جماعت اسلامی نے مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف تحریک کا آغاز کردیا

327

لاہور:امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم اپنے جلسوں میں مہنگائی اور بے روزگاری کے حق میں دلیلیں دے رہے ہیں،حکومت کو دوسال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا اب اسے سابقہ حکمرانوں کو کوسنے کی بجائے خود کچھ کرنا ہوگا،موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں،مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف تحریک کا آغاز جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا سے کردیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں ضلعی امیر غلام رسول کی تقریب حلف بردار ی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا غریب آدمی کے مسائل کا حل اور ملک میں نظام مصطفیﷺ کا نفاذ ہے،وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ ہم ملک کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں،لیکن مافیا ہماری راہ میں رکاوٹ ہے جبکہ شوگر مافیا، لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا وزیر اعظم کے دائیں بائیں موجودہے،کابینہ میں موجود اکثریت پرمقدمات ہیں اورنیب اس پر خاموش ہے لیکن وہ دن دورنہیں جب یہ لوگ جیلوں کے اندر ہوں گے۔

انہوں نےکہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے جبکہ حکومت خود این آر او کی صورت میں موجود ہے، پی پی، مسلم لیگ اور پی ٹی آئی ایک ہی راستے کے مسافر اور ایک ہی در کے فقیر ہیں،ان کا کسی پالیسی پر اختلاف نہیں ہے،صرف اقتدار اور اپنے مفادات پر اختلاف ہے،ہم ملک میں قرآن و سنت کا نظام اور حقیقی جمہوریت کا قیام چاہتے ہیں،ہم اپنی آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ پاکستان چاہتے ہیں،پی ٹی آئی نے قومی اداروں کو متنازع بنایا۔عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیاہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کامیابی سے ہمکنا ر ہوگی،حکمرانوں کو عوامی مسائل حل کرنا پڑیں گے یا گھر جانا ہوگا،دوسال سے زیادہ عرصہ میں حکومت کا احتساب کا نعرہ پٹ چکا ہے،وزیراعظم روزانہ کہتے ہیں کہ میں کسی کو این آر او نہیں دونگا مگر احتساب کہا ں تک پہنچا یہ انہوں نے نہیں بتایا۔

انہوں نےکہا کہ وزیر اعظم نے اپنے ارد گرد ان لوگوں کو بٹھا رکھا ہے جو خود قابل احتساب ہیں،اگر وزیر اعظم واقعی احتساب کے حق میں ہوتے تو اپنی کابینہ میں ایسے لوگوں کو بیٹھنے کا موقع ہرگزنہ دیتے،چینی اور آٹا بحران پیدا کرنے والے کتنے لوگ پکڑے گئے وزیر اعظم کو بتانا چاہئے،ملک میں تمام جماعتیں وارثت پر چل رہی ہے ان جماعتوں میں کوئی جمہوریت نظر نہیں آرہی ہے اور ان کے خاندانوں کے علاوہ کوئی قابل اعتماد نظر نہیں آتا۔ جن جماعتوں کے اندر خود جمہوریت نہ ہو وہ کیسے ملک میں جمہوریت قائم کرسکتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نےکہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ دیں جس کے اندر خود جمہوریت نہ ہو۔