مشترکہ تجارت میں خسارے کا تناسب؟

144

سوال: میں کئی برس سے ایک کاروبار کررہا ہوں۔ میں نے اپنے ایک دوست کو پیش کش کی کہ وہ بھی اس میں شریک ہوجائے۔ وہ اس پر رضا مند ہوگیا۔ اب کاروبار میں میرا سرمایہ ستّر (70) فیصد اور میرے دوست کا تیس (30) فیصد ہے۔ ہم اس پر متفق ہوگئے کہ نفع میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے، یعنی نفع میں ہر ایک کا حصہ پچاس (50) فیصد ہوگا۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر کاروبار میں خسارہ ہو تو کیا اس میں بھی ہم دونوں برابر کے شریک ہوں گے، یعنی ہر ایک کو پچاس (50) فیصد خسارہ برداشت کرنا ہوگا، یا جس کا سرمایہ جس تناسب سے لگا ہوا ہے اس کے اعتبار سے اسے خسارہ برداشت کرنا ہوگا؟
جواب: مشترکہ تجارت شرکت اور مضاربت دونوں طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ شرکت یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد افراد متعین سرمایوں کے ساتھ کسی کاروبار میں شریک ہوں اور ان کے درمیان یہ معاہدہ طے پائے کہ وہ مل کر کاروبار کریں گے اور نفع و نقصان میں ان کی شرکت متعین تناسب کے ساتھ ہوگی۔ اور مضاربت یہ ہے کہ ایک فریق سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا اس سے کاروبار کرے اوران کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ نفع میں ایک متعین تناسب سے اسے حصہ ملے گا۔
شرکت اور مضاربت دونوں صورتوں میں نفع دونوں فریق کے درمیان باہم طے کردہ تناسب سے تقسیم ہوگا۔ کسی فریق کے لیے کوئی متعین رقم طے کرنا جائز نہیں ہے۔
یہ سوال کہ کیا شرکائے کاروبار باہم رضا مندی سے نفع کی تقسیم جس تناسب کے ساتھ چاہیں، کرسکتے ہیں؟ مضاربت کی صورت میں اس کا جواب تمام فقہا اثبات میں دیتے ہیں، البتہ شرکت کی صورت میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔
احناف اور حنابلہ اس صورت میں بھی شرکائے کاروبار کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے درمیان نفع کی تقسیم کا جو تناسب چاہیں، طے کرسکتے ہیں ، لیکن مالکیہ اور شوافع کہتے ہیں کہ نفع کی تقسیم شرکا کے فراہم کردہ سرمایوں کے تناسب سے عمل میں آئے گی۔ جہاں تک نقصان کا معاملہ ہے، شرکت کی صورت میں وہ ہمیشہ کاروبار میں لگے ہوئے سرمایوں پر ان کی مقداروں کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا اور اسے ان سرمایوں کے مالک برداشت کریں گے۔ مضاربت کی صورت میں مْضارِب (کاروبار کرنے والے) پر نقصان کا کچھ بار نہیں ڈالا جائے گا، اسے کُلّی طور پر صرف سرمایہ دار کو برداشت کرنا ہوگا۔ نفع اور نقصان میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کے نزدیک نفع سرمایہ لگا کر کاروباری جدوجہد کرنے کا نتیجہ ہے، جبکہ نقصان کسی جدّوجہد کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ کاروباری جدّوجہد کے باوجود سرمایے میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ مشہور ماہرِ معاشیات پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی نے کاروبار میں نفع اور نقصان کے فرق کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے: ’’نفع اور نقصان کی نوعیت میں اصولی فرق کا شریعت نے لحاظ رکھا ہے۔ یہ بات مضاربت کے شرعی اصول سے واضح ہے۔ اگر کاروبارِ مضاربت میں نقصان ہو تو کاروباری فریق کو اس نقصان کا کوئی حصہ نہیں برداشت کرنا ہوگا۔ اس نے سرمایے کے ذریعے کاروبار میں جدّوجہد کی، تاکہ سرمایے میں اضافہ ہو اور اس نفع میں سے اسے بھی حصہ ملے، لیکن باوجود کوشش کے اضافہ نہ ہوسکا۔ اس کی کاروباری جدوجہد ناکام رہی، اسے کوئی نفع نہیں ملے گا۔ یہی اس کا نقصان ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر اس پر سرمایے میں واقع ہونے والی کمی، یعنی کاروبار میں خسارے کا بار نہیں ڈالا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ شریعت نقصان کو کاروباری جدّوجہد کا نتیجہ یا ثمرہ یا حاصل نہیں قرار دیتی۔ وہ نقصان کو سرمایے میں نقصان قرار دیتی ہے۔ اس کے برعکس اگر مضاربت پر سرمایہ حاصل کرکے کاروباری جدّوجہد کرنے والے کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور کاروبار میں نفع ہوا تو اسے اس نفع میں سے ایک حصہ ملتا ہے۔ معلوم ہوا کہ شریعت نفع کو سرمایہ کے ساتھ کاروباری جدّوجہد کا نتیجہ اور ثمرہ قرار دیتی ہے۔ شریعت نے نفع اور نقصان کو ایک درجہ نہیں دیا ہے، نہ ان کی تقسیم کا اصول ایک رکھا ہے‘‘۔ (شرکت و مضاربت کے شرعی اصول، مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی، 1984، ص: 33-34 )
خلاصہ یہ کہ مشترکہ تجارت کے دو فریق الگ الگ تناسب میں اپنا سرمایہ لگانے کے باوجود نفع میں برابر کے شریک ہوسکتے ہیں، لیکن نقصان کی صورت میں انہیں اپنے لگائے ہوئے سرمایہ کے تناسب کے مطابق ہی نقصان برداشت کرنا ہوگا۔