‘جب بیان حلفی جمع کروایا گیا تو فیصل واوڈا امریکی شہری تھے’

206

نااہلی کیس میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے وکیل کو آخری بار مہلت دے دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا نااہلی کیس کی سماعت ہوئی تو بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن جاکر کہتے ہیں کہ معاملہ ہائیکورٹ میں بھی چل رہا ہے جس پر عدالت نے سوال کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ ہمارے آرڈر کی روشنی میں جواب داخل کرادیا ہے؟ آپ نے الیکشن کمیشن کی آرڈر شیٹس درخواست کے ساتھ کیوں نہیں لگائیں؟کورٹ کے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک نہ کھیلیں۔

جسٹس عامر فاروق نے فیصل واوڈا کے وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ 11 جون 2018 کو بیان حلفی جمع کرایا کہ دہری شہریت نہیں رکھتے، شہریت ترک کرنے کی درخواست تو بعد میں 25 جون2018 کو منظور ہوئی اس کا مطلب ہے کہ جب بیان حلفی جمع کروایا گیا تو وہ امریکی شہری تھے، اس ڈاکیومنٹ کے مصدقہ ہونے پر اعتراض ہے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کراچی کے ریٹرننگ افسر کے آفس سے رکارڈ منگوا کرجمع کرایاہے، جس پر عدالت نے کہا کہ ہوسکتا ہےپٹیشن سےمنسلک ڈاکیومنٹس جعلی ہوں،اسی لیے الیکشن کمیشن سے رکارڈ منگوایا۔

وکیل فیصل واوڈا نے استدعا کی کہ مجھے اپنے موکل سے ہدایات لینے کے لیے کچھ مہلت دی جائے،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے 12 نومبر تک کی مہلت دے دی۔