پاکستان میں 70 فیصد نوجوان موبائل کا منفی استعمال کر رہے ہیں ، ریاست لا پروائی برت رہی ہے

210

 

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) پاکستان میں 70 فیصد نوجوان موبائل فون کومنفی کاموں میں استعمال کررہے ہیں جب کہ ریاست اس اہم معاملے میں لاپرواہی برت رہی ہے، موبائل فون کا بے تحاشا استعمال ذہنی بگاڑ کا باعث بن رہا ہے قانون فطرت سے ہٹ کر زندگی گزارنے سے ذہنی امراض لاحق ہوتے ہیں،میانہ روی اور اعتدال کے ساتھ زندگی بسر کرنے سے ذ ہنی صحت برقرار رہتی ہے،جسمانی ورزش،تفریحی سرگرمیاں اور اچھا ماحول دماغی صحت کے لیے ضروری ہیں، موبائل فون کے بکثرت استعمال کی بدولت بچوں کی نگہداشت سے لاپرواہی، گھر کے کاموں سے احتراز اور سونے جاگنے کے معمولات بھی بے ترتیب ہوکر رہ گئے ہیں۔موبائل فون کے ذریعے ہر وقت آن لائن رہنے کے خواہش مند نوجوانوں کو اکثر ان کے سماجی اور خاندانی رشتوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہتا ہے،ایسے افراد کی صحت بھی خراب رہنے لگتی ہے،ان کا رویہ جارحانہ ہو جاتا ہے اور ان میں کئی دیگر نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہونے لگتے ہیں۔ان خیالات کا
اظہار معروف مذہبی اسکالرمفتی محمد زبیر،جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسامہ شفیق،جامعہ کراچی شعبہ عمرانیات کے پروفیسر ڈاکٹر نبیل احمد زبیری،معروف طبی ماہر ڈاکٹر عظمت اللہ شریف نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ معروف مذہبی اسکالر مفتی محمد زبیر نے کہا کہ اگر موبائل فون کا استعمال درست سمت میں ہوگا تو یہ ہمارے لیے نفع کا باعث بنے گا اور اس کا غلط استعمال ہمارے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے،معاشر ے میں ہونے والے تمام جرائم جس میں چوری ڈکیتی،دہشت گردی،فرقہ واریت،گھروں میں لڑائی جھگڑے، تعلیمی اداروں میں دہشت گردی حتیٰ کہ معاشر ے میں ہونے والے تمام جرائم اور دہشت گردی کے پیچھے موبائل فون سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ٹکوں کے عوض موبائل فون کمپنیاں صارفین کے لیے نت نئے پیکیج کا اعلان کرتی ہیں اور یہی ان موبائل کمپنیوں کی چال ہوتی ہے کہ جس سے ان کے نیٹ ورک زیادہ سے زیادہ صارفین استعمال کریں، مگر ان پیکیجز سے ہماری نوجوان نسل پر انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں،ان پیکیجز کے حوالے سے معاشرے کے کسی بھی فرد سے معلومات حا صل کریں تو وہ یہی کہے گا کہ ان پیکیجز نے ہمارے نوجوان نسل کا بیڑا غرق کردیا ہے۔مفتی زبیرکا کہنا تھا کہ جن ممالک نے موبائل فون ایجاد کیا ہے ان ممالک نے اپنے ملک میں موبائل فون کے استعمال کو محدود کر رکھا ہے،چین نے فیس بک، یو ٹیوب سمیت دیگر شوشل میڈیا پر پابندی عائد کی ہوئی ہے، انہوں نے اپنی ایپس بنائی ہوئیں ہیں جس کے ذریعے لوگوں کو کمیو نیکشن اور میسیجز کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور ایک دوسرے کو کی جانے والی فون کال اور میسج کا ریگارڈ بھی مرتب کیا جاتا ہے، اس کام کے لیے انہوں نے ہمارے ملک کی طرح صر ف کسی خاص اداروں تک محدود نہیں کیا ہوا ہے بلکہ اس پر قانونی طور پر عملدرآمد کیا جا تا ہے،چین معاشی لحاظ سے ترقی بھی کررہا ہے اور اپنے نوجوانوں کو موبائل فون کے بے دریغ استعمال سے روکے رکھا ہے، بدقسمتی سے ہمارے مملک میں موبائل فون کمپنیاں منافع کمانے کی کوشش میں نو جوان نسل کو تباہ و برباد کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ریاست کا کردار بھی اس سلسلے میں بہت کمزور ہے۔جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسامہ شفیق نے کہا کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں اور موبائل فون بھی ایک ٹیکنالوجی ہے،اس چھوٹے سے آلے نے ہمارے خیالات، اظہار، معاملات، ذہن،قلب اور سکون سب کو بدل ڈالا ہے،آج صورت حال یہ ہے کہ اینڈرائڈانقلاب کے حالیہ دور میں ہمارے پڑھے لکھے باشعو ر اور سنجیدہ طبقہ نے بھی اپنی تہذیب وتمدن کو فراموش کردیا ہے،موبائل فون کے زیادہ استعمال نے انسان کی شرافت اور تمیز کو ختم کر دیا ہے،موبائل فون جس کی ایجاد نے عام آدمی کی زندگی کو تو آسان بنا دیا لیکن ضرورت کی اس چیز کے غیر ضروری استعمال نے آج ہمیں اخلاقی اور سماجی پستیوں میں دھکیل دیا ہے،موبائل فون کی وجہ سے اخلاقی اور سماجی مسائل میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے،اس کے غیر ضروری استعمال سے معاشرے میں فحاشی اور عریانی میں بھی غیرمعمولی حد تک اضافہ ہوا ہے،موبائل فون کی رسائی ہر فرد تک ہونے کی وجہ سے اس کا غلط استعمال بھی ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کی لت معاشرے میں بڑھتی جارہی ہے اور اس لت سے معاشرے کو بچانے کے لیے سب سے پہلے تو معاشرے کو اس کے مثبت اور منفی پہلو کے حوالے سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے، ہمیں بنیادی طور پر تعلیم کے ذریعے نوجوان نسل کواس حوالے سے آگاہی دینے پڑے گی۔موبائل فون کی وجہ سے تعلیمی زندگی تباہ ہورہی ہے، جس میں نوجوان، طالب علم، اساتذہ اور اسی طرح معاشرے کے دیگرطبقے کے افراد شامل ہیں، نوجوان نسل کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرنے کی ضرورت ہے اس کی اہمیت بتانا ضروری ہے۔انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ آپ کی تعلیم آپ کے لیے بہت اہم ہے دوسری اہم اور بنیادی بات موبائل فون کا صحت مند استعمال اسی صورت میں ہوسکے گا جب اس کو تفریح کے مواقعے سے زیادہ اسے تعلیم کے مواقعے کے طور پر ایک ٹول کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔جس طرح دنیا بھر میں مختلف ممالک نے خاص طور پر کورونا پر بہت ساری ایسی ایپ بنائی ہیں جس کے ذریعے وہ اپنی نوجوان نسل کو تعلیم دے رہے ہیںلیکن ہمارے ملک میں موبائل فون کا استعمال زیادہ تر تفریح کے لیے ہورہا ہے اور نوجوان نسل یا جو بھی اس پر بیٹھی ہے وہ 90 فیصد یہی کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ کسی بھی چیز کی لت نشہ ہوتی ہے اور نشے کا اختتام تباہی پر ہوتا ہے،خاص طور پر نوجوان نسل کو اس بات کی آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے آپ کی صحت خراب ہوسکتی ہے۔اس کے استعمال سے جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اسامہ شفیق نیکہا کہ موبائل فون کا مسلسل استعمال یوں تو ہر عمر کے افراد کے لیے خطرے کا باعث ہوتا ہے مگر بچوں پر اس کے انتہائی مضراثرات مرتب ہوتے ہیں،موبائل فون کے بلا ضرورت استعمال کی زیادتی کے سبب ذہنی دباؤ، نیند میں کمی، دل اور سردرد سمیت کئی دوسری بیماریاں سر اٹھا رہی ہیں،نوجوان نسل کو یہ بھی بات بتانے کی ضرورت ہے کہ جتنی آپ کی صحت مندانہ سرگرمیاں کم ہوتی چلی جائے گی اس کی وجہ سے آپ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے کمزور ہوتے جائیں گے اور قوت مدافعت بھی کم ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھاکہ موبائل فون کا بے جا استعمال کرنے والے نوجوان جو تعلیم سے منسلک ہوتے ہیں،موبائل فونز پر زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سے نہ صبح وقت پرا سکول اور کالج پہنچ پاتے ہیں، نہ کلاس میں دل جمعی سے پڑھ پاتے ہیں،منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لیے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری مشاغل میں مصروف رکھنا انتہائی ضروری ہے،ہمیں موبائل فون کے غلط استعمال اور ان کے نقصانات سے بچنے کے لیے کچھ ایسی تدبیریں اختیار کرنا ضروری ہیں جن کی بناء پر ہم اپنی ضرورت کی اس اہم ایجاد کو استعمال تو کریں مگر اس کے معاشرے پر پڑنے والے برے اثرات سے بھی بچیں لہٰذانوجوان نسل اس تناظر میں آگاہی اور تعلیم دی جائے کہ موبائل فون ایک تفریح کا اعلیٰ نہیں ہے اس کے ذریعے تعلیم، کاروبار اور علم بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، موبائل فون تفریح کا بھی ایک عنصر ہوسکتا ہے لیکن محض تفریح صرف اس کا مطلب نہیں ہونا چاہیے۔جامعہ کراچی شعبہ عمرانیات کے پروفیسرڈاکٹر نبیل احمد زبیری نے کہا کہ اہل مغرب ہمارے خاندانی سسٹم کو تباہ کرنے کے در پے ہے،مغرب اپنے کلچرکو ہم مسلمانوں پر مسلط کرنا چاہتا ہے اورموبائل فون کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور اس کے فروغ کے ذریعے مغرب پاکستانی معاشرے کے سماجی تعلقات پر اثرانداز ہورہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز کمرشل ہوگئی ہے، ہم ٹیکنالوجی سے اپنے آپ کو کاٹ نہیں سکتے ہیں لیکن سماجی تربیت کو فروغ دینا ہوگااور آسانی کے ساتھ ہر خاص و عام تک موبائل کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہوگی۔معروف طبی ماہر ڈاکٹر عظمت اللہ شریف نے کہا کہ موبائل فون کو دور حاضر کی اہم ترین ٹیکنالوجی کا شرف حاصل ہے جو کہ چند ہی دہائیوں میں انسانی زندگی پر راج کرنے لگی ہے، ہر کوئی موبائل فون کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتا ہے،بڑے بزنس مین سے لے کر چھوٹے مزدور تک سب کے پاس مختلف قیمتوں رنگوں کے اور کمپنیوں کے فرق کے ساتھ موبائل فون موجود ہے، موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال سے سماجی رابطے بہت کمزور ہوتے جارہے ہیں، لوگوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں، آج کل لوگ اپنے بزرگوں،بچوں،دوستوں اور گھر کے افراد کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے موبائل کے ساتھ وقت گزارنازیادہ پسند کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ زیادہ موبائل فون استعمال کرنے والے افراد نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں،ہر وقت آن لائن رہنا، راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر موبائل فون چیک کرنا اور اپنے اسٹیٹس پر لوگوں کے کمنٹس اورلائیکس کے بارے میں سوچنے والے اکثر افراد نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موبائل فون کا پھیل جانا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون کی لت بھی دیگر نشوں کی مانند ہے جو کہ اکثر اوقات بہت سے خاندانی مسائل اور ازدواجی اختلافات کا بنیادی سبب بن رہا ہے،جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال نہ صرف لوگوں کو ذہنی طور پر بلکہ جسمانی طور پر بھی مریض بنا دیتا ہے،وقفے وقفے سے فون کی طرف دیکھنے کے نتیجے میں انسان کے اندر سے تخلیقی صلاحیت کم ہو جاتی ہے،موبائل فون کے استعمال میں حدود کو برقرار رکھنا ضروری ہیں، ہر 20 منٹ کے بعد موبائل کی اسکرین کو دیکھنا تخلیقی صلاحیت اور مسرت کے احساس کو کم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ریسرچ مطابق 13 سے 19 سال تک کے جو لڑکے اور لڑکیاں نشے کی حد تک موبائل فون استعمال کرتے تھے انہیں ڈپریشن کے باعث سماجی اور خاندانی رشتوں کے معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بدمزاجی کا مظاہرہ کرنے اور دیگر نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہونے لگتے ہیں۔ ایسے افراد جو ہر وقت موبائل فون پر نظر رکھتے ہیں، یہ لوگ اپنی زندگی سے زیادہ دوسروں کی زندگی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کا یہ ہی رویہ نفسیاتی پن ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ آج کی نوجوان نسل لوگوں سے جا کر ملنے کے بجائے فون پر ہی رابطے کو ترجیح دیتی ہے,زیادہ فون استعمال کرنے والے افراد کو اکثر سر درد کی شکایت بھی رہتی ہے، دیکھا گیا ہے کہ اکثر نوجوان کھانے پینے کو چھوڑ صرف موبائل کے استعمال میں ہی لگے رہتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹَ بچے بھی اس عادت میں مبتلا ہورہے ہیں، اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اپنی جان چھڑانے اور بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے ان کے ہاتھوں میں موبائل فون تھما دیتے ہیں،موبائل فون کا زیادہ استعمال اور ڈپریشن نفسیاتی مسائل کا شکار تو کرتا ہے، عموماً موبائل فون زیادہ استعمال کرنے والے بینائی کی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں جب کہ موبائل کے ساتھ ہیڈ فون یا ائرفون کا استعمال ان کی سماعت کی حس بھی متاثر کرتا ہے۔ انہوںنے بتایا کہ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ نوجوان اپنے موبائل فونز کے بارے میں جذباتی ہوتے ہیں اور اسے دوسروں سے چھپاتے یا محفوظ رکھنے کے لیے مشکل پاس ورڈز استعمال کرتے ہیں،موبائل فون کوصحت پر منفی اثرات کے پہلو سے دیکھیں تو بہت سارے منفی اثرات سامنے آئے ہیں (انرجی) موبائل فون(ریڈیو فری یقونسی) پیدا کرتا ھے جو انسانی جسم کے اندر موجود (ٹیشوز)جذب کر سکتے ہیں اور نقصان کا باعث ہوتا ہے نیند کی کمی یاں نیند کا پورا نہ ھوناموبائل فون کے نقصانات کی فہرست کا حصہ ہے، مزید یہ کہ موبائل فون سے نکلنے والی (ایچ ای وی)روشنی آنکھوں کے (ریٹینا)کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ موبائل فون بیک وقت فون،ٹی وی ،ریڈیو، الارم ،کیلکیولیٹر،ٹیپ ریکارڈر،کیمرہ،ویڈیو کیمرہ اور نہ جانے کیا کیا کام انجام دیتا ہے اورانٹرنیٹ کے ذریعے دنیا جہاں کی معلومات ایک جنبش میں آپ کی نذر کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے، اسی طرح موبائل فون کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے،اس ضمن میں چند احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو آئندہ زندگی میں پریشانی کے مواقع انتہائی کم ہو سکتے ہیں۔آپ کو مسلسل 30 منٹ سے زیادہ موبائل فون پر نہیں دیکھنا چاہیے،فون کو اپنے جسم سے دور رکھیں،جب سگنل کمزور ہوں تو موبائل فون استعمال نہ کریں،مجبوری ہو تو کم سے کم استعمال کریں،رات سوتے وقت فون کو اپنے بستر کے قریب نہ رکھیں،موبائل فون پر وڈیو یا آڈیو اسٹریمنگ کم سے کم کریں یا بڑی بڑی فائلیں ڈائون لوڈ یا اَپ لوڈ نہ کریں،دائیں کان کے بجائے بائیں کان پر موبائل فون استعمال کریں،بچے فون کو آنکھوں کے بالکل نزدیک یا لیٹ کر استعمال نہ کریں،فون کی برائٹنیس (روشنی) کم رکھیں۔