موجودہ قوانین کی تحت کرپشن ختم ہوسکتی ہے نہ ، غیر قانونی تعمیرات ، ڈی جی ایس بی سی اے

319

 

کراچی ( رپورٹ محمد انور) سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی ( ایس بی سی اے) کے نظام کو قانون کے مطابق چلانا آسان بات نہیں ہے اس کے لیے بلڈنگز مافیا کے ساتھ بااثر عناصر کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ، تین ماہ کا مختصر عرصہ ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے گزارنا ” جوئے شیر لانے ” کے مترادف گزار رہا ہوں، دعا ہے کہ آخری تین دن بھی اللہ اپنی خصوصی کرم نوازی اور عزت کے ساتھ گزار دے تاکہ اپنی ملازمت کا بے داغ ریکارڈ قائم ہوسکے۔ ان تاثرات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے انجینئر آشکار داور نے ” جسارت ” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انجینئر آشکار 7 نومبر کو اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ وہ این ای ڈی یونیورسٹی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے کلاس فیلو اور یونیورسٹی فرینڈ بھی ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ ملازمت کے تین ماہ
رہ جانے پر میرٹ اور سینیارٹی کی بنیاد پر انہیں ڈائریکٹر جنرل کا عہدے پر متعین کیا گیا تھا۔ حالانکہ انہیں حکومت رواں سال فروری سے ڈی جی کا چارج سنبھالنے کی پیشکش کررہ تھی۔ انجینئر آشکار داور نے 6 دسمبر 1986 کو بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی بطور اسسٹنٹ کنٹرولر جوائن کیا تھا۔ انہوں نے مختلف اہم عہدوں پر ذمے داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ اپنی 34 سالہ ملازمت کے دوران انہیں کبھی بھی شوکاز نوٹس تک نہیں ملا۔ وہ ادارے کے ایماندارترین افسران میں شمار کیے جاتے ہیں۔ آشکار داور کا ذمے داری سے یہ کہنا تھا کہ ایس بی سی اے کو اس کے قیام کے مقاصد کے مطابق چلانے کے لیے بلڈنگز قوانین سخت کرنا ضروری ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت نہ تو غیرقانونی تعمیرات روکی جاسکتی ہے اور نہ ہی کرپشن کا سدباب ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ تعمیراتی شعبے سے منسلک بیشتر افراد بااثر مافیا کا روپ دھار چکے ہیں جو کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیدیا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی جی کی حیثیت سے گزارنے والے یہ دن 34 سالہ ملازمت کے سب سے زیادہ تکلیف دہ ایام ہیں۔ یہاں دھمکیاں ملنا معمول کی بات ہے۔ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے کا کہنا تھا کہ مافیا کے لوگ بااثر اس قدر ہیں کہ انہیں قانونی مدد بھی باآسانی مل جایا کرتی ہے۔ پیر کو ایس بی سی اے نے رینجرز اور و دیگر اداروں کی مدد سے 42 غیرقانونی شادی لانوں و بینکوئٹ کے خلاف کارروائی شروع کرنے والی تھی کہ اس قانونی کارروائی کو روکنے کیلیے لیے مقامی عدالت کا حکم امتناع آگیا۔ جس کی وجہ سے ایس بی سی اے اس بڑے آپریشن کو نہیں کر سکی۔ آشکار داور کا کہنا ہے کہ اس ادارے میں کسی ایماندار ڈی جی کو تعینات کرنے سے قبل مناسب سیکورٹی کا انتظام کرنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی دوسرا وہ سب برداشت نہ کرسکے جو مجھے کرنا پڑا۔