمدات و برآمدات مکمل طور پر منقطع ہو کر رہ جائیں گی کیونکہ یہ پل واحد اہم راستہ ہے جو کراچی پورٹ کو شہر اور ملک کے ساتھ ملاتا ہے۔ان خدشات کا اظہار کے سی اے اے کے وفد کے کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ایم ثاقب گڈ لک، نائب صدر شمس الاسلام خان، جنرل سکریٹری کے سی اے اے محمود الحسن اعوان، کے سی سی آئی اور کے سی سی اے کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔کے سی سی آئی کے صدر اور کے سی اے اے صدر نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ کراچی پورٹ کے قریب خستہ حال سڑک کے سنگین مسئلے پر توجہ دیتے ہوئے اسے اولین ترجیح دیتے ہوئے بہتر بنائیں کیونکہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے میں تاخیر سے نہ صرف پاکستان کی تجارت متاثر ہوگی بلکہ ملکی معیشت پر بھی اس کا سنگین اثرات مرتب ہوںگے ۔ پورٹ قاسم میں سڑکوں کا بھی ایسا ہی حال ہے جو تاجر و صنعتکار برادری کے لئے قابلِ تشویش ہے۔
شارق وہرا نے کہا کہ یہ واقعی بدقسمتی ہے کہ ہیوی گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی کے باعث کراچی بندرگاہ دن میںبمشکل 8 گھنٹے کام کرتی ہے جو کہیں بھی نہیں ہوتا ہے کیونکہ پوری دنیا کی بندرگاہیں 24 گھنٹے چلتی رہتی ہیں۔ ہم کراچی میں ٹریفک کے مسائل کو پوری طرح سمجھتے ہیں لیکن روزانہ اتنے گھنٹوں تک ہیوی گاڑیوں کی نقل و حرکت کی اجازت نہ دینا مناسب حل نہیں لہٰذا حکومت کو ہیوی گاڑیوں کے لیے خصوصی طور پر ایک ایلیویٹڈ کوریڈور کی تعمیر کے لیے کے سی سی آئی کے جائز مطالبے پر دھیان دینا ہوگا جسے بنانے سے شہر کی کسی بھی سڑک سے گزرے بغیر ہیوی گاڑیاں کراچی پورٹ سے ہائی وے روانہ ہو جائیں گی۔
انہوں نے بندرگاہوں اور شپنگ سے متعلق مختلف مسائل خاص طور پر وہ مسائل جن کا تعلق شپنگ ایجنٹوں اور ٹرمینل آپریٹرز کے پیدا کردہ ہیں ان سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ یہ وہ مسائل ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے زیر التوا ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسٹیک ہولڈرز کو درپیش بیشتر مشکلات اور مسائل مناسب قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ہیں لہٰذا جہاز رانی اور ٹرمینل آپریٹرز وغیرہ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانونی فریم ورک کی منظوری ناگزیر ہوچکی ہے جو کئی سالوں سے زیرالتوا ہے۔
انہوں نے کے سی سی آئی اور کے سی اے اے کے مابین ایک مضبوط رابطہ استوارکرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ٹرمینل آپریٹرز یا کسٹمز کے پیدا کردہ کلیئرنس سے متعلق معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاسکے چونکہ کے سی سی آئی تجارتی سہولتیں فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ کے سی اے اے کو بھی کراچی چیمبر کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھنا چاہئے اور مسائل حل کرنے کے لیے اپنی قیمتی رائے دینی چاہئے کیونکہ کے سی اے اے ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پاس وسیع تبادلہ خیال اور دائرہ کار کی وجہ سے معلومات کا سمندر موجود ہے۔شارق وہرہ نے کہا کہ اگر وہ بطور صدر کے سی سی آئی اپنی دورمدت میں کم از کم 4 سے 5 بڑے مسائل حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جو طویل عرصے سے زیرالتوا ہی تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔
کے سی اے اے کے صدر واثق حسین نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے سی اے اے مستقل طور پر شپنگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن اس اتھارٹی کے قیام کی قانون سازی اب تک سینیٹ میں منظوری کی منتظر ہے۔اس اہم اتھارٹی کے نہ ہونے سے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان دونوں ہی اس بات سے بالکل ناواقف ہیں کہ اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو مدد کے لیے کس سے رجوع کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹرمینل آپریٹرز کی وجہ سے بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے جو5 فری دنوں کی چھوٹ کے باوجود قواعد کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے جہاز کی آمد کی تاریخ سے ہی ڈیمریج وصول کرنا شروع کردیتے ہیں۔گرا¶نڈنگ مسائل کے علاوہ اور بہت سارے مسائل ایسے ہیں جن کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے اٹھایا جانا چاہئے۔
کے سی اے اے کے جنرل سکریٹری محمود الحسن اعوان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کراچی چیمبر کو کے سی اے اے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ کے سی اے اے تنہا مطلوبہ مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتا۔کسٹمز میں افرادی قوت کی کمی ایک اور اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جہاںکم از کم دس افراد کے ذریعے کام ہونا ہو وہاں فی الوقت صرف دو کسٹم اہلکارکام کر رہے ہیں جو کلیئرنس میں تاخیر کا باعث بنتا ہے اور تاجروں کی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سامان کی کلیئرنس میں10، 15 اور یہاں تک کہ 25 دن تک تاخیر ہوجاتی ہے جس سے تاجروں کو خطیر مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور درآمدی سامان کی زائد لاگت کی وجہ سے ان کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔انہوں نے چند مثالوں کا حوالہ دیا جس میں صرف کسٹم حکام کی طرف سے تاخیر کی وجہ سے بندرگاہ کو ایک لاکھ سے لے کر 2 لاکھ روپے تک کی اضافی رقم ادا کی گئی جبکہ شپنگ کمپنیوں نے5 لاکھ روپے تک ڈیمرج اور ڈی ٹنیشن کی مد میں وصول کئے۔