عدت… حکم الٰہی

138

عدت کے لغوی معنی شمار کرنے کے ہیں، جبکہ شرعی اصطلاح میں عدت اس معین مدت کو کہتے ہیں جس میں شوہر کی موت یا طلاق یا خلع کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہونے پر عورت کے لیے بعض شرعی احکامات کی پابندی لازم ہوجاتی ہے۔ عورت کے فطری احوال کے اختلاف کی وجہ سے عدت کی مدت مختلف ہوتی ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں امت مسلمہ متفق ہے کہ شوہر کی موت، طلاق یا خلع کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان جدائی ہونے پر عورت کے لیے عدت واجب (فرض) ہے۔ عدت دو وجوہ سے واجب ہوتی ہے:
عدت شوہر کی موت کی وجہ سے
اگر شوہر کے انتقال کے وقت بیوی حاملہ ہے تو Delivery ہونے تک عدت رہے گی، خواہ اس کا وقت چار ماہ اور دس روز سے کم ہو یا زیادہ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ’’حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے‘‘۔ (سورہ الطلاق 4)
اس آیت کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ۔ جیسا کہ احادیث کی کتابوں میں وضاحت موجود ہے۔ حمل نہ ہونے کی صورت میں شوہر کے انتقال کی وجہ سے عدت 4 ماہ اور 10 دن کی ہوگی خواہ عورت کو ماہواری آتی ہو یا نہیں، خلوت صحیحہ (صُحبت) ہوئی ہو یا نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار ماہ اور دس دن عدت میں رکھیں‘‘۔ (سورہ البقرہ 234)
عدت طلاق یا خلع کی وجہ سے
اگر طلاق یا خلع کے وقت بیوی حاملہ ہے تو Delivery ہونے تک عدت رہے گی خواہ تین ماہ سے کم مدت میں ہی ولادت ہوجائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ’’حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے‘‘۔ (سورہ الطلاق 4)
اگر شوہر کے انتقال یا طلاق کے کچھ دنوں بعد حمل کا علم ہو تو عدت وضع حمل تک رہے گی خواہ یہ مدت 9 ماہ کی ہی کیوں نہ ہو۔ اگر طلاق یا خلع کے وقت عورت حاملہ نہیں ہے تو ماہواری آنے والی عورت کے لیے عدت 3 حیض (ماہواری) رہے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ’’مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں‘‘۔ (سورہ البقرہ 228)
تیسری ماہواری ختم ہونے کے بعد عدت مکمل ہوگی۔ عورتوں کے احوال کی وجہ سے یہ عدت 3 ماہ سے زیادہ یا تین ماہ سے کم بھی ہوسکتی ہے۔
جن عورتوں کو عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو تو طلاق کی صورت میں ان کی عدت تین مہینے ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ’’تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہوچکی ہیں، اگر تم کو ان کی عدت کے تعین میں شبہہ ہو رہا ہے تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور اسی طرح جن عورتوں کو حیض آیا ہی نہیں ہے، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے‘‘۔ (سورہ الطلاق 4)
نکاح کے بعد لیکن خلوت صحیحہ (صحبت) سے قبل اگر کسی عورت کو طلاق دے دی جائے تو اس عورت کے لیے کوئی عدت نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ’’اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے (یعنی صحبت کرنے) سے قبل ہی طلاق دے دو تو ان عورتوں پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں ہے جسے تم شمار کرو‘‘۔ (سورہ الاحزاب 49)
یعنی خلوت صحیحہ سے قبل طلاق کی صورت میں عورت کے لیے عدت نہیں ہے۔ لیکن خلوت صحیحہ (صحبت) سے قبل شوہر کے انتقال کی صورت میں عورت کے لیے عدت ہے۔ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 234 کے عموم ودیگر احادیث صحیحہ کی روشنی میں امت مسلمہ اس پر متفق ہے۔ نکاح کے بعد لیکن خلوت صحیحہ سے قبل طلاق دینے کی صورت میں آدھے مہر کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ (سورہ البقرہ 237)
عدت کی مصلحتیں
عدت کی متعدد دنیاوی واخروی مصلحتیں ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں: 1۔ عدت سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو بجالانا عبادت ہے اور عبادت سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ 2۔عدت واجب ہونے کی اہم مصلحت اس بات کا یقین حاصل کرنا ہے کہ پہلے شوہر کا کوئی بھی اثر بچہ دانی میں نہ رہے اور بچے کے نسب میں کوئی شبہہ باقی نہ رہے۔ 3۔نکاح چونکہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اس لیے اس کے زوال پر عدت واجب قرار دی گئی۔ 4۔نکاح کے بلند وبالا مقصد کی معرفت کے لیے عدت واجب قرار دی گئی تاکہ انسان اس کو بچوں کا کھیل نہ بنالے۔ 5۔شوہر کے انتقال کی وجہ سے گھر یا خاندان میں جو ایک خلا پیدا ہوا ہے اس کی یاد کچھ مدت تک باقی رکھنے کی غرض سے عورت کے لیے عدت ضروری قرار دی گئی۔
متفرق مسائل
شوہر کی وفات یا طلاق دینے کے وقت سے عدت شروع ہوجاتی ہے خواہ عورت کو شوہر کے انتقال یا طلاق کی خبر بعد میں پہنچی ہو۔ مطلقہ یا بیو ہ عورت کو عدت کے دوران بلا عذر شرعی گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ کسی وجہ سے شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو تو عورت اپنے میکے یا کسی دوسرے گھر میں بھی عدت گذار سکتی ہے۔ (سورہ الطلاق 1) عورت کے لیے عدت کے دوران دوسری شادی کرنا جائز نہیں ہے، البتہ رشتے کا پیغام عورت کو اشارۃً دیا جاسکتا ہے۔ (البقرہ 234-235) جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کو عدت کے دوران خوشبو لگانا، سنگھار کرنا، سرمہ اور خوشبو والا تیل بلاضرورت لگانا، مہندی لگانا اور زیادہ چمک دمک والے کپڑے پہننا درست نہیں ہے۔ اگر چاند کی پہلی تاریخ کو شوہر کا انتقال ہوا ہے تب تو یہ مہینے خواہ 30 کے ہوں یا 29 کے، چاند کے حساب سے پورے کیے جائیں گے اور 11 تاریخ کو عدت ختم ہوجائے گی۔ اگر پہلی تاریخ کے سوا کسی دوسری تاریخ میں شوہر کا انتقال ہوا ہے تو 130 دن عدت رہے گی۔ علما کی دوسری رائے یہ ہے کہ جس تاریخ میں انتقال ہوا ہے، اس تاریخ سے چار ماہ کے بعد 10 دن بڑھادیے جائیں۔ مثلاً 15 محرم الحرام کو انتقال ہوا ہے تو 26 جمادی الاول کو عدت ختم ہوجائے گی۔ اگر عورت شوہر کے انتقال یا طلاق کی صورت میں عدت نہ کرے یا عدت تو شروع کی مگر مکمل نہ کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کو توڑنے والی کہلائے گی جو بڑا گناہ ہے، لہذا اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرکے ایسی عورت کے لیے عدت کو مکمل کرنا ضروری ہے۔ عدت کے دوران عورت کے مکمل نان ونفقے کا ذمے دار شوہر ہی ہوگا۔